- فتوی نمبر: 32-128
- تاریخ: 27 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسٔلہ کے بارے میں کہ محترمہ زینب اور زید کے نکاح میں باہم رضامندی سے حق مہر لکھا گیا، تمام زندگی خوشی رضامندی سے گزری، نہ حق مہر معاف کیا گیا، نہ اس سے انکار ہوا، جبکہ زوجہ زینب حق مہر ادا ہونے سے پہلے فوت ہو گئیں، اور ورثاء میں ان کا شوہر، اورایک اکلوتی بیٹی ہےتو حق مہرساقط یا ختم ہوجاتا ہے؟ یا بطور ترکہ شرعی ورثاء میں شریعت کے مطابق تقسیم ہونا چاہیے؟
الجواب: اگر حق مہر نہ ادا کیا گیا ہو اور نہ معاف کیا گیا ہو تو محض بیوی کے مرنے سے وہ ساقط یا ختم نہیں ہو جاتا بلکہ وہ ترکے میں شمار ہوگا اور ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگا۔ [غیر رسمی، مجیب: مفتی رفیق صاحب]
سوال بعد از جواب: سائل کو رسمی فتویٰ چاہیے۔
وضاحت مطلوب ہے:1۔رسمی فتوی کیوں چاہیے؟2۔بیوی ( زینب مرحومہ )کے ورثاء میں کون کون حیات تھے جب انتقال ہوا ؟خاص طور پر والدین حیات تھے یا نہیں؟3۔شوہر( زید مرحوم) کے ورثاء میں کون کون تھا َ؟اس کے والدین ،بہن بھائی حیات تھے یا نہیں؟اور کتنے تھے ؟4۔ زینب کی والدہ کی وفات کے وقت ان کے ورثاء کون کون تھے بعنی خاوند کے علاوہ بیٹے ،بیٹی ،بھائی ،بہنیں ،بھتیجے وغیرہ؟
جواب ِ وضاحت:1۔مرحومہ زینب کے حق مہر کی ادائیگی کیے بغیر زید صاحب بھی فوت ہو چکے ہیں۔ والد مرحوم، یعنی زید صاحب نے زندگی میں اکلوتی بیٹی کو انکی والدہ مرحومہ یعنی زینب کا حق مہر، بطور مرحومہ کا ترکہ ، تقسیم نہیں کیا۔اب یہ یتیم، یسیر بیٹی سخت ترین احتیاج کے باوجود، بھائی نہ ہونے کی وجہ سے خود کو ازروئے شریعت اکیلے وارث نہیں سمجھتی، تو اپنے والدین کا مال شریعت کے مطابق سب شرعی ورثاء میں خود ہی تسلیم کر کے تقسیم ہونے کو ترجیح دیتی ہے۔
بے شک مذکورہ مال پہلے سے بھی بہت کم ہے، اور اپنے بےگھر بےچھت اور احتیاج پر بھی اللہ گواہ ہے۔ اور مدقابل ورثاء بھی کہیں زیادہ امیر اورصاحب جائیداد بھی ہیں اور انکو اپنے شرعی حق کا علم بھی نہیں تھا۔ بلکہ کچھ گناہ کو نقصان نہ سمجھنے والے لوگوں نے ان کے حق کی مخالفت کرکے ایذا ء رسانی بھی کی کہ ورثاء کو تو شعور و خبر بھی نہیں، کیوں خوا مخواہ اطلاع کر کے روایتی معاشرے سے ہٹ کر اپنے لئے نئےمسائل بناتے ہو۔سوال اور توجیہ یہ ہے کہ آیا یہ غیر تقسیم شدہ مال اس وقت کُل مِل کر باقی ورثاء میں تقسیم ہوگا؟یا پھر صورت نمبر دوئم یہ کہ مرحومہ زینب کے حق مہر کو واجب سمجھ کر یتیم، یسیر بیٹی اور مرحوم والد زید صاحب کے مستحق ہونے کو پہلے ترجیح دی جائے گی؟اور پھر جو حصہ اکیلے زید صاحب کا ترکہ شمار ہوگا، صرف اس ہی میں باقی ورثاء کو شریعت کے مطابق حصے ملیں گے؟
2۔ زینب مرحومہ کے والدین حیات تھے اور والد تاحال حیات ہیں جب کہ والدہ مرحومہ کے بعد فوت ہوئی ہیں۔اور ان کے علاوہ ورثاء میں سےمرحومہ کے شوہر، 2 بھائی اور 9 بہنیں حیات ہیں ۔
3۔شوہر( زید مرحوم) کے والدین پہلے ہی فوت ہو چکے تھے ۔اس کے علاوہ باقی ورثاء میں سے بیٹی،2 بھائی اور 4 بہنیں حیات ہیں ۔
4۔رافعہ کی والدہ ( خدیجہ مرحومہ) کے ورثاء میں تاحال خاوند ،2 بیٹے ،9 بیٹیاں حیات ہیں اور خدیجہ کے والدین پہلے ہی فوت ہو چکے تھے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحومہ کے حق مہر کے2704 حصے کیے جائیں گے جن میں سے مرحومہ کی بیٹی کو 1560حصے (57.69%) اور مرحومہ کے باپ کو 520 حصے (19.23%) ملیں گے اور زید مرحوم کے ہر بھائی کو 78-78حصے (2.88%)اور ہر بہن کو 39-39 حصے (1.44%)ملیں گے ۔مرحومہ خدیجہ کے ہر بیٹے کو 48-48 حصے (1.77%)اور ہر بیٹی کو 24-24 حصے (0.88%)ملیں گے ۔
نوٹ:یہ حق مہر کے حصے ہیں جو پہلے ترکے میں شمار نہیں کیے گئے تھے ۔اگر باقی ترکہ کے لیے تقسیم کرنی ہو تو اس کی تقسیم بھی مذکورہ حصوں کے اعتبار سے ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved