- فتوی نمبر: 32-149
- تاریخ: 02 فروری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
مرحوم زید جن کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے، زید مرحوم نے اپنی ذاتی میراث خود اپنی مدت حیات میں اپنی خاندان میں تقسیم کی تھی ۔ موجودہ ترکہ کی رقم مسقط حکومت کی طرف سے مل رہی ہے ۔
مرحوم کے کل تین بیٹے ( خالد مرحوم ) (بکر مرحوم ) ( عمر مرحوم )۔ان تینوں بیٹوں میں سے عمر ان کے وقت حیات میں انتقال کر گئے ۔ اور باقی دو بیٹے خالد بکر ان کے انتقال کی بعد وہ بھی انتقال کر گئے ۔ اور ایک بیٹی جو ابھی تک حیات ہے ۔ دو بیویوں میں سے ایک بیوی ان کی وقت حیات میں انتقال کر گئی ۔ اور ایک بیوی اب تک حیات ہے۔
مسقط حکومت کی طرف سے ترکہ رقم کے دو حصے زید مرحوم اور ان کے بیٹے عمر مرحوم کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ ایک حصہ جو عمر مرحوم کے لیے مختص کیا گیا تھا وہ ان کے ورثاء کے حوالے کیا گیا ہے ۔دوسرا حصہ ترکہ کی رقم جو کہ زید مرحوم کے لیے مختص ہے ۔ شرعی طور پر اس کی تقسیم کی کیا حیثیت ہے کہ :
1۔ان کے بیٹے عمر مرحوم جن کو ترکہ حصہ رقم مل گیا ہے شرعی حوالے سے اسکے ورثا کو اس ترکہ کی رقم میں حصہ ہے کہ نہیں ؟
2۔ اگر ہے تو ان کا کتنا حصہ ہے ؟
3۔باقی دو بیٹے خالد ، بکر مرحوم کے خاندان اور ایک بیٹی اور ایک بیوی جو اب تک حیات ہے ان سب پر کیسے تقسیم ہوگی ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
2،1۔زید مرحوم کے حصے میں ان کے بیٹے عمر کے ورثاء کا شرعاً کوئی حصہ نہیں کیونکہ عمر اپنے والد کی زندگی میں ہی فوت ہوگئے تھے اور جو وارث اپنے مورث کی زندگی میں فوت ہوجائے اس کا اپنے مورث کی وراثت میں حصہ نہیں ہوتا بلکہ صرف ان ورثاء کا حصہ ہوتا ہے جو مورث کی وفات کے وقت زندہ ہوں اور عمر کے ورثاء کا حصہ اس وجہ سے نہیں کہ زید مرحوم کی وفات کے وقت ان سے زیادہ قریبی ورثاء موجود تھے اور قریبی وارث کے ہوتے ہوئے دور کا وارث شرعاً محروم ہوتا ہے۔
3۔اگر زید کی وفات کے وقت ان کے والدین حیات نہیں تھے تو مرحوم کی جائیداد کے کل 40 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 5 حصے(12.5) فیصد مرحوم کی بیوہ کو، 7 حصے (17.5 فیصد) مرحوم کی بیٹی کو اور 14 حصے (35 فیصد) مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو ملیں گے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
8×5=40
| بیوی | بیٹی | 2بیٹے |
| ثمن | عصبہ | |
| 1 | 7 | |
| 1×5 | 7×5 | |
| 5 | 35 | |
| 5 | 7 | 14+14 |
نوٹ: تقسیم کی یہ صورت تب ہے جب یہ رقم میت کی موت سے پہلے واجب الاداء ہوچکی ہو، اگر یہ رقم میت کی موت سے پہلے واجب الاداء نہ تھی بلکہ حکومت نے بطور انعام کے دی ہے تو یہ رقم صرف زیر کفالت افراد میں برابر تقسیم ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved