• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

“بری عورتیں برے مردوں کے لئے ہیں الخ” اور “زنا اویک قرض ہےالخ” کی وضاحت

استفتاء

دو ایسے concept(تصور) جن کا مطلب ہمارے ہاں سراسر غلط لیا جاتا ہے۔

نمبر1: ’’بری عورتیں برے مردوں کے لیے اور برے مرد بری عورتوں کے لیے‘‘۔

نمبر2: ’’زنا ایک قرض ہے جو آپ کو گھر سے چکانا پڑے گا خاص کر بیٹی کی صورت میں‘‘۔

ہمارے ہاں سورہ نور کی آیت نمبر26 کا ترجمہ سراسر غلط لیا جاتا ہے۔

’’اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ وَالْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثٰتِ‘‘

(ترجمہ) بدکار عورتیں بدکار مردوں کے لیے اور بدکار مرد بدکار عورتوں کے لیے ہیں۔

پہلی بات یاد رکھیں کہ قرآن مجید کی کسی بھی آیت کی تفسیر اس کے سیاق و سباق کے بغیر نہیں کی جاسکتی اور ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں آدھا سچ بتانے  کی عادت ہے۔ اگر سورہ نور کی اس آیت کے آگے اور پیچھے کی آیت کو پڑھا جائے تو صاف پتا چلتا ہے کہ یہاں پر آخرت کی بات ہو رہی ہے نہ کہ دنیا کی کہ آخرت میں بری عورتیں برے مردوں کے ساتھ جہنم میں ہوں گی اور اچھی عورتیں اچھے مردوں کے ساتھ جنت میں ہوں گی۔ اگر دنیا کی بات کریں تو دنیا میں تو فرعون کی بیوی مسلمان تھی اور حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی کافر تھی۔ لہذا اس آیت کا ترجمہ ٹھیک سے سمجھ لیں کہ یہاں آخرت کا ذکر ہورہا ہے نہ کہ دنیا کا۔

دوسری بات ہمارے ہاں امام غزالیؒ کا ایک قول بڑا مشہور ہےکہ ’’زنا ایک قرض ہے جسے آپ کو گھر سے چکانا پڑے گا اور خاص کر بیٹی کی صورت میں‘‘ اور یہ انتہائی گھٹیا اور سراسر غلط بات ہے بلکہ یہ امام غزالیؒ  کا قول ہے ہی نہیں اور اگر امام غزالیؒ  کا قول بالفرض ہے بھی سہی تو حرفِ آخر تو نہیں کیوں کہ ہمارے لئے ہمارے نبی ﷺ  زیادہ معتبر ہیں امام غزالیؒ سے اور ہمارے نبی سے ایسی کوئی حدیث روایت بھی نہیں۔

ایک بات بتائیں اگر آپ زنا کریں گے تو اس میں آپکی بیٹی کا کیا قصور ہے؟ آپکے گناہ کی سزا آپکی بیٹی کو کیوں ملے گی؟ اللہ کو پتہ تھا کہ میرے بندے دنیا میں panic create(خوف و ہراس پیدا) کریں گے اس طرح کی من گھڑت باتیں کرکے، تو اللہ نے قرآن مجید میں اس بات کی دو دفعہ وضاحت کی اللہ پاک ایک دفعہ بھی clear(واضح) کر دیتا تو کافی تھا لیکن اللہ نے دو دفعہ وضاحت کی کہ کوئی ambiguity(ابہام) نہ رہے

’’وَلَا تَزِرُ ‌وَازِرَة وِزرَ أُخرَىٰ‘‘

(ترجمہ) کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔سورہ فاطر،18۔

’’وَلَا تَزِرُ ‌وَازِرَة وِزرَ أُخرَىٰ‘‘

(ترجمہ) کوئی شخص کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔سورہ النجم، 38۔

اس بارے میں راہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ تحریر میں سورہ نور کی آیت نمبر 26 کے ترجمے کے حوالے سے جو بات کہی گئی ہے وہ کسی قابل اعتبار دلیل پر مبنی نہیں اور کسی قابل اعتبار دلیل کے بغیر قرآن کی کسی آیت کے مفہوم کو خاص کرلینا اور عام مفہوم کی تغلیط کرنا گمراہی کی بات ہے، تفصیل یہ ہے:

(۱) مذکورہ تحریر میں آیت کا مفہوم سیاق و سباق کو سامنے رکھ کر متعین کیا گیا ہے جیسا کہ مذکورہ تحریر میں ہے

“سورہ نور کی آیت کے آگے اور پیچھے کی آیت کو پڑھا جائے تو صاف پتا چلتا ہے کہ یہاں پر آخرت کی بات ہو رہی ہے نہ کہ دنیا کی”

حالانکہ کسی آیت کے آگے پیچھے کی آیت میں (سیاق و سباق میں) اگر آخرت کی بات ہو رہی ہو تو نہ یہ ضروری ہے  اور نہ ہی یہ کوئی اصول ہے کہ درمیان کی آیت بھی آخرت سے متعلق ہو۔ لہذا محض آگے پیچھے کی آیات کے پیش نظر مذکورہ آیت کے مفہوم کو آخرت کے ساتھ خاص کرنا درست نہیں۔

(۲) مذکورہ تحریر میں ’’الخبیثات‘‘ سے مراد بری عورتیں لی گئی ہیں۔ حالانکہ اکثر مفسرین نے اس سے “بری باتیں” مراد لی ہیں اور اس آیت کے سیاق و سباق اور بالخصوص آخری حصے ’’أُوْلَٰٓئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ‘‘ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہےکہ مراد “بری باتیں” ہیں۔ اور ’’الخبیثات‘‘ سے “بری باتیں” مراد ہونے کی صورت میں آیت کے مفہوم کو آخرت کے ساتھ خاص کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔

(۳) مذکورہ تحرير میں “بری عورتوں” سے مراد “کافر عورتیں”  لی گئی ہیں جو اصل اشکال کی وجہ ہے، حالانکہ “بری عورتوں” سے مراد “کافر عورتیں” نہیں بلکہ بدکار عورتیں ہیں اور حضرت نوح علیہ السلام کی بیوی اگرچہ کافر تھی لیکن بدکار نہیں تھی چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ پیغمبر کی عورت بدکار نہیں ہوتی۔

تفسير امام عبد الرزاق صنعانی ؒ (ح: 1233۔2/ 195) میں ہے:

 ”عن الثوري، عن أبي عامر الهمداني، عن الضحاك بن مزاحم، عن ابن عباس، قال: «‌ما ‌بغت ‌امرأة ‌نبي ‌قط»، وقوله تعالى: {إنه ليس من أهلك} الذين وعدتك أن أنجيهم معك“

تفسير الطبری (سورہ تحریم، آیت نمبر10۔23/ 498) میں ہے:

”عن الضحاك (كانتا تحت عبدين من عبادنا صالحين) قال: ‌ما ‌بغت ‌امرأة ‌نبي ‌قط (فخانتاهما) قال: في الدين خانتاهما“

(۴) مذکورہ تحریر میں “بری عورتیں برے مردوں کے لیے ہیں” کا مطلب یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ دنیا میں کوئی بری عورت کسی نیک مرد کی بیوی نہیں ہو سکتی حالانکہ آیت میں بیوی ہونے کا کچھ تذکرہ نہیں بلکہ آیت کا مطلب صرف اتنا ہے کہ بری باتیں یا بری عورتیں برے لوگوں کے لائق ہیں اور اچھی باتیں یا اچھی عورتیں اچھے لوگوں کے لائق ہیں۔

اسی طرح مذکورہ تحریر میں دوسری بات کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ بھی محض ايك جذباتی بات ہے دلیل سے اس کا کچھ تعلق نہیں جس کی تفصیل یہ ہے کہ امام غزالی رحمہ اللہ کے حوالے سے جو بات ذکر کی گئی ہے وہ دراصل امام شافعی رحمہ اللہ کے ایک شعر کا مفہوم ہے جو یہ ہے:

ديوان الامام الشافعی(ص: 12)میں ہے:

عفوا تعف نساؤكم في المحرم … وتجنبوا ما لا يليق بمسلم

إن الزنا دين فإن أقرضته … كان الوفاء من أهل بيتك فاعلم

(ترجمہ) تم پاک دامن رہو قابل حرمت چیزوں میں، تمہاری عورتیں پاک دامن رہیں گی، اور بچو اس چیز سے جو ایک مسلمان کے شایان شان نہیں، یقینا زنا ایک قرض ہے اگر تو کسی کو دے گاتو، تو یہ جان لے کہ اس کا بدلہ تیرے گھر والوں سے پورا ہوگا۔

اور اس شعر کا ماخذ  وہ حدیث ہے جو مستدرک حاکم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور معجم اوسط میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ “عفوا تعف نسائكم” ترجمہ: تم پاک رہو تمہاری عورتیں پاک رہیں گی، اور ابوبكر الشافعی رحمہ اللہ کی “الغیلانیات” میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

 “عفوا تعف نساؤكم إن بني فلان زنوا فزنت نساؤهم”

ترجمہ: تم پاک رہو تمہاری عورتیں پاک رہیں گی، بنی فلاں (فلاں کے بیٹوں)  نے زنا کیا تو ان کی عورتوں نے بھی زنا کیا۔

اور اس شعر اور مذکورہ احادیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر ایک شخص گناہ کرے گا تو اس کا بوجھ دوسرے کو اٹھانا پڑے گا جیسا کہ مذکورہ تحریر میں سمجھ لیا گیا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب آدمی زنا کرتا ہے تو اس کے اثرات اس کے گھر والوں پر بھی پڑتے ہیں (جیسے نیکی کے اثرات پاس رہنے والوں پر پڑتے ہیں) اور اس گناہ کی نحوست کی وجہ سے اس کے متعلقین یعنی بیوی، بچوں یا ماں، بہن وغیرہ میں اس گناہ کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ بیوی بچے اپنے ارادے سے زنا کربیٹھتے ہیں اور پھر اس کی پریشانی اس زنا کرنے والے کو بھی ہوتی ہے۔

اور جو آیات مذکورہ تحریر میں ذکر کی گئی ہیں ان کا مطلب صرف یہ ہے کہ کل قیامت کے دن ہر آدمی اپنے گناہ کے بوجھ کو خود اٹھائے گا یہ نہ ہو گا کہ اس کے گناہ کے بوجھ کو کوئی دوسرا اٹھالے اور پہلا فارغ ہوجائے جیسا کہ سورہ عنکبوت آیت نمبر12 سے معلوم ہو رہا ہے چنانچہ بیان القرآن میں اسی آیت کی تفسیر میں ہے:

“اور کفار مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم (دین میں) ہماری راہ چلو اور (قیامت میں) تمہارے گناہ (جو کفر و معاصی سے ہوں گے) ہمارے ذمہ (اور تم سبکدوش) حالانکہ یہ لوگ ان کے گناہوں میں سے ذرا بھی (اس طور پر کہ سبکدوش ہوجاویں) نہیں لے سکتے”۔

تفسير البغوی (6/ 28) میں ہے:

”قوله عزوجل: الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ قال أكثرالمفسرين: الخبيثات من القول والكلام للخبيثين من الناس. وَالْخَبِيثُون من الناس، لِلْخَبِيثَاتِ من القول، والكلام، وَالطَّيِّبَاتُ من القول، لِلطَّيِّبِينَ من الناس، وَالطَّيِّبُونَ من الناس، لِلطَّيِّبَاتِ من القول، والمعنى: أن الخبيث من القول لا يليق إلا بالخبيث من الناس والطيب لا يليق إلا بالطيب من الناس، فعائشة لا يليق بها الخبيثات من القول لأنها طيبة رضي الله عنها فيضاف إليها طيبات الكلام من الثناء الحسن وما يليق بها“

روح المعانی (18/ 131)میں ہے:

”أي الخبيثات من النساء للخبيثين من الرجال أي مختصات بهم لا يتجاوزنهم إلى غيرهم على أن اللام للإختصاص والخبيثون أيضا للخبيثات لأن المجانسة من دواعي الإنضمام والطيبات منهن للطيبين منهم والطيبون أيضا للطيبات منهن بحيث لا يتجاوزونهن إلى من عداهن وحيث كان رسول الله صلى الله عليه و سلم أطيب الأطيبين وخيرة الأولين والآخرين تبين كون الصديقة رضي الله تعالى عنها من أطيب الطيبات بالضرورة واتضح بطلان ما قيل فيها من الخرافات حسبما نطق به قوله سبحانه : أولئك مبرءون مما يقولون على أن الإشارة إلى أهل البيت النبوي رجالا ونساء ويدخل في ذلك الصديقة رضي الله تعالى عنها دخولا أوليا وقيل : إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم والصديقة وصفوان“

المستدرك للحاكمؒ (6/ 131) میں ہے:

”عن أبي هريرة رضي الله عنه قال :قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : عفوا عن نساء الناس تعف نساؤكم و بروا آباءكم تبركم أبناؤكم“

المعجم الأوسط  (6/ 240) میں ہے:

”عن عائشة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال عفوا تعف نساؤكم وبرواآباءكم يبركم أبناؤكم“

’’الفوائد‘‘ الشهير بالغيلانيات لابی بكر الشافعیؒ (1/ 139) میں ہے:

”وبإسناده عن علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تزنوا فتذهب لذة نسائكم من أزواجكم وعفوا تعف نساؤكم إن بني فلان زنوا فزنت نساؤهم“

فيض القدير للمناویؒ (4/ 318) میں ہے:

”( عفوا تعف نساؤكم ) أي عفوا عن الفواحش تكف نساؤكم عنها وخرج الديلمي عن علي مرفوعا لا تزنوا فتذهب لذة نسائكم وعفوا تعف نساؤكم إن بني فلان زنوا فزنت نساؤهم“

تفسیر عثمانی (ص:470)میں ہے:

ف ٦  یعنی بدکار اور گندی عورتیں گندے اور بدکار مردوں کے لائق ہیں ۔ اسی طرح بدکار اور گندے مرد اس قابل ہیں کہ ان کا تعلق اپنے جیسی گندی اور بدکار عورتوں سے ہو ۔ پاک اور ستھرے آدمیوں کا ناپاک بدکاروں سے کیا مطلب۔ ابن عباسؓ  نے فرمایا کہ پیغمبر کی عورت بدکار (زانیہ) نہیں ہوتی، یعنی اللہ تعالیٰ ان کی ناموس کی حفاظت فرماتا ہے۔ نقلہ فی موضح القرآن۔

(تنبیہ) آیت کا یہ مطلب تو ترجمہ کے موافق ہوا۔ مگر بعض مفسرین سلف سے یہ منقول ہے کہ “الخبیثات” اور “الطیبات” سے یہاں عورتیں مراد نہیں ۔ بلکہ اقوال و کلمات مراد ہیں ۔ یعنی گندی باتیں گندوں کے لائق ہیں ۔ اور ستھری باتیں ستھرے آدمیوں کے۔ پاکباز اور ستھرے مرد و عورت ایسی گندی تہمتوں سے بری ہوتے ہیں جیسا کہ آگے (”اُولىِٕكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا يَقُوْلُوْنَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ“. النور:26) سے ظاہر ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ گندی باتیں گندوں کی زبان سے نکلا کرتی ہیں تو جنہوں نے کسی پاکباز کی نسبت گندی بات کہی، سمجھ لو کہ وہ خود گندے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved