• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

پراویڈنٹ کی مَد میں جبراً اجرت کاٹنے کا حکم

استفتاء

ہمارا مدرسہ ایک کمپنی کی طرف سے چل  رہا ہے۔ پراویڈنٹ فنڈ کافی عرصے سے چل رہا تھا۔ پھر چار پانچ سال تک بند رہا۔فی الحال الحمدللہ ہمیں ہر ماہ پوری تنخواہ ملتی ہے۔ اب تمام اساتذہ اور ملازمین کی جانب سے مدرسہ والے کمپنی سے پراویڈنٹ فنڈ کو دوبارہ شروع کرنے کی درخواست کر رہے ہیں۔ جہاں ہر ماہ ہر ملازم / استاد  کی تنخواہ سے ایک مخصوص حصہ کاٹا جائے گا۔مدرسہ والے  چاہتے ہیں کہ اسے لازمی قرار دیا جائے تاکہ  نتیجے کے طور پر ملازمین کے لیے یہ رقم بعد میں حکومتی (لازمی) پراویڈنٹ فنڈ کی طرح اضافے کے ساتھ لینا جائز ہوجائے۔

1۔میرا مفتی صاحب سے سوال ہے کہ کیا ہماری مذکورہ  تجویز درست ہے ؟ اگر کمپنی ہماری درخواست کی وجہ سے اسے دوبارہ شروع کرتی ہے تو کیا یہ حکومت کے لازمی پراویڈنٹ فنڈ کی طرح ہوگا؟ یا یہ رضاکارانہ پراویڈنٹ فنڈ کی طرح ہوگا؟

2۔ایک اور سوال یہ ہے کہ کیا شریعت میں کسی ملازم کی  اجازت کے بغیر اس کی تنخواہ سے رقم کاٹنا جائز ہے؟

وضاحت مطلوب ہے: مدرسہ کس کمپنی کے تحت چل رہا ہے کیا اس کمپنی پر حکومت کی طرف سے اپنے ملازمین کے لیے پراویڈنٹ دینا لازمی ہے؟

جواب وضاحت : نہیں اس کمپنی پر حکومت کی طرف سے کوئی اجبار نہیں اس کمپنی کا نام *** آف کمپنیز ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر اس کٹوتی پر ملازمین اور اساتذہ رضامند ہیں تو مذکورہ صورت حکومت کے جبری/ لازمی پراویڈنٹ فنڈ کی طرح نہیں ہے۔بلکہ اختیاری رضاکارانہ پراویڈنٹ فنڈ کی طرح ہے تاہم اختیاری پراویڈنٹ فنڈ کی صورت میں بھی کمپنی کی طرف سے اگر کچھ اضافہ بنام سود ہوگا تو اسے لینا خلاف احتیاط ہوگا اور جو اضافہ کمپنی کی طرف سے سود کے نام کے بغیر ہوگا اسے لینا خلاف احتیاط بھی نہ ہوگا اور اگر ملازمین اور اساتذہ اس کٹوتی پر رضامند نہیں ہیں تو مذکورہ صورۃ حکومت کی جبری/ لازمی پراویڈنٹ فنڈ کی طرح ہوگی اور اس صورت میں کمپنی کی طرف سے جو اضافہ بنام سود ہوگا اسے لینا خلاف احتیاط بھی نہ ہوگا تاہم کسی ملازم استاد کی رضامندی کے بغیر اس کی تنخواہ میں سے کٹوتی کرنا جائز نہ ہوگا۔

نوٹ: کمپنی کی طرف سے اگر کچھ اضافہ بنام سود ہو تو اسے سود سمجھ کر لینا کسی صورت میں جائز نہ ہوگا۔

مجلۃ الاحکام  (مادہ:02) میں ہے:

الأمور بمقاصدها.

البحر الرائق(7/300)  میں ہے:

“قوله:(بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها.”

جواہر الفقہ (3/277)میں ہے :

لہذا جس وقت محکمہ اپنا یہ واجب الادا دین ملازم کو ادا کرتا ہے اور اس میں کچھ رقم اپنی طرف سے مزید ملا کر دیتا ہے (یہ مزید رقم خواہ وہ ہو جومحکمہ ماہ  بماہ ملازم کے حساب میں جمع کرتا ہے اور خواہ وہ ہو جو سالانہ  سود کے نام سے اس کے حساب میں جمع کی جاتی ہے) تو یہ بھی محکمہ کا اپنا یکطرفہ عمل ہے کیونکہ اول تو ملازم نے اس زیادتی کے ملانے کا محکمہ کو حکم نہیں دیا تھا اور اگر حکم دیا بھی ہو تو اس کا یہ حکم شرعاًمعتبر نہیں اس لئے کہ یہ حکم ایک ایسے مال سے متعلق ہے جو اس کا مملوک نہیں ہے۔بنابریں محکمہ پراویڈنٹ فنڈ کی  رقم پر جو زیادتی اپنی طرف سے دے رہا ہے اس پر شرعی اعتبار سے ربا کی تعریف صادق نہیں آتی خواہ  حکومت نے اسے سود کا نام لے کر دیا ہو۔

فتاوی عثمانی( 278/3)میں ہے:

سوال :پراویڈنٹ فنڈ پر جو سود دیا جاتا ہے وہ لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:احتیاط تو اسی میں ہے کہ پراویڈنٹ فنڈ کے طور پر جو رقم ملازم نے اپنے اختیار سے کٹوائی ہے اس پر ملنے والی زیادہ رقم کوصدقہ کردیا جائے۔ لیکن شرعی نقطہ نظر سے یہ زیادہ کی رقم سود کے حکم میں نہیں ہے،اس لیے اسے اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے۔

فتاوی عثمانی(3/308) میں ہے:

جواب: پراویڈنٹ فنڈ پر جو زیادہ رقم محکمے کی طرف سے دی جاتی ہے وہ شرعا سود نہیں ہے۔لہذا اس کا لینا اور استعمال میں لانا جائز ہے۔جبری اور اختیاری فنڈ دونوں کا حکم یہی ہے ۔البتہ جو رقم اپنے اختیار سے کٹوائی گئی ہو اس پر ملنے والی زیادتی کواحتیاطا صدقہ کردیں تو بہتر ہے۔

مفتی شفیع صاحب جواہر الفقہ(3/285) پر لکھتے ہیں:

مسئلہ ۱:جبری پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے پھر مجموعہ پر جو رقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے شرعاً ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ سب رقمیں در حقیقت تنخواہ ہی کا حصہ ہیں اگرچہ سود یا کسی اور نام سے دی جائیں لہٰذا ملازم کو ان کا لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز ہے ان میں سے کوئی رقم بھی شرعاً سود نہیں۔ البتہ پراویڈنٹ فنڈ میں رقم اگر اپنے اختیار سے کٹوائی جائے تو اس پر جو رقم محکمہ بنام سود دے گا اس سے اجتناب کیا جائے۔

مسئلہ ۲ :جو حکم مسئلہ نمبر ۱ میں بیان کیا گیا یہ  اس وقت ہے جبکہ  پراویڈنٹ فنڈ کی رقم ملازم نے اپنی طرف سے کسی شخص یا کمپنی وغیرہ کو تحویل میں نہ دلوائی ہو بلکہ محکمہ نے اپنے تصرف میں رکھی ہو یا اگر کسی شخص یا کمپنی وغیرہ کو دی ہو تو اپنے طور سے اپنی ذمہ داری پر دی ہو اور اگر ملاز م نے اپنی ذمہ داری پر یہ رقم کسی شخص یا بینک یا بیمہ کمپنی یا کسی اور مستقل کمپنی مثلا ملازمین کے نمائندہ پر مشتمل بورڈ وغیرہ کی تحویل میں دی ہو اب اگر بینک یا کمپنی وغیرہ اس رقم پر کچھ سود دیں تو یہ شرعاً بھی سود ہوگا جس کا لینا ملازم کے لیے قطعاً حرا م ہے، فنڈ خواہ جبری ہو یا اختیاری۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved