• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

فیکٹری کے پارکنگ ایریا میں ایک سے زائد مرتبہ جمعہ ادا کرنے کا حکم

استفتاء

ایک فیکٹری یا کمپنی میں ایک ہزار  سے زائد لوگ ملازمت کرتے  ہیں اور سب کو مسجد بھیجنا یا سب  کا کمپنی میں ایک ساتھ نماز ادا کرنا ممکن نہیں ہے کیا ایسی فیکٹری یا کمپنی میں 3،4 مرتبہ الگ الگ جمعہ کی نماز ادا کی جا سکتی ہے؟

وضاحت مطلوب ہے: 1۔فیکٹری آبادی کے اندر ہے یا باہر؟ 2۔قریب میں شرعی مسجد ہے یا نہیں؟  اگر ہے تو کتنی دور ہے؟ اور وہاں جمعہ پڑھنے میں کیا دشواری ہے؟3۔باہر کے لوگوں کو جمعہ پڑھنے کی اجازت ہوتی ہے یا نہیں؟ 4۔ملازمین کی مذکورہ تعداد ہر وقت کمپنی میں موجود رہتی ہے یا کم و بیش ہوتی رہتی ہے؟

جواب وضاحت: 1۔ کمپنی انڈسٹریل ایریا میں ہے اس لیے  ارد گرد آبادی زیادہ نہیں ہے، زیادہ کمپنیاں ہیں۔لیکن علاقہ آبادی والا ہے(****)2۔ مسجد کچھ دور ہے، کمپنی باہر کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کو سروسز فراہم کرتی ہے اور کام 24 گھنٹے چلتا رہتا ہے، کام رک نہیں سکتا اسلئے سب ملازمین کا باہر کسی مسجد میں جا کر جمعہ پڑھنا مشکل ہے3۔کمپنی میں داخل ہونے کے لیے کمپنی کارڈ کا ہونا ضروری ہے، کمپنی میں باہر سے کوئی شخص داخل نہیں ہوتا۔4۔ ملازمین کی تعداد ہر وقت 1000 کے قریب رہتی ہے۔

تنقیح: جس جگہ جمعہ تین چار مرتبہ پڑھا جاتا ہے وہ شرعی مسجد نہیں ہے بلکہ پارکنگ ہے وہاں یکے بعد دیگرے جمعہ پڑھا جاتا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر واقعتاً  ایک ہی جگہ پر متعدد مرتبہ جمعہ کرانے کی  مجبوری ہے اور اس کا کوئی دوسرا حل نہیں ہے تو مذکورہ جگہ پر یکے بعد دیگرے متعدد مرتبہ جمعہ کی نماز ادا کی جاسکتی ہے۔

توجیہ :مذکورہ صورت میں چونکہ جمعہ کی تمام شرائط پائی جاتی ہیں اس لیے مذکورہ فیکٹری میں جمعہ کی نماز درست ہے باقی کسی انتظامی یا حفاظتی وجوہ سے فیکٹری کے باہر کے لوگوں کو جمعہ کی اجازت کا نہ ہونا جمعہ کی شرط اذن عام کے منافی نہیں۔ نیز فقہائے کرام نے چونکہ ضرورت کی وجہ سے ایک شہر میں متعدد  مقامات پر جمعہ کی اجازت دی ہے اس لیے ضرورت کی وجہ سے  ایک جگہ میں متعدد مرتبہ جمعہ بھی جائز ہوگا ، علاوہ ازیں  مذکورہ صورت میں چونکہ شرعی مسجد میں متعدد مرتبہ جمعہ کی نماز ادا نہیں کی جاتی بلکہ پارکنگ میں ادا کی جاتی ہے اس لیے  مذکورہ صورت  میں تکرار جماعت کا مسئلہ بھی نہیں ہوگا لہٰذا مذکورہ فیکٹری میں ایک ہی جگہ میں تین چار مرتبہ الگ الگ جمعہ کی نماز ادا کی جا سکتی ہے۔

ہندیہ (1/309) میں ہے:

‌وتؤدى ‌الجمعة في مصر واحد في مواضع كثيرة وهو قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى وهو الأصح وذكر الإمام السرخسي أنه الصحيح من مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالى وبه نأخذ، هكذا في البحر الرائق.

خیر الفتاویٰ (3/95) میں ہے:

سوال: پندرہ بیس آدمی ایک مسجد میں جمعہ کے روز اس وقت پہنچے  جبکہ جمعہ ہو چکا تھا کیا یہ لوگ اس مسجد میں جمعہ بمع خطبہ جماعت سے پڑھیں یا باجماعت ظہر ادا کریں ؟

جواب:  چونکہ تعدد جمعہ بمذہب صحیح جائز ہے اور بروز جمعہ جس شخص پر جمعہ فرض ہے اس کو ظہر پڑھنا درست نہیں اس لیے ان لوگوں کو چاہیے کہ جمعہ  باجماعت مع خطبہ ادا کریں اگر اسی مسجد میں ہو تو بھی کوئی حرج نہیں اور اولی یہ ہے کہ دوسری مسجد میں ہو۔

فتاویٰ دارالعلوم دیوبند (5/71) میں ہے:

سوال: ایک مسجد میں دو جمعہ جائز  ہیں  یا نہیں ؟

الجواب :تعدد جمعہ ایک شہر میں دو مسجدوں میں یا زیادہ میں عند الحنفیہ درست ہے ۔

 كما في الدر المختار :  وتودى فى مصر واحد بمواضع كثيرة مطلقا على المذهب و عليه الفتوى .

 و في رد المحتار: قوله مطلقا اى سواء كان المصر كبيرا أو الخ وسواء كان التعدد في مسجدين او اكثر الخ .

 لیکن ایک مسجد میں تعدد جماعت مکروہ ہے اس دوسری جماعت جمعہ کی اس صورت میں مکروہ ہے جیساکہ تمام نمازوں کی جماعت ثانیہ کو اس مسجد میں جس میں امام و مؤذن مقرر ہوں فقہاء  نے  مکروہ لکھا ہے اور خصوصا جمعہ پڑھنے کے بعد جامع مسجد کو بند کر دینے کا حکم دیا ہے ۔

فقہی مقالات (4/38) میں ہے:

خلاصہ کلام یہ ہے کہ :

1۔ اگر کسی شہر میں جمعہ کی اجازت حاکم کی طرف سے صرف ایک جگہ پڑھنے کی  ہو تو جمعہ کی صحت کے لیے  ضروری ہے کہ ہر وہ شخص جس پر جمعہ فرض ہے اس کو وہاں آکر جمعہ پڑھنے کی عام اجازت ہو ایسی  عام اجازت کے بغیر جمعہ صحیح نہیں ہوگا۔

2۔ اگر کسی کاکوئی انفرادی گھر، محل یا دوکان ہو تو اس میں جمعہ پڑھنا اس وقت تک جائز نہ ہوگا جب تک اس گھر محل یا دکان میں عام لوگوں کو آنے کی اجازت نہ دیدی گئی ہو، خواہ شہر میں دوسری جگہ بھی جمعہ ہوتا ہو۔

3۔ اگر کوئی آبادی ایسی ہے جس میں معتد بہ لوگ رہتے ہیں اور وہ شہر کے اندر بھی ہے لیکن دفاعی، انتظامی یا حفاظتی وجوہ سے اس آبادی میں ہر شخص کو آنے کی اجازت نہیں بلکہ وہاں کا داخلہ ان وجوہ کی بناء پر کچھ خاص قواعد کا پابند ہے تو اس آبادی کے کسی حصے میں ایسی جگہ جمعہ پڑھنا جائز ہے جہاں اس آبادی کے افراد کو آکر جمعہ پڑھنے کی اجازت ہو مثلاً بڑی جیل، فوجی چھاؤنی، بڑی فیکٹریاں ایسے بڑے ائیرپورٹ جو شہر کے اندر ہوں اور ان میں سینکڑوں لوگ ہر وقت موجود ہوں لیکن ان میں داخلہ کی اجازت مخصوص قواعد کی پابند ہو تو ان تمام جگہوں پر جمعہ جائز ہوگا، بشرطیکہ وہ شہر میں  واقع ہو اور بڑی فیکٹری ائیرپورٹ یا ریلوے اسٹیشن کے تمام افراد کو نماز کی جگہ آکر نماز جمعہ پڑھنے کی کھلی اجازت ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved