• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مشترکہ چیز پر قبضہ کیے بغیر ہبہ کرنا

استفتاء

سوال : ایک رہائشی جگہ رقبہ ایک کنال اور ایک عدد پلاٹ دس مرلے ایک فٹ کل رقبہ ایک کنال 10 مرلے ایک فٹ میرے والدین نے اپنی ذاتی رقم سے خریدا ۔ دادا کا انتقال تقریباً دس سال پہلے ہی  ہوچکا تھا۔ میرے والد کے ترکہ میں میری دادی کو بھی حصہ ملنا تھا۔ جب ہم نے انتقال وراثت کرایا تو اُس وقت ہماری دادی بھی وفات پا چکی تھیں ۔ میرے کچھ قریبی رشتہ دار جن کو میری دادی کے ترکے میں سے وراثت ملنی تھی، انہوں نے پہلے مجھے زبانی اور بعد میں تحریری طور پر اپنے حصے بھی ہبہ  کر دیے اور اپنے حصے سے دستبردار ہو گئے۔ میں نے اُن کو رقم دینے کی پیش کش بھی کی لیکن اُنہوں نے کہا کہ یہ بات ساری دنیا کو بھی معلوم ہے کہ یہ تمام جگہ اور اس پر جو تعمیرات ہوئی ہیں وہ آپ اور آپ کے والدین کی ذاتی محنت اور کمائی کا نتیجہ ہیں ۔ از راہ اطمینان تمام لوگوں سے روبرو گواہان درج  دستبردار نامہ / معاہدہ نامہ مابین فریقین منسلکہ سوال ہذا  تحریراً بھی یہ بیان لے لیا ہے ۔ مزید راہنمائی درکار ہے کہ کیا تمام حقداران کے زبانی وتحریری دستبردار ہو جانے سے میرے لیے یہ ساری جگہ اور رہائش قابل تصرف ہے ؟

دستبردار  نامہ/ معاہدہ نامہ ما بین فریقین

۱۔زید  ولد خالد ۲۔ مسماۃ  فاطمہ  بیوہ ۳۔  بکر پسر ۴۔  عائشہ  ۵۔  فاطمہ  ۶۔خدیجہ  ۷۔ کلثوم دختران  ضیاء  متوفیٰ سکنائے *** تحصیل وضلع *** [فریقین اول]

۱۔ مسماۃ  زینب بیوه ۲۔  واجد  ۳ –  عمر  ۴-  طارق  ۵۔  عمیر  پسر ان  طلحہ  متوفی سکنائے *** تحصیل و ضلع ***              [ فریقین دوم ]

ہم فریقین اول تحریر ہذا کی رو سے اقرار کرتے ہیں کہ ہم حصہ از حویلی جس کا حدودار بعہ مشرق مکان  رضوان  ولد  حسیب  مغرب گلی عام شمال مکان ***، *** ، ***  ولد  امجد جنوب مکان *** ولد ***  کھیوٹ نمبر 656 خسرہ نمبر 365 رقبہ 1کنال موضع ***و 1 عدد پلاٹ جس کا حدود اربعہ مشرق مکان  نصرت ولد  صہیب  مغرب مکان  فیضان  ولد  مشرف  شمالاً جنو با گلی عام کھیوٹ نمبر 40,41,42 رقبہ 10 مرلے 1 فٹ موضع***کل رقبہ 1 کنال 10 مرلے 1 فٹ کم و پیش میں سے تقریبا 5 مرلے حصہ جو کہ مسماۃ کبریٰ متوفیہ زوجہ  خالد  متوفی کا بنتا ہے اب جبکہ مسماۃ  کبریٰ  مذکور یہ وفات پا چکی ہے لہذ ابعد از وفات ہم فریقین اول حصہ متوفیہ مذکور یہ بطور وارثان و مالکان بنتے ہیں ۔ لہذ ابوجہ قریبی رشتہ داری ہم فریقین اول اپنے حصے سے جو کہ تقریباً 5 مرلے بنتا ہے سے رو بروہان گواہان ذیل فی سبیل اللہ بحق فریقین دوم دستبردار ہوتے ہیں لہذ آج کے بعد ہم فریقین اول کا ہر دواراضی مذکورہ بالا سے کسی بھی قسم کوئی تعلق واسطہ نہ ہے فریقین دوم ہر دو اراضی مذکورہ بالا کو جس طرح چاہیں استعمال کرسکتے ہیں، فروخت کرسکتے ہیں ، رہن بیع کرسکتے ہیں اور تبادلہ کرسکتے ہیں اس ضمن میں ہم فریقین اول کو کسی بھی قسم کا کوئی اعتراض نہ ہوگا آج کے بعد فریقین دوم ہی ہر دو اراضی مذکورہ بالا کے کلی مالکان وقابضان ہوں گے۔

نوٹ: ہر دو اراضی مذکورہ بالا کا قبضہ پہلے ہی فریقین دوم کے  زیرِ تصرف وزیر ِ قبضہ ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

وراثتی چیز اگر مکان وجائیداد کی صورت میں ہو تو اس میں بعض ورثاء کا دیگر  بعض ورثاء کے حق میں دستبردار ہونا درست نہیں لہٰذا مذکورہ صورت میں دستبرداری کی وجہ سے آپ اپنی دادی  کے دیگر ورثاء کے حصوں کے مالک نہ ہوں گے تاہم اگر  انہوں نے زبانی طور پر ہدیہ (گفٹ) کے الفاظ استعمال کیے ہوں مثلاً یوں کہا ہو کہ  ہم نے اپنا حصہ تمہیں دیدیا تو اس کہنے سے ہدیہ (گفٹ) درست ہوگا اور آپ اپنی دادی کے دیگر ورثاء کے حصوں کے مالک شمار ہوں گے بشرطیکہ جنہوں نے  اپنا حصہ ہدیہ کیا تھا وہ ہدیہ کرنے کے وقت سب عاقل، بالغ تھے اور انہوں نے اپنی دلی رضامندی سے وہ ہدیہ کیا ہو۔

شامی  (9/311) میں ہے:

ولا يصح الإبراء عن العين.

المحیط البرہانی (12/42) میں ہے:

فالإبراء عن العين لا يصح.

الدر المختار (8/568) میں ہے:

(‌وشرائط ‌صحتها في الواهب: العقل والبلوغ والملك)

الدر المختار (8/576) میں ہے:

(‌لا) ‌تتم ‌بالقبض (‌فيما يقسم ولو) وهبه (لشريكه) أو لاجنبي لعدم تصور القبض الكامل كما في عامة الكتب فكان هو المذهب.وفي الصيرفية عن العتابي: وقيل يجوز لشريكه وهو المختار

امداد الاحکام (4/38)  میں ہے:

اصل مذہب ہبۃ المشاع المنقسم میں  (یعنی ایسی چیز کا ہبہ جو قابل تقسیم ہے اور تقسیم کرکے ہبہ نہیں کی گئی) یہی ہے کہ یہ ہبہ فاسد ہے مگر ایک روایت ہے کہ فساد ہبہ اس وقت ہے جبکہ اجنبی کو ہبہ کیا جائے اور شریک جائیداد کو ہبہ بدون تقسیم کے بھی صحیح ہے اور بعض نے اس کو مختار بھی کہاہے۔

قال في الدر: وفى الصيرفية عن العتابي، وقيل يجوز لشريكه وهو المختار

مگر یہ قول ظاہر مذہب کے خلاف ہے اس لیے بدون مجبوری کے اس پر عمل درست نہیں اور غالباً آجکل تقسیم جائیداد میں جس قدر خرچ اور پریشانی ہوتی ہے وہ مجبوری اور دشواری کی مد میں داخل ہے اس لیے اس صورت میں اگر اس روایت پر عمل کرکے شریک کے لیے ہبہ بدون تقسیم کے صحیح کہا جائے تو گنجائش ہے۔

مسائل بہشتی زیور (2/333) میں ہے:

اور اگر وہ چیز (موہوبہ) ایسی ہے کہ تقسیم کرنے کے بعد بھی کام کی ہے جیسے زمین، گھر، کپڑے کا تھان، جلانے کی لکڑی، اناج غلہ، دودھ دہی وغیرہ تو بغیر تقسیم کیے ان کا دینا صحیح نہیں ہے جو اگرچہ اس شے میں اپنے شریک ہی کو دیا ہو ایک اور قول کے مطابق اپنے شریک کو ایسا ہبہ کرنا جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved