• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

جس بستر پر سوتے ہوں اس پر کھانا کھانے کا حکم

استفتاء

جس بیڈ پر سوتے ہیں اس پر کھانا نہیں کھانا چاہیے۔کیا یہ مسئلہ درست ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جس بیڈ پر سوتے ہیں اس پر بیٹھ کر کھانا کھانا جائز ہے تاہم اگر کوئی شخص اسے سلیقہ مندی کے مخالف سمجھے تو علیحدہ بات ہے۔

توجیہ:آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کو کسی اونچی چیز پر رکھ کر نہیں کھاتے تھے بلکہ دسترخوان پر رکھ کر کھاتے تھے اور دسترخوان اپنے بیٹھنے کی جگہ سے اونچا نہیں ہوتا۔

صحیح بخاری(رقم الحدیث: 5071)میں ہے:

عن أنس رضي الله عنه قال: ما علمت النبي صلى الله عليه وسلم أكل على سكرجة قط، ولا خبز له مرقق قط،ولا أكل على خوان قط.قيل لقتادة: فعلى ما كانوا يأكلون؟قال: ‌على ‌السفر.

الكوكب الدری على جامع الترمذی(3/ 3)میں ہے:

(قوله على ‌خوان)هو ما له قوائم غير صغار.

مسند البزار(رقم الحدیث: 5752)میں ہے:

عن ابن عمر؛أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:إنما أنا عبد آكل ‌كما ‌يأكل ‌العبد.

بذل المجہود (11/497)میں ہے:

كتب ‌مولانا ‌محمد يحيى المرحوم:والمقبول من هيئة الأكل ما فيه إقبال ‌تام ‌على ‌الطعام،وليس فيه كثرة الأكل باتساع البطن،وليست من هيئة المتكبرين،فما اجتمعت فيه الثلاثة كان أفضل،وما فيه اثنان منهما أو واحد بقدره.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved