- فتوی نمبر: 36-249
- تاریخ: 29 ستمبر 2026
- عنوانات: عقائد و نظریات > قرآن کریم
استفتاء
میرا ایک عقیدتی و تفسیری اشکال ہے، جس کی وضاحت قرآن و سنت کی روشنی میں مطلوب ہے۔
قرآنِ مجید میں ایک طرف یہ آیات وارد ہوئی ہیں:
﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ﴾(سورة الزمر: 30)
ترجمہ: بے شک آپ کو بھی وفات آنی ہے اور انہیں بھی وفات آنی ہے۔
﴿كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ﴾(سورة آل عمران: 185، الأنبیاء: 35، العنکبوت: 57)
ترجمہ:ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔
اور دوسری طرف قرآنِ مجید میں شہداء کے متعلق فرمایا گیا:
﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِنْ لَا تَشْعُرُونَ﴾(سورۃ البقرة: 154)
اور ایک اور مقام پر فرمایا:
﴿بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ﴾(سورة آل عمران: 169)
میرے اشکالات درج ذیل ہیں:
1۔ جب قرآن میں ” كل نفس ذائقة الموت” فرمایا گیا ہے تو پھر شہداء کے متعلق ” بل أحياء“فرمانے کی حقیقت کیا ہے؟
2۔ اگر شہداء زندہ ہیں، تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں ان کی میراث تقسیم ہوئی ان کی ازواج نے عدت کے بعد نکاح کیے، اور ان پر وفات کے احکام جاری ہوئے تو “حیات”سے کیا مراد ہے؟
3۔ علماء فرماتے ہیں کہ برزخی زندگی صرف شہداء کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ ہر مرنے والے کو حاصل ہوتی ہے؛ مؤمن کو نعمت اور کافر کو عذاب بھی ہوتا ہے۔تو پھر قرآن نے خصوصیت کے ساتھ صرف شہداء ہی کے بارے میں کیوں فرمایا”بَلْ أَحْيَاءٌ”
4۔ آیت میں خاص طور پر وَلكِنْ لَا تَشْعُرُونَ“کی قید کیوں لگائی گئی؟
5۔ اگر “لا تشعرون” کا مطلب یہ ہے کہ شہداء کی حیات دنیا والوں کے شعور و ادراک سے مخفی ہے، تو برزخی زندگی تو عام مردوں کی بھی غیر محسوس ہوتی ہے؛ پھر یہ قید خصوصاً شہداء کے ذکر میں کیوں آئی؟
6۔ “بل أحياء” فرمانے کی وجہ؟
7۔ ان آیات میں موت،حیات اور برزخی زندگی کے مفاہیم کی اور آیات کی صحیح تطبیق کیا ہے تاکہ کسی قسم کا تعارض یا اشتباہ باقی نہ رہے؟
براہِ کرم قرآن، احادیث، اقوالِ صحابہ، مفسرین، کی تصریحات کے ساتھ مفصل رہنمائی فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
پہلی دو آیتوں کا حاصل یہ ہے کہ ہر جاندار کو موت آتی ہے حتی کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی موت آئی ہے اور شہید بھی مقتول ہونے (مرنے )کے بعد ہی شہید کہلاتا ہے یعنی شہید کو بھی موت آتی ہے اور شہید بھی مرتا ہے اور دوسری دو آیتوں کا مفہوم یہ ہے کہ عام اموات کی طرح شہداء کو بھی مرنے کے بعد حیات ملتی ہے تاہم شہداء کی حیات عام اموات کو حاصل ہونے والی حیات سے اعلی درجے کی ہوتی ہے اس لیے شہداء کے بارے میں خصوصیت سے یہ فرمایا کہ ان کو اموات مت کہو بلکہ یہ احیا ہے یہ الگ بات ہے کہ دیگر اموات کی حیات کی طرح ان کی حیات کا بھی تمہیں شعور نہیں کیونکہ تم میں عالم دنیا کی چیزوں کے شعور کی تو صلاحیت ہے عالم آخرت کی چیزوں کے شعور کی صلاحیت نہیں۔
نیز جب شہداء کو عام اموات سے اعلی درجہ کی حیات حاصل ہے تو حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کو شہداء سے بھی اعلی درجے کی حیات حاصل ہے جس کا اثر بعض دنیاوی احکام پر بھی پڑتا ہے مثلاً عدت نہ ہونے پر اور آگے نکاح نہ کرسکنے پر اور میراث نہ ہونے پر جبکہ شہداء کی حیات کا اثر دنیاوی احکام پر نہیں پڑتا سوائے اس کے کہ انہیں عام اموات کی طرح غسل نہیں دیا جاتا اور اس کے بدن کے کپڑے نہیں اتارے جاتے بلکہ انہیں غسل دیے بغیر ان کے خون اور ان کے کپڑوں سمیت دفن کیا جاتا ہے خلاصہ یہ ہے کہ مرنا تو سب نے ہے اور مرنے کے بعد حیات بھی سب کو حاصل ہے تاہم سب کی حیات ایک جیسی نہیں بعض کی حیات کا اثر دنیاوی احکام میں زیادہ ہےبعض کا کم اور بعض کا اس سے بھی کم ۔ باقی عدم شعور میں سبب برابر ہیں۔
روح المعانی (1/420) میں ہے:
وليس في الآية نهي عن نسبة الموت إليهم بالكلية بحيث إنهم ما ذاقوه أصلا ولا طرفة عين، وإلا لقال تعالى: ولا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله ماتوا، فحيث عدل عنه إلى ما ترى علم أنهم امتازوا بعد أن قتلوا بحياة لائقة بهم مانعة عن أن يقال في شأنهم: أموات.
تفسیر بغوی (7/237) میں ہے:
{لا يذوقون فيها الموت إلا الموتة الأولى} أي سوى الموتة التي ذاقوها في الدنيا.
تفسیر ابن کثیر (2/128) میں ہے:
وقوله تعالى: {ولا تقولوا لمن يقتل في سبيل الله أموات بل أحياء} يخبر تعالى أن الشهداء في برزخهم أحياء يرزقون.
تفسیر طبری (3/216) میں ہے:
فما الذي خص به القتيل في سبيل الله مما لم يعم به سائر البشر غيره من الحياة وسائر الكفار والمؤمنين غيره أحياء في البرزخ، أما الكفار فمعذبون فيه بالمعيشة الضنك، وأما المؤمنون فمنعمون بالروح والريحان ونسيم الجنان؟ قيل: إن الذي خص الله به الشهداء في ذلك وأفاد المؤمنين بخبره عنهم تعالى ذكره إعلامه إياهم أنهم مرزوقون من مآكل الجنة ومطاعمها في برزخهم قبل بعثهم، ومنعمون بالذي ينعم به داخلوها بعد البعث من سائر البشر من لذيذ مطاعمها الذي لم يطعمها الله أحدا غيرهم في برزخه قبل بعثه.
روح المعانی (1/420) میں ہے:
إن نهي المؤمنين عن أن يقولوا في شأن الشهداء أموات، إما أن يكون دفعا لإيهام مساواتهم لغيرهم في ذلك البرزخ وتلك خصوصية لهم وإن شاركهم في النعيم بل وزاد عليهم بعض عباد الله تعالى المقربين ممن يقال في حقهم ذلك.
تفسیر بیضاوی (1/114) میں ہے:
وعليه جمهور الصحابة والتابعين، وبه نطقت الآيات والسنن، وعلى هذا فتخصيص الشهداء لاختصاصهم بالقرب من الله تعالى، ومزيد البهجة والكرامة.
بیان القرآن للتھانوی (2/88) میں ہے:
[وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَكِنْ لا تَشْعُرُونَ] اور جو لوگ اللہ کی راہ میں (یعنی دین کے واسطے ) قتل کئے جاتے ہیں ان کی ایسی فضیلت ہے کہ ان کی نسبت یوں بھی مت کہو کہ وہ ( معمولی مردوں کی طرح) مردے ہیں بلکہ وہ لوگ (ایک ممتاز حیات کے ساتھ ) زندہ ہیں لیکن تم (ان ) حواس سے ) اس حیات کا ادراک نہیں کر سکتے ۔
ف : ایسے مقتول کو شہید کہتے ہیں اور اس کی نسبت گو یہ کہنا کہ وہ مرگیا صحیح اور جائز ہے لیکن اس کی موت کو دوسرے مردوں کی کی موت سمجھنے کی ممانعت کی گئی ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ بعد مرنے کے گو برزخی حیات ہر شخص کی روح کو حاصل ہے اور اس سے جزاوسزا کا ادراک ہوتا ہے لیکن شہید کو اس حیات میں اور مردوں سے ایک گونہ امتیاز ہے اور وہ امتیاز یہ ہے کہ اس کی یہ حیات آثار میں اوروں سے قوی ہے جس طرح انملہ یعنی سرانگشت میں ذکا حس کہ آثار حیات سے ہے یہ نسبت عقب یعنی پاشنہ کے طباً و حساً قوی ہے حتی کہ شہید کی اس حیات کی قوت کا ایک اثر بر خلاف معمولی مردوں کے اس کے جسدِ ظاہری تک بھی پہنچا ہے کہ اس کا جسد باوجود مجموعہ گوشت و پوست ہونے کے خاک سے متاثر نہیں ہوتا اور مثل جسد زندہ کے صحیح سالم رہتا ہے جیسا کہ احادیث اور مشاہدات شاہد ہیں ۔ پس اس امتیاز کی وجہ سے شہداء کو احیاء کہا گیا اور ان کو دوسرے اموات کے برابر اموات کہنے کی ممانعت کی گئی اور یہی حیات ہے جس میں حضرات انبیاء علیہم السلام شہداء سے بھی زیادہ امتیاز اور قوت رکھتے ہیں حتی کہ بعد موت ظاہری کے سلامت جسد کے ساتھ ایک اثر اس حیات کا اس عالم کے احکام میں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مثل ازواج احیاء کے ان کی ازواج سے کسی کو نکاح جائز نہیں ہوتا اور ان کا مال میراث میں تقسیم نہیں ہوتا پس اس حیات میں سب سے قوی تر انبیا علیہم السلام میں پھر شہداء پھر اور معمولی مردے البتہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اولیاء و صالحین بھی اس فضیلت میں شہداء کے شریک ہیں ……….اور چونکہ برزخ حواس سے مدرک نہیں ہوتا اس لیے “ لا تشعرون ” فرمایا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved