• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

طلاقنامے میں مستقبل کے الفاظ لکھنے سے طلاق کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مندرجہ ذیل طلاقنامے کے الفاظ سے کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ سسرال والوں نے مارنےپیٹنے کی دھمکی دے کر تحریری طلاق دینے پر مجبور کیا تھا، میری طلاق کی نیت نہیں تھی  اس لیے میں نے جان بوجھ کر طلاقنامے میں مستقبل کے الفاظ لکھوائے تھے۔

طلاقنامے کی عبارت:

منکہ زید ولد   ساکن۔۔۔۔ تحصیل۔۔۔۔ ضلع۔۔۔۔۔ کا رہائشی ہوں۔ یہ کہ من مقر کی شادی ہمراہ مسماۃ دختر۔۔۔۔ ساکن ۔۔۔۔تحصیل ۔۔۔۔ضلع ۔۔۔۔سے مؤرخہ 22/6/17 کو بمطابق شریعت محمدی سر انجام پائی۔ ۔ ۔ ۔ مسماۃ مذکوریہ کے غیر لچکدار رویہ کی بناء پر ازدواجی حالات اس حد تک خراب ہوچکے ہیں کہ ان میں بہتری کی کوئی امید نہ ہے  لہٰذا متذکرہ بالا حالت کے پیش نظر من مقر اپنی بیوی مسماۃ کو طلاق اول ۔۔۔۔ طلاق دول۔۔۔۔طلاق سوہم دیکر ہمیشہ کے لیے اپنی زوجیت سے آزاد کروں گا۔ لہذا طلاق نوٹس رو برو گواہان حاشیہ تحریر کیا ہے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

توجیہ: طلاقنامے کے الفاظ  کہ” طلاق اول، طلاق دول، طلاق سوہم دیکر ہمیشہ کے لیے اپنی زوجیت سے آزاد کروں گا” مستقبل کے الفاظ ہیں جو کہ انشاء طلاق  نہیں ہیں بلکہ وعدہ طلاق ہیں، اور وعدہ طلاق سے طلاق نہیں ہوتی   لہذا مذکورہ صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

فتاوی ہندیہ( 1/384،مکتبہ حقانیہ) میں ہے:

في المحيط: لو قال بالعربية: أطلق ،لا يكون طلاقا، إلا إذا غلب استعماله للحال،فيكون طلاقا.

فتاوی تنقیح الحامدیہ(1/38،مکتبہ رشیدیہ) میں ہے:

صيغة ‌المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام

حاشیہ ابن عابدین(4/547)میں ہے:

بخلاف قوله طلقى نفسك فقالت أنا طالق أوأنا أطلق نفسى لم يقع، لأنه وعد.

فتاوی دارالعلوم دیوبند( 9/75) میں ہے:

(سو ال  )زید نے اپنی بیوی ہندہ کو غصہ کی حالت میں تین دفعہ یہ الفاظ کہے کہ میں تجھ کو طلاق دوں گا آیا طلاق ہوئی یا نہ؟

(الجواب)الفاظ مذکورہ کہنے سے ہندہ پر طلاق واقع نہیں ہوئی، کیونکہ مستقبل کے لفظ کہنے سے طلاق نہیں ہوتی۔کذا فی العالمگیريه وغیرها لانه وعد.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved