- فتوی نمبر: 32-192
- تاریخ: 05 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > جن لوگوں سے نکاح کرنا ناجائز ہے
استفتاء
صورت مسئلہ یہ ہے کہ فاطمہ نے زینب کو دودھ پلایا وہ دودھ فاطمہ کے شوہر زید کے ذریعے تھا لہذٰا زینب زید کی رضاعی بیٹی بنی اب اس بیٹی یعنی زینب کا نکاح زید کے بھائی خالد یعنی رضاعی چچا سے کرنا چاہتے ہیں۔ آیا یہ نکاح کرنا درست ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں یہ نکاح درست نہیں کیونکہ مذکورہ صورت میں زید کا بھائی خالد اس دودھ پینے والی بچی فاطمہ کا رضاعی چچا ہے اور جس طرح حقیقی چچا سے نکاح جائز نہیں اسی طرح رضاعی چچا سے بھی نکاح جائز نہیں۔
ہندیہ(1/143) میں ہے:
يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا
تبیین الحقائق(2/183) میں ہے:
قَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ (زَوْجُ مُرْضِعَةٍ لَبَنُهَا مِنْهُ أَبٌ لِلرَّضِيعِ وَابْنُهُ أَخٌ وَبِنْتُهُ أُخْتٌ وَأَخُوهُ عَمٌّ وَأُخْتُهُ عَمّ
درمختار(3/213)میں ہے:
(فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب)
امدادالفتاوی (5/42) میں ہے:
سوال: زید نے اپنی بہن حقیقی ہندہ کا دودھ مدت رضاعت میں پیا ہے اب زید چاہتا ہے کہ اپنی لڑکی کا عقد ہندہ کے لڑکے کے ساتھ کرے اور یہ لڑکا ہندہ کا جس کے ساتھ اپنی لڑکی کا زید عقد کرنا چاہتا ہے ہندہ کا وہ لڑکا نہیں ہے جس کے ساتھ زید نے ملکر ہندہ کا دودھ پیا ہے بلکہ ہندہ کا یہ دوسرا لڑکا ہے تو یہ نکاح شرعاً کیسا ہے؟
الجواب: ہندہ کا یہ لڑکا اس زید کی لڑکی کا رضاعی چچا ہے مثل حقیقی چچا کے حرام ہے؛ لہٰذا یہ نکاح حرام ہے اور زید کے ساتھ دودھ پینے نہ پینے کو اس میں کچھ دخل نہیں۔
فتاوی حقانیہ(4/168)میں ہے:
سوال:۔رشیدہ نے خالد کی بیوی کا دودھ مدت رضاعت میں پیا ہے ،کیا خالد کے بھائی بکر کا نکاح رشیدہ سے جائز ہے یا نہیں؟
الجواب صورت مذکورہ میں رشیدہ خالد کے بھائی (بکر)کی رضاعی بھتیجی ہے تو جیسے نسبی(حقیقی)بھتیجی سے نکاح جائز نہیں اسی طرح رضاعی بھتیجی سے بھی رضاعی چچا کا نکاح ناجائز اور حرام ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved