• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ڈرائیور اور کنڈیکٹر کے لیے ہوٹل میں مفت کھانا کھانے کا حکم

استفتاء

ایک ڈرائیور اور کنڈیکٹر کو  ہوٹل میں کھانا مفت دیا جاتا ہے آیا یہ کھانا اس کے لیے جائز ہے  یانہیں؟اگر جائز ہے تو کس بنا پر جائز ہے؟

وضاحت مطلوب ہے: ڈرائیوراور کنڈیکٹر کو ہوٹل میں مفت کھانا کیوں دیا جاتا ہے؟

جواب وضاحت:اس لیے دیا جاتا ہے کہ وہ بس کے تمام مسافروں کو اس ہوٹل میں کھانے کے لیے  لاتے ہیں تمام مسافر اس ہوٹل میں کھانا کھاتے ہیں تو اس وجہ سے ہوٹل والے اس کو کھانا دیتے ہیں۔

تنقیح : جو معلومات ہمیں حاصل ہوئی ہیں وہ یہ ہیں کہ ہوٹل دو قسم کے ہوتے ہیں۔

پہلی قسم کے ہوٹل وہ ہیں جو رجسٹر ڈ اور غیر  رجسٹرڈ ساری گاڑیوں کو یہ سہولت دیتے ہیں کہ آپ ہمارے ہوٹل پر گاڑی کھڑی کریں ہم آپ کو یعنی ڈرائیور اور کنڈیکٹر کو مفت کھانا اور دوسری سہولیات فراہم کریں گے اور یہ پہلی قسم کے ہوٹل  ہر قسم کی گاڑیوں کو سہولت دیتے ہیں ، روٹ والی گاڑیوں کو بھی اور بکنگ والی گاڑیوں کو بھی۔

دوسری قسم کے ہوٹل وہ ہیں جو صرف روٹ کی رجسٹرڈ گاڑیوں کو یعنی ڈرائیور  حضرات کو سہولت دیتے ہیں اور یہ ہوٹل بھی اتنے اچھے نہیں ہوتے  یہاں سٹاپ کرنے کی وجہ سے سواریاں بھی ناخوش ہوتی ہیں لیکن کیونکہ ڈرائیور حضرات نے گاڑی کو رجسٹرڈ کروایا ہوتا ہے اور ان کو یہ سہولت یہی پر ملنی ہے اس لیے ڈرائیور حضرات یہی پر گاڑی روکتے ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  ہماری معلومات کے مطابق عموماً ہوٹل والے بس ڈرائیور سے طے کرتے ہیں کہ اگر تم اپنی بس  ہمارے ہوٹل پر روکو گے  تو ہم تمہیں اور کنڈیکٹر کو مفت کھانا دیں گے حالانکہ بس روکنا  کوئی ایسا عمل نہیں ہے کہ  جس پر کھانا کھلایاجائے یا کوئی بھی عوض دیا جائے لہٰذا ڈرائیور اور کنڈیکٹر کے لیے مذکورہ کھانا کھانا جائز نہیں ہے اور شرعاً یہ رشوت کا معاملہ ہے اور رشوت کے طور پر کھانا  کھانا اور کھلانا دونوں  ناجائز ہیں۔

سنن ترمذی (2/649-650) میں ہے:

عن عبد الله بن عمرو قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌الراشي والمرتشي»

عن أبي هريرة قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌الراشي والمرتشي في الحكم»

کشف الغشوہ عن وجہ الرشوۃ(ص:20) میں ہے:

واما اعانة على عمل معين كاهداء محتاج  للسطان الي وكيله فان كان العمل حراما او واجبا فهى رشوة حرام او مباحا فيه تعب بحيث يجوز استيجارعليه حل أخذه وهو جعل او لا تعب فيه ككلمة او فعلة من ذي الجاه حرم أخذه اذ لم يثبت فى الشرع تعويض عن الجاه

ان پانچ قسموں میں امر مشترک اخذ العوض علی غیرالمتقوم ہے کیونکہ طاعت بھی غیر متقوم ہے اور معصیت بھی غیر متقوم ہے ،جاہ بھی غیر متقوم ہے۔ وعلى هذا الاقسام  الاخر اور اسی کو رشوت کی حد کہہ سکتے ہیں۔

آپ کے مسائل اور ان  کا حل(7/241) میں ہے:

سوال … کراچی، حیدر آباد اور بعض دیگر مقامات پر بس والے ہوٹلوں پر بسیں  روکتے ہیں اور مسافران ہوٹلوں پر کھانا کھاتے ،مشروبات پیتے ہیں، اور عام ریٹ سے ہوٹل والے زیادہ رقم لیتے ہیں جبکہ ڈرائیور بس کا عملہ یا  ان کا مہمان بھی کھانے میں شریک ہوتا ہے، اور ان سے رقم نہیں لی جاتی تو آیا یہ کھانا ڈرائیور اور دیگر عملے کے لئے حلال ہے یا حرام؟

جواب : اگر ہوٹل والے ڈرائیور اور اس کے مہمان کو بوجہ واقفیت اور دوستی اور احسان کے بدلے کے طور پر مفت کھانا کھلاتے ہیں تو جائز ہوگا، اگر اس لئے کھلاتے ہیں کہ وہ گاڑی وہاں کھڑی کریں تا کہ وہ گاہکوں سے زیادہ قیمت وصول کریں تو جائز نہیں ۔

آپ کے مسائل اور ان  کا حل(7/242) میں ہے:

سوال : کراچی سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے کراچی تک کوچ بسیں چلتی ہیں، ہر کوچ میں تقریباً کم و بیش ۵ سے ۸ آدمیوں کا عملہ ہوتا ہے، اور راستے میں ہر بس کھانے اور چائے کے لئے اسٹاپ کرتی ہے، اور کوچ والوں کا ہوٹل مالکان سے معاہدہ ہوتا ہے کہ ہم گاڑی کی سواری آپ کے ہوٹل پر اسٹاپ کریں گے ، آپ جانیں سواریاں جانیں، کھانا مہنگا دیں يا سستا، وہ آپ کا کام ہے لیکن ہماری بس میں جتنا عملہ ہو گا مع کبھی کبھار مہمان کے، ان تمام افراد کے لئے اعلیٰ قسم کا کھانا مفت ہوگا، اور کھانے میں بھی بے حساب چیزیں ہوں گی مثلا کھانے کے بعد بوتلیں وغیرہ بھی شامل ہوتی ہیں، اگر ایسا نہیں تو ہم بس کا اسٹاپ دُوسری جگہ کرتے ہیں۔ ہوٹل والے یہ کھانا بس کے عملے کو تو مفت  دیتے ہیں، لیکن اس کی کسر سواریوں سے نکالتے ہیں، کھانا بے انتہا مہنگا بھی دیتے ہیں اور خراب بھی ہوتا ہے۔ لہذا معلوم یہ  کرنا ہے کہ یہ مفت کھانا ان ڈرائیوروں اور بس عملے کو جائز ہے یا نہیں؟ نیز اس لالچ کی وجہ سے ہوٹل کی آمدنی جائز ہے یا نہیں؟

جواب : جوصورت آپ نے لکھی ہے، اس کے مطابق ڈائیور اور ان کے رفقاء جو مفت کا کھانا کھاتے ہیں، یہ رشوت کا کھانا ہے، جو ان کے لئے حلال نہیں رشوت دینے میں ہوٹل والے بھی گناہ گار ہیں، تاہم ان کی کمائی حلال ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved