- فتوی نمبر: 32-122
- تاریخ: 26 جنوری 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > سجدہ تلاوت کا بیان
استفتاء
1۔اگر امام آیت سجدہ پڑھے اور غیر مصلی سن لے تو غیر مصلی کے لیے سجدے کا کیا حکم ہوگا؟
2۔اگر غیر مصلی آیت سجدہ پڑھے اور مصلی سن لے تو مصلی کے لیے سجدے کا کیا حکم ہوگا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ صورت میں غیر مصلی پر سجدہ تلاوت واجب ہو گا البتہ سجدہ تلاوت سننے کے بعد اگر یہ شخص اسی امام کی اقتداء کرکے امام کے ساتھ سجدہ تلاوت کرلے یا امام کے ساتھ سجدہ تلاوت تو نہ کر سکےلیکن امام نے جس رکعت میں سجدہ کی آیت تلاوت کی تھی اسی رکعت میں شامل ہو جائے تو ان دونوں صورتوں میں اس شخص کے ذمے الگ سے سجدہ تلاوت لازم نہ ہوگا ۔ ورنہ الگ سے سجدہ تلاوت کرنا ہوگا ۔
2۔ مذکورہ صورت میں مصلی پر سجدہ تلاوت واجب ہوگا، لیکن یہ مصلی اپنی نماز کے اندر سجدہ تلاوت نہیں کرے گا بلکہ نمازسے فارغ ہو کر الگ سے سجدہ تلاوت کرے گا۔
تبیین الحقائق (1/206) میں ہے:
(ولو سمعها المصلي من غيره سجد بعد الصلاة) لتحقق السبب، وهو السماع ولا يسجدها فيها؛ لأنها ليست بصلاتية؛ لأن سماعه هذه القراءة ليس من أفعال الصلاة
(ولو سمع من إمام فائتم به قبل أن يسجد سجد معه)؛ لأنه لو لم يسمعها سجدها معه تبعا له فهاهنا أولى قال – رحمه الله – (وبعده لا) أي لو اقتدى به بعد ما سجدها الإمام لا يسجدها في الصلاة ولا بعد الفراغ منها، وهذا إذا أدركه في تلك الركعة باتفاق الروايات؛ لأنه صار مدركا للسجدة بإدراك تلك الركعة فيصير مؤديا لها ولأنه لا يمكنه أن يسجدها في الصلاة لما فيه من مخالفة الإمام ولا بعد فراغه منها؛ لأنها صلاتية فلا تقضى خارجها فصار كمن أدرك الإمام في الركوع في الركعة الثالثة من الوتر حيث لا يقنت ……. وإن أدركه في الركعة الثانية اختلفوا فيه قيل لا يصير مؤديا للسجدة ولا تصير هي صلاتية فيؤديها خارج الصلاة
مجمع الانہر (1/233)میں ہے:
(ولو سمعها المصلي ممن ليس معه في الصلاة لا يسجد في الصلاة) لأنها ليست بصلاتية لأن سماعه هذه القراءة ليس من أفعال الصلاة. (ويسجد بعدها) لتحقق سببها وهو السماع لتلاوة صحيحة (ولو سمعها من إمام) قبل الاقتداء (فاقتدى به قبل أن يسجد) للتلاوة (سجد معه) لأنه لو لم يسمعها يسجد معه تبعا له فهاهنا أولى. (وإن اقتدى بعد ما سجد) الإمام (فإن) كان (في تلك الركعة) التي تليت فيها آية السجدة (لا يسجد أصلا) ولا في الصلاة ولا بعدها لأنه صار مدركا للسجدة بإدراك الركعة فيصير مؤديا لها: (وإن في غيرها) أي غير تلك الركعة التي تليت فيها آية السجدة (سجدها خارج الصلاة) لتحقق السبب وهو السماع لتلاوة صحيحة (كما لو لم يقتد) بالإمام بعدما سمعها فإنه يسجدها لتقرر السبب في حقه وعدم المانع
بہشتی زیور (1/239)میں ہے:
مسئلہ:اگر کوئی شخص کسی امام سے آیت سجدہ سنے اور اس کے بعد اس کی اقتداء کرے تو اس کو امام کے ساتھ سجدہ کرنا چاہیے اور اگر امام سجدہ کر چکا ہو تو اس میں دو صورتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ جس رکعت میں آیت سجدہ کی تلاوت امام نے کی ہو وہی رکعت اگر اس کو مل جائے تو اس کو سجدہ کی ضرورت نہیں ۔ اس رکعت کے مل جانے سے سمجھا جائے گا کہ وہ سجدہ بھی مل گیا۔ دوسرے یہ کہ وہ رکعت نہ ملے تو اس کو نماز پوری کرنے کے بعد خا رج نماز میں سجدہ کرنا واجب ہے۔
مسئلہ:نماز پڑھنے میں کسی اور سے سجدے کی آیت سنے تو نماز میں سجدہ نہ کرے بلکہ نماز کے بعد کرے۔ اگر نماز ہی میں کرے گا تو وہ سجدہ ادا نہ ہوگا پھر کرنا پڑے گا اور گناہ بھی ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved