• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کیا غیر سید مرد سیدہ عورت سے نکاح کرسکتا ہے؟

استفتاء

کیا عام ذات سیدہ عورت سے نکاح کرسکتا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر سیدہ عورت اور اس کے والدین راضی ہوں تو کرسکتا ہے۔

توجیہ: غیر سید مرد اگرچہ سیدہ کا کفو  تو نہیں ہے  لیکن اگر  غیر کفو میں ولی کی اجازت سے نکاح کیا جائے تو جائز ہے۔

درمختار (4/196) میں ہے:

(‌وتعتبر) ‌الكفاءة للزوم النكاح ……….. (نسبا فقريش) بعضهم (أكفاء) بعض (و) بقية (العرب) بعضهم (أكفاء) بعض.

المبسوط للسرخسی (5/26) میں ہے:

‌وإذا ‌تزوجت ‌المرأة ‌غير كفء فرضي به أحد الأولياء جاز ذلك

کفایت المفتی (5/207) میں ہے:

سوال: ایک بیوہ سید زادی اپنی رضا و رغبت سے ایک غیر سید سے شرعاً نکاح کر سکتی ہے یا نہیں؟

جواب : سید زادی کے لئے تما م غیر سید غیر کفو نہیں ہیں ۔ بلکہ سید زادی کے لئے تمام صدیقی، فاروقی، عثمانی ، علوی، عباسی، زبیری، یعنی شیوخ قریشی کفو ہیں ۔ ان میں سے وہ کسی کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے ۔ اور سید زادی بالغہ غیر کفو میں اولیاء کی رضا مندی سے یا اس کے اولیاء میں کوئی نہ ہو تو اپنی مرضی سے نکاح کر سکتی ہے۔

آپ کے مسائل اور ان کا حل (5/68) میں ہے:

سوال: ہمارے ملک پاکستان میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو سید ہیں وہ دوسرے گھرانوں  یعنی اہل سنت والجماعت وغیرہ کے ہاں یا جو اہل سنت ہیں سید خاندان کے ہاں شادی کر لیتے ہیں کیا یہ جائز ہے یا ناجائز اس کی تفصیل بیان کریں۔

 جواب: لڑکی اور اس کے والدین کی رضامندی سے ہر مسلمان کے ساتھ نکاح صحیح ہے خواہ لڑکی اعلی ترین شریف خاندان کی ہو اور لڑکا فرض کیجئے  نو مسلم ہو لیکن اگر والدین یہ نکاح لڑکی کی اجازت کے بغیر کرتے ہیں یا لڑکی والدین کی اجازت کے بغیر کر لیتی ہے تو جائز نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved