• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مسجد کے فنڈ سے واٹر ہارویسٹنگ / واٹر ری چارج سسٹم کا نظم بنانا

استفتاء

میں***جامع مسجد فاروق اعظم سٹریٹ نمبر *** کی انتظامی کمیٹی کا رکن اور خازن ہوں۔حالیہ طور پر سی ڈی اے (CDA) کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ چھ ماہ کے اندر اندر بارش کے پانی کو محفوظ کرنے( Rain Water Harvesting) کا نظام قائم کیا جائے بصورت دیگر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

ہمارے علاقے ***میں پانی کی شدید  قلت پائی جاتی ہے، اور زیر زمین پانی کی سطح بہت نیچے جا چکی ہے۔ ہماری مسجد میں چار بورنگز تقریباً 500 فٹ تک کروائی گئیں، لیکن پانی دستیاب نہ ہو سکا۔موجودہ حالات کے پیش نظر مسجد کی انتظامیہ یہ ارادہ رکھتی ہے کہ بارش کے پانی اور وضو میں استعمال ہونے والے پانی کو محفوظ کرکے انہی بورز کے ذریعے زمین میں ری چارج( Water Recharge System )کیا جائے، تاکہ پانی کے مسئلے میں بہتری آ سکے۔

اس منصوبے پر تقریباً 150,000 روپے خرچ متوقع ہے، جبکہ مسجد کے اکاؤنٹ میں اس وقت تقریباً 700,000 روپے موجود ہیں، جو عمومی طور پر مسجد کے اخراجات، دیکھ بھال اور عملہ کی تنخواہوں کے لیے مختص ہیں۔

از راه کرم شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا مسجد کے موجودہ فنڈ سے اس واٹر ہارویسٹنگ / واٹر ری چارج سسٹم پر خرچ کرنا جائز ہے؟ یا اس مقصد کے لیے الگ سے مخصوص چنده (Donations) اکٹھا کرنا ضروری ہوگا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

واٹر ہار ویسٹنگ پر مسجد کے موودہ فنڈ سے  پیسے لگانا جائز ہے ۔

توجیہ:  مذکورہ صورت میں چونکہ اس پانی سے مسجد کے بور میں پانی جائے گا جس سے اس کے بند  بور بھی چل پڑیں گے لہذا اس میں مسجد کا نفع ہے اور مسجد کے چندے کو مسجد کے مصالح کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

شامی (4/367) میں ہے:

‌والذي ‌يبدأ ‌به ‌من ‌ارتفاع الوقف أي من غلته عمارته شرط الواقف أولا ثم ما هو أقرب إلى العمارة، وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد، والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم، ثم السراج والبساط كذلك إلى آخر المصالح

فتاویٰ محمودیہ (15/59) میں ہے:

سوال: مسجد کے لیے ہمارے گاؤں کی کچھ زمین مسجد بن جانے کے بعد متفرق کاموں کیلئے  وقف ہوئی ہے کسی میں مسجد بنانے کا ذکر ہے کسی میں مرمت کرانے کا ذکر ہے کسی میں روز مرہ ضروریات کا ذکر ہے کسی میں مسجد کی زیبائش اور آرائش کا ذکر ہے اب ان زمینوں کی مخلوط آمدنی سے نمازیوں کی سہولت کے لیے غسل خانہ بیت الخلاء امام صاحب کی قیام گاہ وغیرہ وغیرہ بنانا درست ہے یا نہیں ؟

جواب : مسجد سے متعلق زمینوں کی آمدنی سے مذکور ضروریات بنانا اور ان میں حسب مصالح وہ روپیہ خرچ کرنا شرعاً درست ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved