- فتوی نمبر: 34-338
- تاریخ: 06 اپریل 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > ضبط ولادت و اسقاط
استفتاء
حمل اگر بالکل ابتدائی مراحل پر ہو تو اس کو گرانے سے متعلق اسلام میں کیا تعلیمات ہیں؟
میری ایک بیٹی 4سال کی ہے ،ایک بیٹی 2سال کی اور ایک بیٹا 10 ماہ کا ہے۔ میں اکیلی تینوں کو سنبھالتی ہوں شوہر زیادہ تر کام پر ہوتے ہیں۔مجھے ڈر ان تینوں بچوں کا ہے ۔حمل میں اِن تینوں کی پرورش پر بہت اثر پڑے گا کیونکہ طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے بچوں کی دیکھ بھال نہیں کر سکتی اور جتنے دن ہسپتال میں رہنا ہوگا اتنے دن تینوں بچوں کو اکیلے گھر پر نہیں چھوڑ سکتی سب سے چھوٹا بیٹا ابھی ماں کا دودھ بھی پیتا ہے۔اور حمل کو آٹھ ہفتے ہو گئے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں جو بچہ ماں کا دودھ پیتا ہے اگر اس کے لیے متبادل بندوبست مثلاً ڈبہ کا دودھ یا دودھ پلانے والی دائیہ کا انتظام نہیں ہو سکتا تو اس حمل کو گرانا جائز ہے۔ ورنہ جائز نہیں ہے کیونکہ اس کے علاوہ باقی اعذار ایسے نہیں ہیں جن کی وجہ سے موجودہ بچوں کی ہلاکت کا اندیشہ ہو اور نہ ہی اس حمل کی وجہ سے عورت کی جان کو کوئی خطرہ لاحق ہے اور نہ ہی حمل کو کوئی خطرہ لاحق ہے اس لیے ان اعذار کی وجہ سے حمل گرانا جائز نہیں ہے۔
درمختار مع ردالمحتار (6/429) میں ہے :
ويكره أن تسقى لإسقاط حملها وجاز لعذر
(قوله وجاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل وانقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما، وجاز لأنه ليس بآدمي وفيه صيانة الآدمي خانية
امداد الفتاوی(4/204) ميں ہے :
سوال : ……………. عورت کو حمل گروا دینا درست ہے یا حرام جب تک جان نہ پڑے دوسرے جو عورت بہت جلدی حاملہ ہو جاتی ہے مثلا ابھی بچہ نو ماہ کا ہی ہے اور ایام آگئے اور وہ اسی وقت میں حاملہ ہو جاتی ہے………..؟
الجواب: ………… سوال اول کا جواب یہ ہے کہ بلا عذر ناجائز ہے اور بعذر جائز ہے اور دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر اس عورت کو یا بچے کو اس حمل سے کچھ نقصان ہو جائز ہے ورنہ نہیں ……..
مریض و معالج کے اسلامی احکام(ص:308) ميں ہے:
اسقاط(abortion) اور اس کا حکم:
حمل کو جب ایک سو بیس دن ہو جائیں تو جنین میں روح پھونک دی جاتی ہے
عن ابن مسعود قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان خلق احدكم يجمع في بطن امه اربعین يوما نطفة ثم يكون علقة مثل ذلك ثم يكون مضغة مثل ذلك ثم ينفخ فيه الروح (بخاري ومسلم)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان کیا کہ تم میں سے ہر ایک کی ابتدائی تخلیق اس کی ماں کے پیٹ میں کی جاتی ہے (چالیس چالیس دن کے تین مراحل میں جن کو سائنسی تحقیق سے قطع نظر کسی مناسبت سے تین موٹے موٹے نام دیے گئے ہیں)چالیس دن مرحلہ نطفہ میں پھر اتنی مدت مرحلہ علقہ میں پھر اتنی ہی مدت مرحلہ مضغہ میں اس کے بعد اس میں روح پھونکی جاتی ہے۔
لہذا اس مدت کے بعد اسقاط بالکل حرام ہے اور اس کا مرتکب قتل کا مرتکب شمار ہوگا اس مدت سے پیشتر یہ فعل کسی قابل اعتبار عذر کے بغیر مکروہ ہے اگرچہ اس کا مرتکب قتل نفس میں ماخوذ نہ ہوگا اور اگر کوئی قابل اعتبار شرعی عذر ہو تو اس مدت سے پیشتر اسقاط جائز ہے۔
قابل اعتبار شرعی اعذار کی چند مثالیں درج ذیل ہیں۔
(1)حمل کے ظہور کے بعد عورت کا دودھ ختم ہو جائے اور پہلے سے موجود شیر خوار بچے کے باپ میں کسی انا (دایہ) کو اجرت پر رکھنے کے استطاعت نہ ہو (اور دیگر متبادل وسائل نہ ہونے کی بنا)پر بچے کی ہلاکت کا اندیشہ ہو۔
(2)حمل ٹھہر گیا ہو لیکن بعض امراض کی بنا پر حمل کے بار کا تحمل نہ ہو.
(3)بچے کے ناقص الخلقت ہونے کا قوی احتمال ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved