• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ایصالِ ثواب کا طریقہ

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ :

(1)ایصالِ ثواب کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

(2) قرآن مجید پڑھ کر یا کوئی اور نفلی عبادت کرکے ایصالِ ثواب کرسکتےہیں ؟بعض لوگ ایصالِ ثواب کرنے کے حوالے سے اعتراض کرتے ہیں قرآن وحدیث کی روشنی میں تفصیلی جواب دیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ایصالِ ثواب کا طریقہ یہ ہے کہ کوئی بھی  نیک عمل کرکے یہ نیت کرلے کہ “یا اللہ اس عمل کا ثواب فلاں فلاں شخص تک پہنچادے۔

2۔قرآن مجید پڑھ کریا کوئی اور نفلی عبادت کرکے بھی ایصالِ ثواب کرسکتےہیں۔

نوٹ:ایصالِ ثواب کی تین صورتیں ہیں۔(1)مالی عبادات کا ایصالِ ثواب مثلاً صدقہ کرکےایصال ثواب کرنا۔

(2) بدنی (فعلی)عبادات کا ایصالِ ثواب مثلاً نماز یا روزے کا ایصالِ ثواب کرنا۔

(3) زبانی  (قولی) عبادات  کا  ایصال ثواب مثلاً قرآن یا  ذکر کا ایصالِ ثواب کرنا،  ان تینوںصورتوں کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں۔

(1)مالی عبادات کے ایصال ثواب کی دلیل:

صحیح بخاری(1/743) میں ہے:

عن عائشة قالت جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن أمي افتلتت نفسها وإنها لو تكلمت تصدقت، فهل لها من أجر إن تصدقت عنها قال: نعم.

ترجمہ:حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص حضورﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کی کہ بے شک میری والدہ کا انتقال ہوگیا ہے اور اگر وہ کچھ کہتیں تو صدقے کا حکم دیتیں،اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں توکیا ان کو اس کا ثواب ملے گا ؟ حضوراکرمﷺنے فرمایا کہ ہاں۔

(2)بدنی(فعلی)عبادات کے ایصال ثواب کی دلیل:

صحیح مسلم(1/61) میں ہے:

عن حجاج بن دينارمرسلا قال قال النبي صلى الله عليه وسلم إن من البر بعد البر أن تصلي لأبويك مع صلاتك وتصوم لهما مع صومك    .

ترجمہ: حضرت حجاج بن دینار ؒحضوراکرمﷺسے مرسلاً نقل کرتےہیں کہ ایک نیکی کے بعد دوسری نیکی یہ ہے کہ تو اپنے لیےنمازپڑھنے کےساتھ اپنے والدین کے لیے بھی نماز پڑھے اور تو اپنے لیے روزہ رکھنے کے ساتھ اپنے والدین کے لیے بھی روزہ رکھے۔

زبانی (قولی) عبادات کے ایصال ثواب کی دلیل:

شرح الصدورللامام السیوطی(304/1) میں ہے:

عن أنس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من دخل المقابر فقرأ سورة يس خفف الله عنهم وكان له بعدد من فيها حسنات.

ترجمہ: حضرت انسؓ حضوراکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جو قبرستان گیاپھر اس نے سورت یٰس پڑھی تو ان قبرستان والوں سے عذاب کم کردیا جائے گااور اس کو اس قبرستان والوں کی تعداد کے برابر نیکیاں ملیں گی۔

کنزالعمال(468/16) میں ہے:

“عن ابي بكرالصديق رضي الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم من زار قبر والديه أو أحدهما في كل يوم جمعة فقرأ عنده يس غفر الله له بعدد كل حرف منها.

ترجمہ: حضرت ابوبکرصدیق ؓ حضوراکرم ﷺسے روایت ہیں کہ حضوراکرمﷺنے ارشاد فرمایا کہ جس نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کی قبر کی جمعہ کے دن زیارت کی پھر ان کے پاس سورۃ یٰس پڑھی ان کی سورۃ یٰس کے ہر حرف کی تعداد کے بدلے میں بخشش کردی جائے گی۔

الادب المفرد للامام البخاریؒ(17) میں ہے :

عن أبى هريرة قال: ترفع للميت بعد موته درجته. فيقول: أي رب! أي شيء هذه؟ فيقال: ولدك استغفر لك.

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ موت کے بعد میت کے لیے ایک درجہ بلند کیا جاتا ہے تو وہ عرض کرتا ہے : اے رب! یہ کیا ہے؟ اُسے کہا جاتا ہے : تیرے بیٹے نے تیرے لیے استغفارکیا ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved