- فتوی نمبر: 32-197
- تاریخ: 05 اپریل 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > اخلاق و آداب
استفتاء
کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے “عاشق ” کا لفظ استعمال کر سکتے ہیں ؟جیسا کہ لوگ کہتے ہیں کہ”میں سچا عاشق رسول ہوں”حالانکہ یہ لفظ لوگ اپنی ماں بہن کے لیے استعمال نہیں کرتے کہ کبھی کسی نے یوں کہا ہو کہ میں اپنی ماں کا عاشق ہوں یا بہن کا عاشق ہوں ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
کسی کا اپنے آپ کو عاشق رسول کہنا شرعاً درست ہے۔
توجیہ: عاشق کا لفظ اچھے معنیٰ میں بھی استعمال ہوتا ہے اور بُرے معنیٰ میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اچھے اور بُرے معنیٰ کا تعین موقع محل کے استعمال سے ہوجاتا ہے چنانچہ “عاشق رسول” کہنے سے کسی کے ذہن میں بُرے معنیٰ کا تصور بھی نہیں آتا جبکہ اپنی ماں یا بہن کا عاشق کہنے سے بُرے معنیٰ کا تصور بھی آجاتا ہے اس لیے اپنے آپ کو “عاشق رسول” کہنے میں کوئی حرج نہیں۔
مصباح اللغات (ص:554) میں ہے:
العشق: محبت کی زیادتی۔ پارسائی اور فسق دونوں طرح سے ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved