- فتوی نمبر: 36-271
- تاریخ: 30 ستمبر 2026
- عنوانات: مالی معاملات > شرکت کا بیان > مشترکہ خاندانی نظام
استفتاء
فریق اول کا بیان:
ہم پانچ بھائی ہیں۔2006ء کے آٹھویں ماہ ہم نےدکان خریدی، دکان میں نےیعنی زید اور بڑے بھائی نے خریدی، پیسے ابو نے دیے تھے لیکن وہ پیسے مشترکہ تھے جو میں نے اور بڑے بھائی نے مزدوری کرکے ابو کو دیے تھے، میرے دو بھائی (خالد اور بکر ) گاؤں میں دکان کررہے تھے اور پانچواں بھائی عمر اس وقت چھوٹا تھا، چھ ماہ بعد ہم نے یعنی میں نے اور بڑے بھائی (واجد ) نے ابو کو باجی کی شادی کے لیے ایک لاکھ بیس ہزار روپے دیے، بعد میں گاؤں والی دکان ہم نے بیچ دی تو ہمارے بھائی خالد اور بکر بھی ادھر آگئے اور ادھر دوسری دکان شروع کی، پھر تقریباً 2010 میں ہم نے نو لاکھ کی ایک پراپرٹی خریدی، تقریباً سات لاکھ میں نے دیے اور بقیہ دو لاکھ واجد اور بکر نے ادا کیے۔ پھر تقریباً 2011ء میں واجد کے ساتھ جو دکان میں کررہا تھا وہ میں نے چھوڑ دی، اور پانچ ماہ میں نے گاؤں میں گذارے، گاؤں میں پانچ، چھ ماہ رہنے کے بعد میں واپس لاہور آیا تو بکر نے مجھے کہا کہ میں نے ادھار لیکر ایک تیسری دکان خریدی ہے اس میں کسی کے پیسے نہیں ہیں بلکہ یہ پیسے میں نے ساس اور ماسی سے ادھار لیے ہیں اور ان پیسوں سے دکان خریدی ہے، آپ اس دکان پر کام کریں اور یہ ادھار پیسے واپس کردیں، میں نے اسی دکان سے پیسے کمائے اور پیسے اتار دیے، بعد میں ابو اور بڑے بھائی (واجد ) نے دکان سیل کروادی، اس دکان کے ساڑھے تین لاکھ روپے ابو نے وصول کیے پھر میں دو ماہ گاؤں میں رہا پھر مجھے بڑے بھائی نے واپس پہلی والی دکان پر بلا لیا اس دکان کی مالیت تقریباً ڈھائی لاکھ روپے تھی اس وقت بڑے بھائی بیماری کی وجہ سے گاؤں چلے گئے اور وہ دکان میں چلاتا رہا، میں اس سوچ سے دکان چلا رہا تھا کہ میں نے اس تیسری دکان کے جو ساڑھے تین لاکھ روپے دیے تھے اس کے بدلے انہوں نے مجھے یہ ڈھائی لاکھ والی دکان دی ہے ۔ ابو اور واجد نے مجھے کہا تھا کہ اس دکان کے بارے میں تم سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، ادھر خالد نے بھی دوسری دکان بیچ دی تھی اور پنڈی چلے گئے تھے وہاں سے خالد نے مجھے فون کیا کہ میں نے پنڈی میں پارٹنرشپ پر دکان خریدی ہے مجھے پیسوں کی ضرورت ہے میں نے اس وقت خالد کو دو لاکھ چالیس ہزار بھیجے، تین ماہ پہلے واجد نے گاؤں میں مکان خریدا اس میں ،میں نے چار لاکھ روپے دے اس کے بعد بہنوں کے جہیز بھی میں نے اسی دکان سے ادا کیے پھر میں نے اس دکان سے پراپرٹی خریدی تقریبا تیس لاکھ روپے کاغذات سمیت لگ گئے جن میں سے مجھے دو لاکھ بڑے بھائی واجد نے اور ایک لاکھ ابو نے دیے اس پراپرٹی کے لیے میں نے گھر والوں کا سونا اور کچھ چھوٹی چھوٹی کمیٹیاں بھی بیچ دی تھیں، یہ دوسری پراپرٹی تھی، پہلی پراپرٹی میں میں نے سات لاکھ روپے دیے اور اس میں تقریباً ستائیس لاکھ دیے، اس کے بعد ہم نے کاروبار کے لیے تیسری پراپرٹی خریدی جس میں تقریباً پچپن لاکھ روپے میں نے ادا کیے اور سات لاکھ روپے بکر نے ادا کیے ، اس پراپرٹی میں میرا اور بکر کا پیسوں کے اعتبار سے حصہ طے ہوا تھا، پانچ لاکھ کا ابو کے لیے کیری ڈبہ بھی خریدا تھا، میں سترہ (17) سال پہلے سے یہ دکان خود چلا رہا ہوں، 2013 سے ہر بندے کا اپنا اپنا کاروبار تھا، پہلی پراپرٹی ہم نے 2010ء میں خریدی اور دوسری 2014ء میں لی اور تیسری تقریباً 2024ء میں لی۔
فریق دوم (ضیاء[والد اختر زادہ] ) کا بیان:
زید اور خالد کو میں نے 1,36,000 روپے کام کے لیے دیے تھے۔ اس کے بعد ہم نے پھاٹک پر ایک اور دکان خریدی، تقریباً ڈیڑھ سال وہ دکان کرتے رہے اور اس کا نفع بھی اس پہلی والی دکان پر آتا رہا جو دکان اس وقت زید اور بکر مل کر کیا کرتے تھے یہاں سے پھر ایک پراپرٹی مکان کی صورت میں خرید لی تقریبا اس وقت 9,70,000 روپے میں خریدی ، میرے ایک بیٹے بکر نے تقریبا 8 سال زید کے ساتھ کام کیا۔ دکان کی پراپرٹی میں ایک لاکھ میں نے دیے اور دو لاکھ روپے میرے بڑے بیٹے واجد نے دیے ہیں۔ 2006ء سے 2014ء تک میرے بیٹے زید کیساتھ میرے بیٹے بکر نے کام کیا، 2017ء سے میرے دوسرے بیٹے عمر نے 2023 تک کام کیا ہے جن کو کوئی معاوضہ نہیں ملا۔
جو بیان زید کرتا ہے کہ میں نے والد صاحب کو رقم واپس کی ہے وہ رقم میں نے بلکہ اس رقم سے بھی زیادہ اس کی شادی وغیرہ پر خرچ کی اور مکان بنا کر دیے۔ میری گذارش ہے کہ میرا بیٹا زید یہ کہتا ہے کہ یہ سب میرا ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ اس میں میرے جن بیٹوں نے کام کیا ہے ان کا بھی حصہ ہے اور میرا بھی حصہ ہے لہٰذا میری گذارش ہے کہ جتنی پراپرٹی اس کے نام ہے اس کے علاوہ اس نے کچھ رقم غبن بھی کی ہے اور ایک مشترکہ پراپرٹی زید نے اپنی بیوی کے نام بھی کی ہے اور دو پراپرٹیاں اپنے نام کی ہیں۔
زید کہتا ہے کہ میں نے بہنوں کی شادی پر 8،7 لاکھ روپے خرچ کیے، میں کہتا ہوں کہ کاروبار میں میرا ان کے ساتھ حصہ تھا اس لیے انہوں نے پیسے دیے اور اس کے دوسرے بھائی بکر کو میں نے کاروبار کے لیے پیسے دیے تھے انہوں نے بھی اتنے خرچ کیے ہیں۔
میرے بیٹے خالد نے بھی بہنوں کی شادی پر چالیس ہزار روپے خرچ کیے ہیں اور بیٹیوں کی شادی پر میں نے خود بھی خرچ کیے ہیں ۔
جو دکان اور مکان کی پراپرٹی مشترکہ کھاتے سے لی تھی وہ تقسیم نہیں ہوئی تھی مشترکہ کھاتہ چل رہا تھا ہر بیٹے کو میں نے ساڑھے چار تولے سونا بنا کر دیا ہے اور عمر کو ڈھائی تولہ سونا بنا کر دیا ہے، میرے پانچ بیٹے اور چھ بیٹیاں ہیں سب شریک تھے جب یہ گاؤں آتے تو خرچہ میرے پاس سے کرتے تھے میں کہتا ہوں کہ سارے میرے بچے ہیں میں فرق نہیں کرتا۔ یہ صرف لاہور کی پراپرٹیوں کا حساب ہے۔
میرے بیٹے بکر اور عمر ، خالد اور زید نے جتنا کام کیا ہے اس کے حساب سے رقم دی جائے۔
خالد کا بیان:
بھائی یہ جو آپ نے بھیجا ہے یہ تو تقریبا آدھا سچ ہے اور آدھا جھوٹ ہے، ہم پانچ بھائی اور پانچ بہنیں ہیں ، ہمارا سارا گھر مشترکہ تھا سب پیسے کما رہے تھے اور ایک ہی گھر میں جا رہے تھے ہمارے والد صاحب نے دوسری شادی کی ہے ، ہم سب بھائی بھی کما رہے تھے والد صاحب کو دے رہے تھے اور وہ پیسے انہوں نے اپنے پاس رکھے اور واپس ہمیں سب کو دیا اور ان پیسوں سے ہم نے یہ کاروبار بنایا ہے اور یہ سارا نظام بنایا ہے ہمارے والد صاحب ان پڑھ اور سادہ آدمی ہیں، اس(والد) نے کہا یہ جو زید ہے یہ تھوڑا سا پیسے بچانے والا آدمی ہے اس کو دکان پر کھڑا کر دو تم لوگ سارے چور ہو، والد صاحب ہمیں کہہ رہے تھے کہ تم لوگ سارے چور ہو زید ٹھیک ہے ہم کہہ رہے تھے کہ زید چور ہے ہم نہیں ،ابھی زید کی چوری یہی پکڑی گئی کہ اس نے سارا کچھ اپنے نام پر چڑھایا ہے ، یہ جتنے بھی مکان ہیں یہ سب مشترکہ ہیں اس نے غیر قانونی طریقے سے اپنے نام پر چڑھائے ہوئے ہیں ، لڑنے جھگڑنے سے کچھ نہیں بنتا ،ہمارے والد صاحب زندہ ہیں سب کچھ ان کے نام ہونا چاہیے، باقاعدہ اس سے بھی لکھ پڑھ کے کہ یہ آپ بچوں میں بٹوارا کریں۔ ویسے تو اس ٹائم بٹوارہ کر دینا چاہیے تھا جس ٹائم ہمارے والد صاحب نے دوسری شادی کی، چلو ہم سمجھ رہے تھے کہ دنیاوی نظام ایسے ہی چلے گا اور کیا پتہ تھا کہ لالچ بھی بہت بڑی چیز بیچ میں آ جاتی ہے، ہمارے والد صاحب کو بھی اب سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ میں ابھی کیا کروں، یہ جو ہمارے دو بڑے بھائی ہیں واجد اور زید انہوں نے سب اپنے من مانی سے اپنے نام پر چڑھائے ہوئے ہیں ، اور مہربانی کر کے اس کے دس گیارہ حصے کریں ، جو بھی فیصلہ کرنا ہے اللہ کو حاضر ناظر جان کے کرنا ہے آپ لوگوں نے ، جو اس میں کہا ہے کہ خالد نے پنڈی میں دکان لی ہے اور میں نے دو لاکھ پچاس ہزار روپے دیے وہ صرف دو لاکھ روپے دیےاور وہ بھی دو لاکھ روپے مشترکہ کھاتے میں سے دیے ہیں جو ہم ادھر چھوڑ کر آئے تھے، جو کہ والد صاحب کہہ رہے تھے کہ سب کچھ اس کے حوالے کر دو انہی میں سے دو لاکھ مجھے ملے، اور ابھی بھی میں اسی دکان میں کھڑا ہوں مجھ سے حساب مانگنا چاہتے ہیں تو میں ہر وقت تیار ہوں اپنے والد کے آگے، اور زید اور واجد یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا والد ہے اس نے دوسری شادی کی تو یہ سارا مال دوسری بیوی کے نام کر دے گا پر ایسا نہیں ہے ہمیں اعتبار ہے اپنےوالد صاحب پر ۔ اور جو زید کہہ رہا ہے کہ میں نے یہ کیا ہے میں نے یہ کیا ہے یا میرے ابو نے مجھے بولا ہے کہ یہ کام رکھ لو اس میں اپ کے ساتھ کسی کا عمل دخل نہیں ہوگا ، اس پر کوئی لکھ پڑھ ہوا ہے تو وہ ہمیں دکھائے کچھ بھی ہوا ہو ، دوسری بات یہ ہے کہ جب خالد نے لاہور میں دکان بیچی تو وہ پیسے کدھر چلے گئے پھر خالد نے پنڈی میں دکان لے لی وہ پیسے اور جو لاہور والی دکان بیچ دی وہ رقم کدھر چلی گئی یہ سب جھوٹ ہے، ہمارا جتنا بھی پیسہ ہے سب ہمارے والد صاحب کا ہے اور ہم انہی پیسوں میں سے لگے، ہم بہنوں سمیت باقی تین بھائی ابو کے ساتھ ہیں۔ہماری بہنیں رخصت ہو کر اگلے گھروں میں گئی ہوئی ہیں پھر بھی ہمارے ساتھ اور ابو کے ساتھ ہیلو ہائے ہوتی رہتی ہے ،اور یہ بھائی یہ کہتے ہیں کہ ہر شے ہماری ، ایسا نہیں ہے، میں اللہ کو حاضر ناظر جان کے کہتا ہوں کہ یہ سارا کچھ میرے حساب سے اکٹھا کریں یہ گاؤں والی جتنی بھی رقم ہے وہ طریقے سے تقسیم ہو جائے تو بہتر ہے، لاہور تو چلو لاہور ہماری گاؤں میں بھی زمین ہے گھر ہے مال مویشی ہم ابھی بھی مشترکہ کھاتے میں ہیں مشترکہ مطلب یہ کہ ہم سب اپنا اپنا کام کر رہے ہیں اپنے اپنے بچے پال رہے ہیں، اور جن جن کے پاس بھی پیسے ہیں ان ساروں کے ساتھ ہمارے والد صاحب کے پیسے بھی ہیں، ہمارا بٹوارا ہوا ہی نہیں ہے ، بٹوارا ہو جائے تو بندے کو پتہ چل جاتا ہے کہ یہ میرا ہے یہ اس کا یہ اس کا ہے ، یہ جتنی بھی دکانیں ہیں یہ ہم سب کی مشترکہ ہیں ، اور جتنا بھی کام ہم سب کرتے ہیں اس سے زیادہ کام ہمارا والد صاحب ابھی بھی اس ٹائم موجودہ حالات میں بھی ہم سے اچھا کام کر رہے ہیں گاؤں میں ہم سے زیادہ کام کر رہا ہے بٹوارا نہیں ہوا میں بار بار یہ کہتا ہوں بٹوارا نہیں ہوا،اور یہ جو کچھ ہے زید نے اپنی بیوی کے نام لکھا ہوا ہے، اور یہ جھوٹ کہہ رہا ہے کہ میں نے بیوی کا سونا بیچا ہے یہ کیا ہے وہ کیا ہے ، یہ تو اس سے 10 گنا زیادہ کھا چکا ہے، یہ سسرال کو بھی پال رہا ہے بچے بھی پال رہا ہیں سانڈوؤں کو بھی دے رہا ہے، گھر میں نہیں اور لوگوں کے ساتھ اس کا لین دین ہے۔
عمر کا بیان:
ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ یہ جو ہم نے دکانیں ڈالی تھیں اس میں سرمایہ سارا ابو نے دیا تھا اور ہم سب بھائیوں نے اس پر مل کر کام کیا تھا اور اب ہمارے بڑے بھائی کہہ رہے ہیں کہ آپ کابھی کچھ نہیں آپ کا بھی کچھ نہیں سب کو کہہ رہے ہیں کہ آپ کا کچھ نہیں، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم سب کا حصہ ہے۔
بکر کا بیان:
بکر بات کر رہا ہوں مفتی صاحب زید نے جو بیان وغیرہ دیا ہے وہ غلط ہے دکان ہماری مشترکہ تھی اور جو ہماری پہلی باجی کی شادی ہوئی تھی نا اس ٹائم دکان سے کوئی پیسہ نہیں آیا ابو کے پاس، دوسرا یہ کہ جو پھاٹک والی دکان تھی وہ ابو نے ان کو بولا کہ اگر اس دکان میں گزارا نہیں ہو رہا تو اس کو بیچ کے آگے ترتیب کرلیں اس دکان میں میں نے پیسے خالہ سے اور ساس سے پکڑے تھے ، وہ دکان جب انہوں نے سیل کی ہے تو وہ والے پیسے انہوں نے مجھے واپس کیے ، دکان سے کمائی کر کے نہیں واپس ملے مجھے، دکان بیچ کے اس کے بعد انہوں نے وہ پیسے واپس کیے اور یہ بات میں حلفا کہہ رہا ہوں کہ پہلے واپسی نہیں ہوئی ہے، ایک اور بات ہے مفتی صاحب نہ اس نے سونا بیچا ہے نہ اس نے کمیٹی ڈالی چھوٹی موٹی یہ جھوٹ بول رہے ہیں، اسی دکان سے کمائی کر کے( میں نے بھی ساتھ کام کیا اور پھر میرے بعد چھوٹے بھائی نے کام کیا ہے) اور ادھر سے کمائی کر کے آگے اسی دکان پہ خرچہ کیا رجسٹری وغیرہ کیایا جو بھی ترتیب تھی، اور یہ جو دکان کی پراپرٹی ہے یہ والی ہم نے 18 لاکھ روپے کی لی تھی یہ جو رجسٹری وغیرہ پہ خرچ ہوا ہے وہ ہے، اور انہوں نے 27 لاکھ 30 لاکھ روپے بنایا ہے یہ غلط بیانی ہے ۔
زید کا بیان:
میرا بیان بھی وہی ہے جو میرے بڑے بھائی نے بیان دیا ہے ، باقی ہمارا یہ مسئلہ پنچائت میں بھی چلتا رہا ہے تو آپ پنچائت والوں کو بھی بلا لیں اور ان سے بھی پوچھ تاچھ کر لیں، اسی طرح ہم نے *** مدرسے سے زبانی فتوی لیا ہے انہوں نے بھی ہمارے حق میں فتوی دیا ہے ، یہ جو کچھ بھی ہم نے بنایا ہے یہ ہم نے اپنی کمائی سے بنایا ہے، جو والد صاحب سے ایک لاکھ چھتیس ہزار لیے تھے وہ ہم کئی بار ان کو واپس کر چکے ہیں، اب ہمارے والد صاحب کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی آپ نے بنایا یہ میرے پیسوں سے بنایا ہے لہذا یہ سب کچھ میرا ہے ،ایسی بات نہیں ہے یہ سب کچھ ہم نے اپنی محنت سے بنایا ہے اور والد صاحب کو ان کے پیسے کئی بار واپس کر دیے ہیں، اور بھائی جو ہمارے ساتھ کام کرتے تھے ان کو بھی ہم ان کے پیسوں کی ادائیگی کرتے رہے ، اور ہمارے بھائیوں کے اپنے بھی کاروبار ہیں، یہ جو سارا مسئلہ ہے یہ اس وجہ سے ہے کہ ہمارے والد صاحب نے تین شادیاں کی ہیں اور وہ گھر والوں کو اس کا فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔
وضاحت مطلوب: جب آپ لوگوں نے کاروبار شروع کیا اس وقت گھر کا کھاتا مشترکہ تھا ؟
جواب وضاحت از واجد: جب ہم نے پہلی بار کاروبار شروع کیا اس وقت صرف میں شادی شدہ تھا گھر میں سب جو کماتے تھے ابو کو دیتے تھے گھر مشترکہ چل رہا تھا۔ بعد میں پھر جس جس بھائی کی شادی ہوئی وہ ایک دو ماہ بعد اپنی بیوی کو اپنے ساتھ لے گیا۔
جواب وضاحت از بکر : جب کاروبار شروع کیا تب بھی گھر کا ختم مشترکہ تھا اگرچہ اب بھائی علیحدہ علیحدہ رہ رہے ہیں لیکن ابھی تک بٹوارا نہیں ہوا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں جو کچھ ابھی تک بھائیوں کی محنت سے بنا ہے وہ سب ،سب میں مشترکہ شمار ہوگا جس میں والد بھی ایک شریک شمار ہوں گے ۔
توجیہ : مذکورہ صورت میں چونکہ (۱) بڑے بھائیوں نے ابتداء میں جب کام شروع کیا تھا تو سرمایہ اصلا باپ نے دیا تھا (چاہے وہ بیٹوں نے کما کر باپ کو دیا ہو) (۲) خاندانی نظام بھی مشترکہ ہے ابھی تک باقاعدہ بٹوارا نہیں ہوا، (۳) ایسی صورت میں جب شروع سے کچھ طے نہ ہو اور الگ الگ حساب کتاب نہ رکھا جائے تو بعد میں حساب کرنا ممکن نہیں ہوتا (۴ ) ہمارے عرف میں ایسی صورت میں تقسیم کے وقت سب مشترکہ سمجھا جاتا ہے اور جب تک نظام مشترکہ ہو سب کو سب کے لیے کاسب سمجھا جاتا ہے چاہے کسی ایک کی محنت زیادہ ہو یا کم ہو ،لہذا مذکورہ صورت میں سب کمائی سب میں مشترک شمار ہوگی۔
شامی )4/325 ) میں ہے:
مطلب: اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية [تنبيه] يؤخذ من هذا ما أفتى به في الخيرية في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دار واحدة وأخذ كل منهما يكتسب على حدة ويجمعان كسبهما ولا يعلم التفاوت ولا التساوي ولا التميز.
فأجاب بأنه بينهما سوية، وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية، ولو اختلفوا في العمل والرأي اهـ وقدمنا أن هذا ليس شركة مفاوضة ما لم يصرحا بلفظها أو بمقتضياتها مع استيفاء شروطها، ۔۔۔۔۔ ثم ذكر خلافا في المرأة مع زوجها إذا اجتمع بعملهما أموال كثيرة، فقيل هي للزوج وتكون المرأة معينة له، إلا إذا كان لها كسب على حدة فهو لها، وقيل بينهما نصفان
تنقیح الحامدیہ (ص:95) میں ہے:
(سئل) في إخوة خمسة تلقوا تركة عن أبيهم فأخذوا في الاكتساب والعمل فيها جملة كل على قدر استطاعته في مدة معلومة وحصل ربح في المدة وورد على الشركة غرامة دفعوها من المال فهل تكون الشركة وما حصلوا بالاكتساب بينهم سوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصوابا؟
(الجواب) : نعم إذ كل واحد منهم يعمل لنفسه وإخوته على وجه الشركة
امداد الفتاوی ( 3/ 515) میں ہے:
ایک استفتاآیا ہے جس کا جواب یہ سمجھ میں آتا ہے لیکن دو متضاد روایت قیل قیل کرکے لکھا ہے کس کو ترجیح دی جاوے۔
فصل في الشركة الفاسدة (تنبيه) یؤخذ من هذا ما أفتی به في الخیرية: في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دار واحدة وأخذ کل منهما یکتسب علی حدة ویجمعان کسهما، ولا یعلم التفاوت ولا التساوي ولا التمیز، فأجاب بأنه بينهما سوية الخ۔
چند سطر کے بعد لکھا ہے: فقیل: هي للزوج وتکون المرأة معینة له إلا إذا کان لها کسبًا علی حدة فهو لها وقیل:بينهما نصفان ؟
الجواب: میرے نزدیک ان دونوں روایتوں میں تضاد نہیں ، وجہ جمع یہ ہے کہ حالات مختلف ہوتے ہیں جن کی تعیین کبھی تصریح سے کبھی قرائن سے ہوتی ہے، یعنی کبھی تو مراد اصل کا سب ہوتا ہے اور عورت کے متعلق عرفاً کسب ہوتا ہی نہیں وہاں تو اس کو معین سمجھا جاوے گا اور کہیں گھر کے سب آدمی اپنے اپنے لئے کسب کرتے ہیں ، جیسا اکثر بڑے شہروں میں مثل دہلی وغیرہ کے دیکھا جاتا ہے وہاں دونوں کو کاسب قرار دے کر عدم امتیاز مقدار کے وقت علی السویہ نصف نصف کا مالک سمجھا جاوے گا۔ واللہ اعلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved