• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

گھر والوں کے دباؤ میں آکر طلاق دینے سے طلاق کے وقوع کا حکم

استفتاء

میری شادی کے تقریباً ایک ماہ بعد میرے گھر والوں کو معلوم ہوا کہ میری بیوی کو ایک طبی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے اولاد ہونے کا امکان نہیں ہے۔ اس وجہ سے گھر میں اختلاف اور مجھ پر طلاق دینے کے لیے دباؤ پیدا ہوا۔ میں اپنی بیوی سے محبت کرتا تھا اور تقریباً ایک سے ڈیڑھ سال تک میں نے اپنا گھر بسانے کی کوشش کی۔ میرے اور میری بیوی کے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں تھا اور ہماری ازدواجی زندگی اچھی گزر رہی تھی۔ میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دینا چاہتا تھا اور ہمارا آپس میں صلح کرکے ازدواجی زندگی جاری رکھنے کا ارادہ تھا۔میرے گھر والوں کی طرف سے مجھے مارنے یا گھر سے نکالنے کی براہِ راست دھمکی نہیں دی گئی تھی، لیکن میرے والد، والدہ، بہن بھائی مسلسل مجھ پر طلاق دینے کے لیے ذہنی اور گھریلو دباؤ ڈالتے رہے اور روزانہ اس معاملے پر لڑائی جھگڑا ہوتا تھا۔

میری اپنی خواہش طلاق دینے کی نہیں تھی۔بعد میں گھر والوں کے دباؤ کی وجہ سے طلاق کا معاملہ پیش آیا۔ میں یونین کونسل گیا اور سیکرٹری سے کہا کہ میں صرف ایک طلاق دینا چاہتا ہوں، لیکن سیکرٹری نے کہا کہ تین کاغذات جمع کروانے ضروری ہیں۔پہلی، دوسری اور تیسری طلاق۔ طلاقنامے یونین کونسل میں جمع کروانے کے بعد جب 90 دن مکمل ہونے والے تھے تو میں نے خود سیکرٹری کو بتایا کہ ہماری صلح ہو رہی ہے، اس لیے آپ طلاق کا سرٹیفکیٹ جاری نہ کریں۔ میں نے طلاق روکنے کی کوشش کی کیونکہ میں اپنی بیوی کے ساتھ دوبارہ ازدواجی زندگی گزارنا چاہتا تھا۔اس کے تقریباً دو دن بعد میرے گھر والوں نے میری بیوی کو نہیں بلکہ سیکرٹری کو فون کیا۔ سیکرٹری نے میرے گھر والوں کو بتایا کہ آپ کے بیٹے نے طلاق روک دی ہے کیونکہ ان دونوں کے درمیان صلح ہو رہی ہے۔ اس کے بعد میرے والد اور والدہ نے مجھے فون کیا اور بہت غم اور ناراضی کے ساتھ کہا کہ آج کے بعد تم ہمارے کچھ نہیں لگتے، ہمیں فون نہ کرنا۔ میری والدہ نے یہ بھی کہا کہ میں تمہاری ماں نہیں ہوں، جبکہ میرے والد نے کہا کہ میں تمہارا باپ بھی نہیں ہوں۔ان باتوں اور مسلسل خاندانی دباؤ کی وجہ سے میں بہت شدید ذہنی دباؤ میں آ گیا اور خاموشی اختیار کر لی۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میری اپنی خواہش طلاق دینے کی نہیں تھی بلکہ میں اپنی بیوی کے ساتھ صلح کرکے ازدواجی زندگی جاری رکھنا چاہتا تھا۔

پہلے طلاقنامے کی عبارت:

منکہ مسمیٰ  زید  ولد خالد ذات جٹ ساکن ***کا ہوں۔ جو کہ من مظہر کی شادی  ہمراہ مسماۃ زینب دختر  عمر    سے مؤرخہ 2024-09-16 بمطابق شریعت محمدی سرانجام پائی  ………..مسماۃ مذکوریہ کے بار بار طلاق کے مطالبے پر اب من مظہر الحال حسب رضامندی بقائمی  حواس خمسہ بلا جبر واکراہ بدون کسی نشہ آور اشیاء کے مسماۃ مذکوریہ کو طلاق نامہ نوٹس اول دے رہا ہوں …….2025-12-31

دوسرے طلاقنامے کی عبارت:

منکہ مسمیٰ  زید  ولد خالد ذات جٹ ساکن ***کا ہوں۔ جو کہ من مظہر کی شادی  ہمراہ مسماۃ زینب دختر  عمر   سے مؤرخہ 2024-09-16 بمطابق شریعت محمدی سرانجام پائی………….لہٰذا اب مظہر  بقائمی ہوش وحواس خمسہ بلا جبر واکراہ بغیر کسی نشہ آور کے کھائے رو برو گواہان کی موجودگی میں مسماۃ مذکوریہ کو زبانی وتحریری (طلاق، طلاق) دے کر اپنی زوجیت سے الگ کرتا ہوں۔ آج کے بعد مظہر کا مسماۃ مذکوریہ سے کوئی تعلق واسطہ نہ رہا ہے …… الخ

تيسرے  طلاقنامے کی عبارت:

منکہ مسمیٰ زید  ولد خالد ذات جٹ ساکن ****کا ہوں۔ جو کہ من مظہر کا نکاح  ہمراہ مسماۃ زینب دختر عمر سے مؤرخہ 2024-09-16 بمطابق شریعت محمدی ہوا………….لہٰذا اب مظہر  بقائمی ہوش وحواس خمسہ بلا جبر واکراہ بغیر کسی نشہ آور کے کھائے رو برو گواہان کی موجودگی میں مسماۃ مذکوریہ کو زبانی وتحریری (طلاق، طلاق، طلاق ) دے کر اپنی زوجیت سے الگ کرتا ہوں۔ آج کے بعد مظہر کا مسماۃ مذکوریہ سے کوئی تعلق واسطہ نہ رہا ہے …… الخ

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگرچہ آپ نے گھر والوں کے دباؤ میں آکر دستخط کیے ہیں، لیکن چونکہ یہ دباؤ ایسا نہیں ہے جو شرعاً قابلِ اعتبار ہو، لہٰذا مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔ اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی صلح کی گنجائش ہے۔

توجیہ: اکراہ کی تعریف یہ ہے کہ  انسان کو کسی کام پر قتل یا کسی عضو کو ضائع کرنے یا ضربِ شدید یا قید کرنے کی  یا والدین کے قطع تعلق کرنے کی دھمکی  کے ذریعے مجبور کیا جائے جس سے فاعل کی رضا معدوم ہو جائے  چونکہ مذکورہ صورت میں طلاقنامے پر دستخط کرتے وقت  ایسی کوئی دھمکی  نہیں دی گئی  اور جو دھمکی دی گئی ہے وہ طلاقنامے پر دستخط کرنے  کے  تقریباً تین ماہ بعد دی گئی  ہے ، اس لیے  ایک وقت  میں تین طلاقناموں پر دستخط کرنے سے  تین طلاقیں واقع ہوگئیں  لہذا مذکورہ صورت میں آپ کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ ہی صلح کی گنجائش ہے کیونکہ دوسرے اور تیسرے طلاقنامے پر تاریخ درج نہیں اس لیے دستخط کرتے ہی ان طلاقناموں سے طلاق واقع ہوگئی۔

الدر المختار مع ردالمحتار (9/217) میں ہے:

الإكراه. (هو لغة حمل الإنسان على) شيء يكرهه وشرعا (فعل يوجد من المكره فيحدث في المحل معنى يصير به مدفوعا إلى الفعل الذي طلب منه) وهو نوعان تام وهو الملجئ بتلف نفس أو عضو أو ضرب مبرح وإلا فناقص وهو غير الملجئ. (وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال (و) الرابع: (كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله)

(قوله: وهو نوعان) أي الإكراه، وكل منهما معدم للرضا لكن الملجئ، وهو الكامل يوجب الإلجاء، ويفسد الاختيار فنفي الرضا أعم من إفساد الاختيار والرضا بإزاء الكراهة، والاختيار بإزاء الجبر ففي الإكراه بحبس أو ضرب لا شك في وجود الكراهة وعدم الرضا وإن تحقق الاختيار الصحيح إذ فساده إنما هو بالتخويف بإتلاف النفس، أو العضو

ردالمحتار (4/443) میں ہے:

وفي التتارخانية ……. ولو ‌استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابة

ہندیہ (1/355) میں ہے:

ولو ‌قال ‌لها ‌أنت ‌طالق طالق …….. تقع ثنتان إذا كانت المرأة مدخولا بها

بدائع الصنائع(4/479) میں ہے:

وأما ‌الطلقات ‌الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved