• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

درس ِ حدیث وقرآن کے لیے مسجد کے باہر والےلاؤڈ اسپیکر کا استعمال

استفتاء

امام مسجد اور بعض اہل محلہ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ لاؤڈ سپیکر پر درس حدیث و درس قرآن کیا جائے تاکہ گھروں میں عورتیں بھی سن سکیں۔ بعض اہل محلہ لاؤڈ سپیکر کے اس طرح استعمال کے مخالف ہیں بلکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ جتنے لوگ مسجد میں سننے کے لیے  آئے ہوں ان کو لاؤڈ سپیکر سے سنایا جائے۔ پورے محلہ کو بلکہ پورے گاؤں کو نہ سنایا جائے کیونکہ بعض لوگ مختلف حالات میں ہوتے ہیں ۔ بیمار ہوتے ہیں، بچے ہوتے ہیں، کچھ لوگ گپ شپ میں اور لہو و لعب میں ہوتے ہیں۔اس صورت میں کیا کیا جائے؟

تحریری فتوی درکار ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ہمارے خیال میں جو حضرات مخالف ہیں ان کا مؤقف درست ہے کیونکہ ایسا کرنے  سےبعض لوگوں کے آرام میں اور  انفرادی  اعمال میں خلل کا  اندیشہ ہے جوکہ درست نہیں۔

فتاویٰ  عثمانی (1/189) میں ہے:

سوال: چند سال سے سہلٹ کے اطراف میں شبینہ کے نام سے ایک نئی قسم کی مجلسیں قائم ہوتی ہیں جو عموماً مغرب سے طلوع آفتاب کے دو ایک گھنٹہ بعد تک باقی رہتی ہیں ….. حاضرین کی تعداد اتنی کم ہوتی ہے کہ وہاں مائیکروفون کی ضرورت ہرگز نہیں ہوتی لیکن شاید ہی کوئی ایسی مجلس مائیکروفون سے خالی رہتی ہے، حاضرین مجلس اکثر سوتے رہتے ہیں، کوئی خراٹے لیتا ہے، کوئی اُونگھتا ہے، کوئی باہر بیڑی سگریٹ پی رہا ہے، اس کی بد بو مجلس تک آتی رہتی ہے گھر کے لوگوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہمہ تن متوجہ ہو کر تلاوت کلام پاک سنتے ہیں، اکثر لوگ اپنے خانگی امور میں مشغول رہتے ہیں…………… ایسی مجلس  کے مائیکروفون میں کلام پاک کی تلاوت جائز ہوگی یا نہیں؟

جواب: اگر اس کی آواز ان لوگوں تک پہنچتی ہے جو مجلس میں حاضر نہیں اور ان کی نیند وغیرہ میں خلل اندازی ہوتی ہے یا اس سے تلاوت کلام پاک کی بے حرمتی کا امکان ہے تو مائیکروفون میں تلاوت کرنادرست نہیں۔

فتاویٰ  عثمانی (1/555) میں ہے:

سوال: کیا جہری نمازیں لاؤڈ اسپیکر پر پڑھنا  زیادہ ثواب ہے جبکہ آواز دو ر دور تک جاتی ہے؟

جواب:جب تک ضرورت نہ ہو نماز بغیر لاؤڈ اسپیکر کے پڑھنی چاہیے،لاؤڈ اسپیکر پر نماز کا جواز تو ضرورت کے حالات میں ہے،بلا وجہ لاؤڈ اسپیکر کااستعمال پسندیدہ نہیں،بالخصوص جبکہ اس سے دور دور آواز جاتی ہو جہاں لوگ نیند یا دوسرے کاموں میں مشغول ہوں  تو اس کے استعمال کی کراہت اور بڑھ جاتی ہے۔

فتاویٰ  عثمانی (1/556) میں ہے:

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ آلہ مکبر الصوت ( لاؤڈ اسپیکر ) تراویح کے لئے اس قدر تیز استعمال ہوتا ہے کہ پورے محلے میں اس کی آواز پہنچ جاتی ہے، جس میں حسب ذیل قباحتیں معلوم ہوتی ہیں:

1۔ محلے کی خواتین کو نماز ادا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

2۔محلے کے مریض اور ضعفاء جن کو علاجا جلد سونا ضروری ہو نہیں سو سکتے ۔

3۔تلاوت کو ادب سے سماعت کا اہتمام محلہ والوں سے نہیں ہوتا۔

4۔سجدہ تلاوت کا اگر وجوب لاؤڈ اسپیکر سے ہوتا ہے تو اہل محلہ کے ضعفاء اور خواتین پرسجدہ تلاوت واجب کرنا اور ان کی طرف سے اس کی ادائیگی کے اہتمام کا فقدان یا مشکل ہونا۔

اس سلسلے میں شریعت کے احکام سے از راہ کرم مطلع فرمائیے ، بینوا توجروا۔

 جواب: – تراویح میں لاؤڈ اسپیکر اس قدر اونچی آواز سے استعمال کرنا کہ جس سے سوال میں مذکورہ قباحتیں لازم آتی ہوں ، جائز نہیں۔ چنانچہ فقہائے کرام نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ ذکر اللہ اتنی آواز سے کرنا کہ جس سے کسی کی عبادت یا نیند میں خلل آتا ہو صحیح  نہیں………….

قال الشامى:وفي حاشية الحموي عن الإمام الشعراني: أجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها إلا أن ‌يشوش ‌جهرهم على نائم أو مصل أو قارئ»

آپ کے مسائل اور ان کا حل(3/262) میں ہے:

سوال: ہر بڑی رات کو(شب برات وغیرہ) ہمارےمحلے کی مسجد سے رات دیر تک لاؤڈ اسپیکر پر تقاریر اور نعتوں وغیرہ کا پروگرام ہوتا ہے، جس سے محلے والے اپنے گھروں میں ٹھیک طور سے عبادت نہیں کر سکتے نہ نیند کر سکتےہیں، براہ کرم بتائیں کہ مسجد والوں کا یہ فعل صحیح ہے؟

جواب : مسجد میں تقریر اور درس خواہ بڑی راتوں میں ہو یا چھوٹی راتوں میں اس کے دوران صرف اندر کے اسپیکر استعمال کرنے چاہئیں، تا کہ آواز مسجد تک محدود رہے اور اہل محلہ کو جن میں بیمار بھی ہوتے ہیں، تشویش نہ ہو، سنانے کا نفع اسی وقت ہوتا ہے جبکہ سننے والے شوق اور رغبت سے سنیں ، اس لئے جن لوگوں کو سنانا مقصود ہو، ان کو ترغیب دے کر مسجد میں لایا جائے۔

آپ کے مسائل اور ان کا حل(3/398) میں ہے:

سوال : نہایت تیز بلند آواز لاؤڈاسپیکر سے تراویح ، درس اور نمازیں جو تمام محلے کے سکون،نیند،خواتین کی نمازیں،ضعفاء کی راحت کو برباد کر دے، جائز ہے یا گناہ ہے؟ صرف حدود مسجد تک لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کا شرعا جواز معلوم ہوتا ہے۔

 جواب … اذان کے لئے اُوپر کے اسپیکر کھولنے کا تو مضائقہ نہیں کہ باہر کے لوگوں تک اذان کی آواز پہنچانا مطلوب ہے، لیکن نماز تراویح ، درس وغیرہ کے لئے اگر لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی ضرورت ہو تو اس کی آواز مسجد کے مقتدیوں تک محدود رہنی چاہیے،باہر نہیں جانی چاہیے،تراویح کے لیے اور درس وغیرہ کے لئے باہر کے اسپیکر کھولنا عقلاوشرعا نہایت قبیح ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved