- فتوی نمبر: 36-110
- تاریخ: 04 اگست 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > اصول دین
استفتاء
کیا تقدیر دعا سے تبدیل ہوسکتی ہے؟ اگر تبدیل ہوسکتی ہے تو کونسی تقدیر ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
تقدیر کی دو قسمیں ہیں:
(1) تقدیر مبرم ۔(2) تقدیر معلق ۔
پہلی قسم تقدیر مبرم یہ آخری فیصلہ ہوتا ہے اس میں تبدیلی ناممکن ہے ۔
دوسری قسم تقدیر معلق ہے اس میں اللہ تعالی کی طرف سے یہ وعدہ ہوتا ہے کہ ہم اس کے نیک عمل اور دعا کے ساتھ ہی اس کی تقدیر بھی بدل دیں گے اور یہ تبدیلی بھی تقدیر ہی میں شامل ہوتی ہے اور اس کا مطلب اللہ کے علم میں تبدیلی بھی نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بھی ہے کہ بندہ یہ نیک عمل ودعا کرے گا یا نہیں ، لہٰذا علم الہٰی کے اعتبار سے سب مبرم ہی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
يمحو الله ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب [الرعد، آيت: 39]
ترجمہ: اللہ جس (لکھے ہوئے)کو چاہتا ہے مٹادیتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) ثبت فرما دیتا ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب (لوح محفوظ) ہے۔
جامع ترمذی (رقم الحدیث: 2139) میں ہے:
ولا يرد القدر إلا الدعاء، ولا يزيد في العمر إلا البر
ترجمہ :صرف دعا ہی قضا کو ٹالتی ہے اور صرف نیکی ہی عمر میں اضافہ کرتی ہے ۔
مرقاۃ المفاتیح (4/1528) میں ہے:
(وعن سلمان الفارسي) : بكسر الراء وتسكن (قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” «لا يرد القضاء إلا الدعاء» “: القضاء: هو الأمر المقدر، وتأويل الحديث أنه أراد بالقضاء ما يخافه العبد من نزول المكروه به ويتوقاه، فإذا وفق للدعاء دفعه الله عنه، فتسميته قضاء مجاز على حسب ما يعتقده المتوقي عنه، يوضحه قوله – صلى الله عليه وسلم – في الرقي: هو من قدر الله، وقد أمر بالتداوي والدعاء مع أن المقدور كائن لخفائه على الناس وجودا وعدما، ولما بلغ عمر الشام وقيل له: إن بها طاعونا رجع، فقال أبو عبيدة أتفر من القضاء يا أمير المؤمنين! فقال: لو غيرك قالها يا أبا عبيدة، نعم نفر من قضاء الله إلى قضاء الله، أو أراد برد القضاء إن كان المراد حقيقته تهوينه وتيسير الأمر، حتى كأنه لم ينزل. يؤيده قوله في الحديث الآتي: «الدعاء ينفع مما نزل ومما لم ينزل» ، وقيل: الدعاء كالترس، والبلاء كالسهم، والقضاء أمر مبهم مقدر في الأزل ” ولا يزيد في العمر “: بضم الميم وتسكن ” إلا البر “: بكسر الباء وهو الإحسان والطاعة. قيل: يزاد حقيقة. قال تعالى: {وما يعمر من معمر ولا ينقص من عمره إلا في كتاب} [فاطر: 11] وقال: {يمحو الله ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب} [الرعد: 39] .
وذكر في الكشاف أنه لا يطول عمر إنسان ولا يقصر إلا في كتاب. وصورته: أن يكتب في اللوح إن لم يحج فلان أو يغز فعمره أربعون سنة، وإن حج وغزا فعمره ستون سنة، فإذا جمع بينهما فبلغ الستين فقد عمر، وإذا أفرد أحدهما فلم يتجاوز به الأربعين فقد نقص من عمره الذي هو الغاية وهو الستون، وذكر نحوه في معالم التنزيل، وقيل: معناه أنه إذا بر لا يضيع عمره فكأنه زاد، وقيل: قدر أعمال البر سببا لطول العمر، كما قدر الدعاء سببا لرد البلاء، فالدعاء للوالدين وبقية الأرحام يزيد في العمر، إما بمعنى أنه يبارك له في عمره فييسر له في الزمن القليل من الأعمال الصالحة ما لا يتيسر لغيره من العمل الكثير، فالزيادة مجازية؛ لأنه يستحيل في الآجال الزيادة الحقيقية.
قال الطيبي: اعلم أن الله تعالى إذا علم أن زيدا يموت سنة خمسمائة استحال أن يموت قبلها أو بعدها، فاستحال أن تكون الآجال التي عليها علم الله تزيد أو تنقص، فتعين تأويل الزيادة أنها بالنسبة إلى ملك الموت أو غيره ممن وكل بقبض الأرواح، وأمره بالقبض بعد آجال محدودة، فإنه تعالى بعد أن يأمره بذلك أو يثبت في اللوح المحفوظ ينقص منه أو يزيد على ما سبق علمه في كل شيء وهو بمعنى قوله تعالى: {يمحو الله ما يشاء ويثبت وعنده أم الكتاب} [الرعد: 39] وعلى ما ذكر يحمل قوله – عز وجل -: {ثم قضى أجلا وأجل مسمى عنده} [الأنعام: 2] فالإشارة بالأجل الأول إلى ما في اللوح المحفوظ، وما عند ملك الموت وأعوانه، وبالأجل الثاني إلى ما في قوله تعالى: {وعنده أم الكتاب} [الرعد: 39] وقوله تعالى: {إذا جاء أجلهم فلا يستأخرون ساعة ولا يستقدمون} [يونس: 49] والحاصل أن القضاء المعلق يتغير، وأما القضاء المبرم فلا يبدل ولا يغير
تحفۃ الابرار شرح مصابیح السنۃ ، للبیضاوی (9/450) میں ہے:
وقد سبق في (باب الإيمان بالقدر): أن القضاء قسمان جازم لا يقبل الرد والتعويق ومعلق: وهو أن يقضي الله أمرا كان مفعولا ما لم يرده عائق وذلك العائق لو وجد كان ذلك أيضا قدرا مقضيا كما روي أنه عليه السلام سئل فقيل: يا رسول الله! أرأيت رقى نسترقيها وتقاة نتقيها ودواء نتداوى به أيرد ذلك من قدر الله شيئا؟ قال “هي من قدر الله”
امداد الفتاوی (11/587) میں ہے:
سوال: ……………. چونکہ تقدیر کے متعلق نہ بدلنے کا عقیدہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ جو تقدیر میں لکھا گیا وہ ہوئے بغیر نہ رہے گا، خواہ سعی کرے یا نہ کرے، چنانچہ کلام مجید کی آیت سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ فإذا جاء أجلهم لا یستاخرون ساعة وّلا یستقدمون. مگر دوسری آیت: یمحو الله مایشاء و یثبت وعنده أم الکتاب سے ہر دو آیات میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے، کیونکہ آیت ثانی کی تفسیر موضح القرآن میں یہ کی ہے ’’مٹاتا ہے اللہ جس کو چاہتا ہے اور قائم رکھتا ہے جسے چاہے، جو ام الکتاب یعنی لوح محفوظ میں ہے، پس اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تقدیر میں تغیر وتبدل بھی ممکن ہے، پھر تقدیر نہ بدلنے کا عقیدہ اور یقین پختہ طور سے کیسے جم سکتا ہے؟
الجواب: عدم تبدل تقدیر کا عقیدہ صحیح اور قطعی ہے، اور جس آیت سے شبہ ہوتا ہے، وہاں اصلی تقدیر مراد نہیں فرعی تقدیر مراد ہے، اول کوتقدیر مبرم دوسری کو معلّق کہتے ہیں اور اگر اس آیت کی دوسری تفسیر کی جاوے جیسا میری تفسیر میں ہے تو شبہ ہی نہیں ہوتا۔
فتاویٰ محمودیہ (1/211) میں ہے:
سوال:۔تقدیر کا فیصلہ اٹل ہے قلم لکھ چکے صحیفے سوکھ چکے ،قلم اٹھ گیا، اب معترض اعتراض کرتا ہے، کہ جب فیصلہ ہوچکاتوپھر بندہ پرسزا اورجزا کیوں ؟ مثلاً کسی نے خودکشی کی تواس پرسزا کیو ں؟ اورتقدیر کی کتنی قسمیں ہیں ؟
الجواب حامداً ومصلیاً!:تقدیر کافیصلہ اٹل ہے ، سزاجزا کو بھی تقدیرہی کا فیصلہ مان لیا جائے تو کیا اشکال ہے؟تقدیر حقیقۃً ایک ہی قسم کی ہے جو کہ اٹل ہے، جسکو عر بی میں مبر م کہتے ہیں، اوردوسر ی جو قسم بعض عبارات میں ملتی ہے ، وہ بندوں کے اعتبار سے ہے جس کو معلق کہتے ہیں ، نہ کہ علم الٰہی کے اعتبار سے۔
بوادر النوادر (4/186) میں ہے:
سوال: میری چھوٹی لڑکی جس کی عمر تقریبا دو سال کی تھی، بہ عارضۂ خسرہ چند یوم علیل رہ کر راہی ملکِ بقا ہوئی۔ اس کے انتقال سے اس کی والدہ اور دیگر اعزہ کو بہت کافی صدمہ اور رنج ہوا۔ میں نے حتی الامکان ان کو صابر رہنے کی تلقین کی، اور ساتھ ہی وعظ کا اہتمام مکان پر اس غرض سے کیا کہ اغلباً مولوی صاحب کے پند و نصائح زیادہ اطمینان وتشفی بخش ثابت ہوں گے۔چناں چہ دوران وعظ میں مولوی صاحب نے قرآن شریف اور حدیث شریف کی روشنی میں صبر کرنے کی ہدایت فرمائی مگر ساتھ ہی موت کے مؤجل ہونے کو مقدر فرماتے ہوئے تقدیر کو دوشقوں میں تقسیم فرمایا : ایک معلق ، دوسرے مبرم ۔ اور معلق کی مثالیں بیان فرمائیں ؛ مثلاً بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ امر کے متعلق یہ مقدر ہوتا ہے کہ اگر فلاں بزرگ دعا فرمائیں گے، تو کام ہو جائے گا، یا اگر فلاں طبیب کے زیر علاج یہ بیمار رہے گا، تو شفا پا جائے گا ، یا فلاں دوا اگر استعمال کی جائے گی ، تو بیماری کا ازالہ ہو جائے گا۔
نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ وعظ کے ختم ہونے کے بعد رنج وصدمے میں بہ جائے تخفیف کے شدت ہوگئی اور یہ وہم پیدا ہونے لگا کہ کاش فلاں حکیم صاحب، یا فلاں ڈاکٹر صاحب کو دکھایا ہوتا ، تو لڑکی کو صحت ہو جاتی، جیسا کہ دوران علاج میں دیگر اعز ہ نے مشورہ دیا تھا ؛ چونکہ لڑکی میرے ہی زیر علاج تھی اور دوران علاج میں کئی ایک مفید مرض دواؤں کا خیال آیا تھا ، جن کا استعمال چند وجوہات کی بنا پر مسترد کر دیا تھا ؟ اب مجھے بھی یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید ان ہی کے استعمال سے فائدہ پہنچ جاتا۔بہر حال میں بھی خلجان وفکر میں پڑ گیا؛ لہذا جناب سے ملتجی ہوں کہ حضور والا اول تو اس مسئلے پر روشنی ڈال کر ممنون فرمائیں کہ آیا حقیقت میں قرآن شریف کے الفاظ صراحۃً اس تقسیم معلق ومبرم کے متحمل یا دال ہیں ، یا کسی حدیث شریف سے اس تقسیم کا استنباط ہوتا ہے، یا محض کسی مفسر کی عقل وفہم کا نچوڑ ہے ؟ دوم حضرت والا کوئی ایسی تدبیر فرماویں، جس سے میں اپنے اہل خانہ کے اس رنج و فکر کو دفع کر سکوں اور ساتھ ہی اپنے اس خلجان کو بھی رفع کر سکوں۔ جزاک الله خير الجزاء.
الجواب :برخورداری کے سانحے سے رنج ہوا اللہ تعالی اس کو والدین کے لیے ذخیرہ آخرت بنا دے۔ مسئلے کی تحقیق یہ ہے کہ تقسیم تقدیر صحیح ہے، مگر تتمیمِ تقریر کی ضرورت تھی ، اس کی کمی رہی ۔ اس تقسیم کا حاصل تو محض ارتباط ہے درمیان اسباب و مسببات کے، جو کہ منصوص بھی ہے اور مشاہد بھی ؛ اور یہ کافی دلیل ہے۔ یہ تو تقسیم کے متعلق کلام تھا۔اور وہ تتمیم یہ ہے کہ جس کا نام تقدیرِ معلق رکھا گیا ہے، اس میں جو دو شقیں ہیں ، خود اُن میں ایک شق کا تحقیق و وقوع مبرم ہے ۔ مثلاً یہ امر مقدر مفروض ہے کہ اگر فلاں تدبیر کی جاوے گی ، تو صحت ہو جاوے گی ، تو اس کے ساتھ ہی یہ بھی مقدر ومعین و طے شدہ ہے کہ وہ تدبیر مثلا ًواقع نہ ہوگی تو یہ عدم وقوع تقدیر مبرم ہے، تو تقدیر معلق کا مرجع اخیر وہی تقدیرِ مبرم ہوا، اور وہ تقسیم ِ مذکور محض صوری ولفظی ہے، حقیقی و معنوی نہیں ۔
پس اب اس میں نہ کوئی اشکال ہے ، نہ یہ کسی وہم اور وسوسہ وخلجان کا منشا ہو سکتا ہے؛ کیوں کہ اس تحقیق کا حاصل یہ ہوا کہ ہر تقدیر مبرم ہی ہے، حتی کہ جس کو معلق کہا جاتا ہے ، وہ بھی مبرم ہی ہے، محض اصطلاحاً اس کو معلق کہا جاتا ہے، جب واقع میں کوئی تقدیر حقیقۃً معلق ہی نہیں اور منشائے اشکال تقدیر معلق تھی ؟ اس لیے اب کوئی اشکال بھی نہ رہا۔ فقط
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved