- فتوی نمبر: 12-5
- تاریخ: 28 اپریل 2018
- عنوانات: مالی معاملات > سود
استفتاء
پرائز بانڈ کے انعام کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ہمارا دس لاکھ کا انعام نکلاتھا جس کی ایک عد د دکان خریدلی اور اس سے کرایہ بھی استعمال میں لایا گیا ۔اب اس کی مالیت کافی زیادہ ہے ۔کیا یہ دکان اپنے تصرف میں لائی جاسکتی ہے یا اولاد جو کہ امراء سے کم متوسط طرز زندگی گزاررہی ہو ،کے قبضے میں دے دی جاوے یا رقم بصورت فروخت دے دی جائے ؟ہر پہلو سے رہنمائی فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
پرائز بانڈ کا انعام ناجائز اور حرام ہے دکان کا استعمال جائز ہے البتہ دس لاکھ کی رقم کا مصرف وہی ہے جو مال حرام کا ہے یعنی کسی مستحق زکوۃ کو ثواب کی نیت کے بغیر دینااگر بیٹے مستحق ہوں تو ان کو بھی دیا جا سکتا ہے۔
فان مصرف المال الحرام المتعذر الرد علی اربابه هو مصرف اللقطة۔
© Copyright 2024, All Rights Reserved