• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائلا

استفتاء

حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ تعالی عنہ) کی فضیلت میں آیات قرآنی، اور وہ احادیث جو صحاح ستہ میں ہوں بیان فرمادیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

قرآن کریم میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل میں بہت سی آیات نازل ہوئی ہیں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی صحابی ہیں تو وہ بھی ان فضائل کے مستحق ہوں گے ان میں سے ایک آیت یہ ہے:

لَا يَستَوِي مِنكُم مَّن أَنفَقَ مِن قَبلِ ٱلفَتحِ وَقَٰتَلَ أُوْلَٰٓئِكَ أَعظَمُ دَرَجَة مِّنَ ٱلَّذِينَ أَنفَقُواْ مِن بَعدُ وَقَٰتَلُواْ وَكُلّا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلحُسنَىٰ [الحديد: 10]

(ترجمہ) تم میں سے جنہوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے خرچ کیا، اور لڑائی لڑی وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہیں۔وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد خرچ کیا، اور لڑائی لڑی۔ یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے۔

”إِنَّ ٱلَّذِينَ سَبَقَت لَهُم مِّنَّا ٱلحُسنَىٰٓ أُوْلَٰٓئِكَ عَنهَا مُبعَدُونَ“ [الانبياء:101]

(ترجمہ) (البتہ) جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے بھلائی پہلے سے لکھی جاچکی ہے، (یعنی نیک مومن) ان کو اس جہنم سے دور رکھا جائے گا۔

مذکورہ بالا آیات سے معلوم ہوا کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنتی ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے ان کے حق میں فرمایا ہے کہ ’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم چاہے فتح مکہ سے پہلے اسلام لائے ہوں یا فتح مکہ کے بعد‘‘ ’’ سب بے شک اہل جنت ہیں اور ان میں سے کوئی ایک بھی دوزخ میں داخل نہیں ہوگا‘‘ اس لیے کہ پہلی آیت مذکورہ میں لفظ منکم کا مصداق اور مخاطب یہی حضرات ہیں اور ان تمام حضرات کے لیے جنت کا وعدہ فرمایا گیا ہے، پھر جن لوگوں کے حق میں حسنٰی (یعنی جنت) سابقا ثابت ہوچکی ہے وہ دوزخ سے دور رکھے جائیں گے، لہذا یہ مخاطبین تمام کے تمام حسب وعدہ الٰہی جنت کے مستحق ہیں اور دوزخ سے دور کردیے گئے ہیں، اور اللہ کریم کا وعدہ سچا ہے، وہ اپنے وعدہ کے خلاف ہرگز نہیں کرتا۔

الصواعق المحرقۃعلى اهل الرفض والضلال والزندقۃ للشیخ ابن حجر الہیتمی (2/ 609) میں ہے:

”الصحابة كلهم من أهل الجنة قطعا قال تعالى لا يستوي منكم من أنفق من قبل الفتح وقاتل أولئك أعظم درجة من الذين أنفقوا من بعد وقاتلوا وكلا ‌وعد ‌الله ‌الحسنى)  وقال تعالى ((إن الذين سبقت لهم منا الحسنى أولئك عنها مبعدون))  فثبت أن جميعهم من أهل الجنة وأنه لا يدخل أحد منهم النار لأنهم المخاطبون بالآية الأولى التي أثبت لكل منهم الحسنى وهي الجنة“

اور احادیث میں بھی آپ کے فضائل بیان ہوئے ہیں، چنانچہ:

صحیح بخاری (کتاب الجہاد،باب ما قیل فی قتال الروم، ح: 2924) میں ہے:

”‌أول ‌جيش من أمتي يغزون البحر قد أوجبوا.“

 (ترجمہ) میری اُمت کا پہلا لشکر جو سمندر میں جہاد کرے گا، ان (مجاہدین) کے لئے(جنت) واجب ہے۔

یہ جہاد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (کی خلافت) کے زمانے میں ہوا تھا۔ اور اس لشکر کے سپہ سالار حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تھے۔

عمدة القاری شرح صحيح البخاری (14/ 198) میں ہے:

”ذكر معناه: قوله: (أول جيش من أمتي يغزون البحر) أراد به جيش معاوية، وقال المهلب: معاوية أول من غزا البحر، وقال ابن جرير: قال بعضهم: كان ذلك في سنة سبع وعشرين، وهي غزوة قبرص في زمن عثمان بن عفان، رضي الله تعالى عنه، وقال الواقدي: كان  ذلك في سنة ثمان وعشرين، وقال أبو معشر: غزاها في سنة ثلاث وثلاثين، وكانت أم حرام معهم.“

سنن ترمذی (ابواب المناقب، باب مناقب معاویۃ بن ابی سفیان،ح:3868) میں ہے:

”عن ‌عبد الرحمن بن أبي عميرة، وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم «أنه قال لمعاوية:» اللهم، اجعله هاديا مهديا، واهد به.“

(ترجمہ) حضرت عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ دعافرمائی: اے اللہ انہیں راہ حق کی طرف بلانے والا، ہدایت یافتہ بنا اور ان کے ذریعہ اوروں کو ہدایت دے۔

سنن ترمذی (ابواب المناقب، باب مناقب معاویۃ بن ابی سفیان،ح:3869) میں ہے:

”عن ‌أبي إدريس الخولاني قال: «لما عزل عمر بن الخطاب» عمير بن سعد عن حمص ولى معاوية، فقال الناس: عزل عميرا وولى معاوية، فقال ‌عمير : لا تذكروا معاوية إلا بخير، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: اللهم اهد به.“

(ترجمہ) حضرت ابوادریس خولانی رحمہ اللہ نے فرمایا: جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ کو حمص سے معزول کر کے حضرت معاویہؓ کو والی بنایا تو لوگ چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ’’ عمیرؓ کو معزول کردیا اور معاویہؓ  کو والی بنا دیا‘‘ حضرت عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا حضرت معاویہؓ کو صرف اچھے الفاظ سے یاد کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اے اللہ معاویہ کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے۔

فضائل الصحابۃ لاحمد بن حنبل (‌‌فضائل معاویۃ بن ابی سفيان رضی الله عنهما،ح:1748۔2/ 913) میں ہے:

”عن العرباض بن سارية السلمي قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يدعونا إلى السحور في شهر رمضان قال: «هلموا إلى الغداء المبارك» ثم سمعته يقول: «اللهم علم معاوية الكتاب والحساب، وقه العذاب“

 (ترجمہ) حضرت عرباض بن ساریہ )رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا جبکہ آپ ﷺ رمضان کے مہینے میں سحری کے لئے بلا رہے تھے فرمانے لگے  مبارک کھانے کے لئے آجاو۔ پھر میں نے آپﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ’’اے میرے اللہ معاویہ کو کتاب و حساب سکھا اور اسے عذاب سے بچا‘‘۔

صحيح بخاری (کتاب فضائل الصحابۃ،باب ذکر معاویۃ،ح:3554۔3/1373) میں ہے:

”قيل لابن عباس: هل لك في أمير المؤمنين معاوية، فإنه ما أوتر إلا بواحدة قال: أصاب، ‌إنه ‌فقيه.“

(ترجمہ)…حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آپ حضرت معاویہؓ کے متعلق کیا فرماتے ہیں وہ ایک رکعت وتر پڑھتے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے (جو کیا) درست کیا کیونکہ وہ فقیہ(قرآن و حدیث کے ماہرعالم) ہیں۔

تاريخ دمشق لابن عساكر (فی ذکرابراهيم بن میسرۃالطائفی،7/231) میں ہے:

”إبراهيم بن ميسرة قال ما رأيت عمر بن عبد العزيز ضرب احدا في خلافته غير رجل واحد تناول من معاوية فضربه ثلاثة أسواط“

(ترجمہ) حضرت ابراہیم بن میسرہ ؒفرماتے ہیں میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو اپنی خلافت کے زمانے میں کسی شخص کو مارتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے ایک شخص کے جس نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو گالیاں دی تھیں انہوں نے اسے تین کوڑے مارے۔

تنبیہ: حدیث کے صحیح  ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ صحاح ستہ میں ہو کیونکہ صحاح ستہ کے علاوہ اور بھی بہت سی حدیث کی کتابیں ایسی ہیں جن میں صحیح حدیثیں  ہیں لہذا صرف صحاح ستہ سے حدیث کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved