• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

شراب کے ایک واقعہ میں حضرت عمرؓ کے حد نہ لگانے کی وجہ

استفتاء

حضرت سدی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ باہر تشریف لے گئے ان کے ساتھ حضرت عبداللہ بن  مسعود رضی اللہ عنہ بھی تھے انہیں ایک جگہ آگ کی روشنی نظرآئی یہ اس روشنی کی طرف چل  پڑے یہاں تک کہ ایک گھر میں داخل ہو گئے یہ آدھی رات کا وقت تھا اندر جا کر دیکھا کہ گھر میں چراغ جل رہا ہے وہاں ایک بوڑھے میاں بیٹھے ہیں اور ان کے سامنے کوئی پینے کی چیز رکھی ہوئی  ہے اور ایک باندی انہیں گانا سنارہی ہے ان بوڑھے میاں کو اس وقت کا پتہ چلا جب حضرت عمر اس کے پاس پہنچ گئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے  فرمایا آج رات جیسا برا منظر میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ ایک بوڑھا اپنی موت کا انتظار کر رہا ہے اور وہ یہ برا کام کر رہا ہے اس بوڑھے نے سر اٹھا کر کہا آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن اے امیر المومنین آپ نے جو کیا وہ اس سے بھی زیادہ برا ہے آپ نے گھر میں گھس کر تجسس  کیا حالانکہ اللہ تعالی نے تجسس کرنے سے منع فرمایا ہے اور آپ اجازت کے بغیر گھر کے اندر آگئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ دانت سے کپڑا پکڑ کر روتے ہوئے اس گھر سے باہر نکلے اور فرمایا اگر عمر کو اس کے رب نے معاف نہ فرمایا تو اسے اس کی ماں گم کرے۔ یہ بوڑھا یہ سمجھتا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں سے چھپ کر یہ کام کرتا ہے اب تو عمر نے اسے یہ کام کرتے ہوئے دیکھ لیا لہذا اب وہ بلا جھجک یہ کام کرتارہے گا اس بوڑھے نے ایک عرصہ تک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس میں آنا چھوڑ دیا ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے وہ بوڑھا ذرا چھپتا ہوا آیا اور لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے دیکھ لیا تو فرمایا اس بوڑھے کو میرے پاس لاؤ ایک آدمی نے جا کر اس بوڑھے کو کہا جاؤ امیر المومنین تمہیں بلا رہے ہیں وہ بوڑھا کھڑا ہوا اس کا خیال تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس رات جو بر امنظر دیکھا تھا آج اس کی سزا دیں گے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا میرے قریب آجاؤ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے اپنے قریب کرتے رہے یہاں تک کہ اسے اپنے پہلو میں بٹھا لیا پھر فرمایا ذرا اپنا کان میرے نزدیک کرو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے کان کے ساتھ منہ لگا کر کہا غور سے سنو اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق دے کر اور رسول بنا کر بھیجا ہے میں نے اس رات تمہیں جو کچھ کرتے ہوئے دیکھا ہے وہ میں نے کسی کو نہیں بتایا حتیٰ کہ ابن مسعودؓ اس رات میرے ساتھ تھے لیکن میں نے ان کو بھی نہیں بتایا اس بوڑھے نے کہا اے امیر المؤمنین! ذرا اپنا کان قریب کریں۔

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ا س واقعہ  کے بارے میں  جو حیاۃ الصحابہ، جلد نمبر2 صفحہ نمبر 536 پرلکھا ہے کسی نے اس کے بارے میں سوال پوچھا تھا کہ حضرت عمرؓ نے اس شخص پر حد کیوں نہیں لگائی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

شراب پینے پر حد لگانے کی کئی شرطیں ہیں ان  میں سے اگر کوئی ایک شرط بھی مفقود ہو تو حد نہیں لگائی جاسکتی مثلاً ایک شرط یہ ہے کہ آدمی شراب پینے کا خود اقرار کرے یا دو معتبر مرد شراب پینے کی گواہی دیں۔ اور ایک شرط یہ ہے کہ اقرار یا گواہی کے وقت شراب کی بُو بھی پینے والے کے منہ سے آرہی ہو اور ایک شرط یہ  ہے کہ شراب کی ایک خاص قسم کے علاوہ باقی اقسام  (اشربہ اربعہ وغیرہ)  میں اقرار یا گواہی کے وقت نشہ کا باقی رہنا بھی ضروری ہے وغیرہ وغیرہ ۔

اب مذکورہ واقعہ میں صرف اتنی بات کا ذکر ہے کہ  “ان کے سامنے کوئی پینے کی چیز رکھی ہوئی ہے” اب یہ پینے کی چیز شراب کی کونسی قسم تھی؟ اور اس بوڑھے  میاں نے شراب پی لی تھی  یا ابھی پینی تھی؟ اگر پی لی تھی تو اس سے نشہ آیا تھا یا نہیں؟ اگر آیا تھا تو وہ حضرت عمرؓ کے آنے تک باقی بھی تھا یا نہیں؟ نیز شراب کی بُو بھی اس وقت تک باقی تھی یا نہیں؟ ان میں سے کسی بات کی تصریح اس واقعہ میں نہیں ہے لہٰذا عین ممکن ہے کہ حد لگنے  کی مذکورہ شرائط میں سے کل یا بعض مفقود ہوں اس لیے حضرت عمرؓ نے اس شخص پر حد نہ لگائی ہو۔

شامی (6/ 60) میں ہے:

قوله بلا قيد سكر) تصريح بما أفاده قوله ولو قطرة إشارة إلى أن هذا هو المقصود من المبالغة للتفرقة بين الخمر وغيرها من باقي الأشربة وإلا فلا يحد بالقطرة الواحدة؛ لأن الشرط قيام الرائحة.ومن شرب قطرة خمر لا يوجد منه رائحتها عادة، نعم يمكن الحد به على قول محمد الآتي من أنه لو أقر بالشرب لا يشترط قيام الرائحة، بخلاف ما إذا ثبت ذلك بالشهادة، هذا ما ظهر لي، ولم أر من تعرض له فتأمل

«(قوله أو سكر من نبيذ ما) أي من أي ‌شراب ‌كان ‌غير خمر إذا شربه لا يحد به إلا إذا سكر به، وعبر بما المفيدة للتعميم إشارة إلى خلاف الزيلعي حيث خصه بالأنبذة الأربعة المحرمة بناء على قولهما. وعند محمد ما أسكر كثيره فقليله حرام، وهو نجس أيضا قالوا: وبقول محمد نأخذ»

الدر المختار (6/64) میں ہے:

(‌فلو ‌أقر ‌سكران أو شهدوا بعد زوال ريحها) لا لبعد المسافة (أو أقر كذلك أو رجع عن إقراره لا) يحد

ہندیہ (1/277) میں ہے:

‌يثبت ‌الشرب ‌بشهادة شاهدين وبالإقرار مرة واحدة ولا تقبل فيه شهادة النساء مع الرجال كذا في الهداية

الدر المختار مع رد المحتار (6/63) میں ہے:

(إذا أخذ) الشارب (وريح ما شرب) من خمر أو نبيذ.فتح. فمن قصر الرائحة على الخمر فقد قصر (موجودة) خبر الريح وهو مؤنث سماعي.غاية (إلا أن تنقطع) الرائحة (لبعد المسافة) وحينئذ فلا بد أن يشهدا بالشرب طائعا ويقولا أخذناه وريحها موجودة (‌ولا ‌يثبت) ‌الشرب (‌بها) بالرائحة (ولا بتقايئها، بل بشهادة رجلين يسألهما الامام عن ماهيتها وكيف شرب)

(قوله رجلين) ‌احتراز ‌عن ‌رجل ‌وامرأتين؛ لأن الحدود لا تثبت بشهادة النساء للشبهة كما في البحر لاحتمال الاكراه (ومتى شرب) لاحتمال التقادم ( وأين شرب) لاحتمال شربه فى دار الحرب فاذا بينوا ذلك حبسه حتى يسأل عن عدالتهم ولا يقضى بظاهرها فى حد ما… (او) يثبت (باقراره مرة صاحيا ثمانين سوطا) متعلق بيحد (للحر ونصفها للعبد وفرق على بدنه كحد الزنا) كمامر.

ہدایہ (2/ 355) میں ہے:

«” ويثبت الشرب بشهادة شاهدين و ” يثبت ” بالإقرار مرة واحدة ” وعن أبي يوسف رحمه الله أنه يشترط الإقرار مرتين ‌وهو ‌نظير ‌الاختلاف في السرقة وسنبينها هناك إن شاء الله “ولا تقبل فيه شهادة النساء مع الرجال” لأن فيها شبهة البدلية وتهمة الضلال والنسيان»

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved