• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دو بیویوں کی اولاد میں وراثت کی تقسیم

استفتاء

میرے والد صاحب کا انتقال ہوا ، میرے والد کے والدین  والد صاحب سے پہلے ہی فوت ہوچکے ہیں۔ والد صاحب نے دو شادیاں  کی  تھیں،  پہلی بیوی کا انتقال والد صاحب  کی جوانی میں ہوگیا تھا اور دوسری بیوی والد صاحب  کے انتقال کے آٹھ سال بعد  فوت ہوئیں۔ دوسری بیوی کے والدین بھی پہلے ہی وفات پاچکے ہیں۔  پہلی بیوی سے  تین  بیٹے  اور دوسری بیوی سے چھ بچے  (دو بیٹے اور چار بیٹیاں) ہیں۔ سوال یہ ہے کہ میرے والد کی وراثت کا کون کون حقدار ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  والد مرحوم کی وراثت   کے کل64  حصے کیے جائیں گے جن میں سے  پہلی بیوی کے تین بیٹوں میں سے ہر ایک بیٹے کو آٹھ حصے( 12.5 فیصد فی کس ) ، دوسری بیوی کے دو بیٹوں میں سے ہر بیٹے کو 10 حصے (15.62 فیصد  فی کس) اور دوسری بیوی کی چار بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو 5 حصے( 7.81 فیصد  فی کس) ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved