- فتوی نمبر: 37-80
- تاریخ: 20 اکتوبر 2026
- عنوانات: عبادات > زکوۃ و صدقات > عشر و خراج کا بیان
استفتاء
زید نے عمر سے پیداوار کے دسویں حصے پر خشک زمین لی ہے ، زید عمر کو دسواں حصہ دیتا ہے لیکن عمر اپنا دسواں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ زید سے اس کے حصے کی پیداوار کا عشر بھی لیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں یہ عشر یہاں مسکینوں کو دیتا ہوں اب مجھے یہ معلوم نہیں کہ عمر اس عشر کو خود کھاتا ہے یا مسکینوں کو دیتا ہے ، کیا اس صورت میں زید کا عشر ادا ہو جاتا ہے ؟ اور وہ اپنے حصے کے عشر کی ادائیگی سے بری الذمہ ہوگا یا نہیں ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
عشر کو اس کے مستحق تک پہنچانا زید کی ذمہ داری ہے جس کو وہ خود بھی ادا کر سکتا ہے اور کسی کے ذریعے سے بھی کروا سکتا ہے ،لہذا اگر زید کو اس بات کا یقین یا غالب گمان ہو کہ عمر اس کا عشر مستحقین تک پہنچاتا ہے تو زید بری الذمہ ہو جائے گا اور اگر زید کو یقین یا غالب گمان ہو کہ عمر اس کے حصے کا عشر مستحق تک نہیں پہنچاتا تو زید اپنے عشر کی ادائیگی سے بری الذمہ نہ ہوگا۔
بدائع الصنائع فی ترتيب الشرائع (2/ 53) میں ہے:
الزكاة عبادة عندنا والعبادة لا تتأدى إلا باختيار من عليه إما بمباشرته بنفسه، أو بأمره، أو إنابته غيره فيقوم النائب مقامه فيصير مؤديا بيد النائب،
شامی (2/ 269) میں ہے:
فی الدر المختار :للوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال: ربها ضعها حيث شئت………. ولا يخرج عن العهدة بالعزل بل بالأداء للفقراء
البحر الرائق (2/ 227) میں ہے:
وللوكيل بدفع الزكاة أن يدفعها إلى ولد نفسه كبيرا كان أو صغيرا، وإلى امرأته إذا كانوا محاويج، ولا يجوز أن يمسك لنفسه شيئا إلا إذا قال ضعها حيث شئت فله أن يمسكها لنفسه كذا في الولوالجية
امدادالاحکام (2/9) میں ہے :
سوال: کیا زکوٰۃ دینے والا جب زکوۃ کا روپیہ کسی شخص کو تقسیم کرنے کے واسطے دیدے یا بذریعہ منی آرڈر وغیرہ کے بھیج دے، پھر بھی وہ اس بات کا ذمہ دار رہتا ہے کہ جس شخص کو روپیہ تقسیم کرنے کو دیا ہے وہ اس کو مستحق لوگوں کو دے گا۔ اور جائز مصرف میں صرف کرے گا ؟
الجواب : قاعدہ یہ ہے کہ محض وکیل کو دیدینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی ، جب تک کہ وکیل اس کو مستحقین میں صرف نہ کر دے، پس اگر وکیل ثقہ، معتبر، دیندار ہے جس پر اطمینان ہے کہ وہ مستحقین ہی میں صرف کرے گا غیر مستحقین کو نہ دے گا، اس وکیل کو رقم دیکر موکل اپنے کو فرض زکوۃ سے سبکدوش سمجھ سکتا ہے ، ہاں اگر بعد میں تحقیق سے معلوم ہوا کہ وکیل نے مستحقین کو نہیں دیا بلکہ غیر مستحقین کو دیا ہے ، اور وکیل بھی دیتے وقت اُن کو غیر مستحق جانتا تھا، تو اس صورت میں مؤکل کو زکوۃ دوبارہ دینا پڑے گی، لیکن جب وکیل معتبر دیندار، ثقہ ہے تو موکل کے ذمہ یہ تحقیق واجب نہیں، ہاں اگر بعد میں از خود معلوم ہو جائے کہ وکیل نے بے موقعہ صرف کیا، تو اب آئندہ اس وکیل کو ثقہ نہ سمجھے اور گذشتہ زکوۃ جو اس نے بے موقع صرف کی ہے دوبارہ ادا کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved