- فتوی نمبر: 14-211
- تاریخ: 10 جون 2019
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان
استفتاء
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ ’’اگر میری اجازت کے بغیر میرے گھر سے نکلی تو آپ کو طلاق ‘‘یہ الفاظ اس نے تین مرتبہ کہے ۔اب کچھ عرصہ بعد وہ عورت یہ بات بھول کر گھر سے نکلی اور پڑوسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اسے یاد آیا تو کیا اب طلاق ہوگئی ؟اگر ہو گئی تو کتنی؟ شوہر بھی اپنی بات سے مکر گیا ہے، حالانکہ اس کی ماں اور بھابھی بھی گواہ ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں خط کشیدہ الفاظ کی وجہ سے بیوی کے حق میں تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں ہیں، لہذا بیوی کا اپنے شوہر کے ساتھ رہنا حلال نہیں شوہر اگرچہ ان الفاظ کے کہنے سے انکار کرتا ہے لیکن چونکہ بیوی نے یہ الفاظ خود اپنے کانوں سے سنیں ہیں اس لئے بیوی کے لیے اپنے شوہر کے ساتھ رہنا جائز نہیں۔
فی الهندیة:97/2
اذا اضافه الی شرط وقع عقیب الشرط اتفاقا مثلا ان یقول ان دخلت الدار فانت طالق ۔
فی الشامی:376/3
فی ایمان الفتح :وقد عرف فی الطلاق انه لو قال :ان دخلت الدار فانت طالق، ان دخلت الدار فانت طالق ،ان دخلت الدار فانت طالق ،وقع الثلاث یعنی بدخول واحد کما تدل علیه عبارة ایمان الفتح ۔
وایضا فیه وکذا فی امداد الفتاوی(419/2)
والمرأة کالقاضی اذا سمعته او اخبر ها عدل لایحل لها تمکینه
© Copyright 2024, All Rights Reserved