• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دوران حج اگر شوہر فوت ہو جائے تو کیا وہ حج کرے یا عدت گزارے؟

استفتاء

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

۱۔میاں بیوی حج کو گئے مکہ مکرمہ پہنچ کر حج سے پہلے شوہر کا انتقال ہو گیا تو اب عورت عدت کے ایام میں حج ادا کر سکتی ہے یا نہیں؟

۲۔اگر میاں بیوی حج سے پہلے مدینہ منورہ میں ہوں اور اسی دوران شوہر کا انتقال ہوگیا توحج کی ادائیگی  کے لئےعورت کا عدت کے دوران مکہ مکرمہ آنا درست ہے کہ نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

فقہ حنفی کی رو سے مذکورہ دونوں صورتوں میں عورت کے لیے عدت کے ایام میں حج کے لیے نکلنا جائز نہیں ۔پہلی صورت میں عورت اپنی رہائش گاہ پر ہی رہے البتہ رہائش کو منتقل کرنے کی مجبوری ہوتو رہائش منتقل کی جاسکتی ہے۔اور دوسری صورت میں مدینہ منورہ میں تسلی بخش رہائش کانظم نہ بن سکتا ہو یا اور کوئی قابل اعتبار عذر ہو تو مکہ مکرمہ منتقل ہوسکتی ہےمکہ مکرمہ منتقل ہونے کے بعد وہ اپنی رہائش گاہ پر ہی رہے گی افعال حج کی ادائیگی کے لیے اپنی رہائش گاہ سے نہ نکلے گی۔ البتہ حنابلہ ؒ کے نزدیک مذکورہ صورتوں میں اس عورت کے لیے حج کرنے کی گنجائش ہے اور موجودہ حالات میں ایسی عورت کے حق میں حنابلہ کے مسلک کو لیا جاسکتا ہے ۔

المغني (3/ 192)

 وإذا مات محرم المرأة في الطريق فقال أحمد : إذا تباعدت مضت فقضت الحج قيل له : قدمت من خراسان فمات وليها ببغداد فقال : تمضي إلى الحج وإذا كان الفرض خاصة فهو آكد ثم قال : لا بد لها من أن ترجع وهذا لأنها لا بد لها من السفر بغير محرم فمضيها إلى قضاء حجها أولى لكن إن كان حجها تطوعا وأمكنها الإقامة في بلد فهو أولى من سفرها بغير محرم

فی المغنی:3/171

واذا خرجت للحج فتوفی زوجها وهی قریبة رجعت لتعتد فی منزلها وان

تباعدت مضت فی سفرها ذکره ۔

مناسک ملاعلی قاری:416

الثانی عشر:العدة)ای عدة الطلاق اذا سبق حکم موت الزوج (فلو اهلت بحجة الاسلام او غیرها)ای فبالاولی (فطلقها زوجها فوجب علیها العدة صارت محصرة وان کالها محرم)وذلک لانها ممنوعة من الخروج عن بیتها ویجب علیها ان یکون فی محل طلاقها مبیتها فماوقع فی بعض النسخ من زیادة قید اذا کانت علی مسیرة سفر من مکة لیس فی موقعه فانها،وان کانت بمکة وطلقها زوجها بعد احرامها لیس لها ان تخرج الی عرفة الاانها تتحلل بافعال العمرة متی شاءت ان تتحلل بها بعد تحقق فوت الوقوف بها۔

الفتاوى الهندية (1/ 535)

 إن اضطرت إلى الخروج من بيتها بأن خافت سقوط منزلها أو خافت على مالها أو كان المنزل بأجرة ولا تجد ما تؤديه في أجرته في عدة الوفاة فلا بأس عند ذلك أن تنتقل وإن كانت تقدر على الأجرة لا تنتقل

وایضا فیه: الباب الثالث عشرفی العدة علی المعتدة ان تعتد فی المنزل الذی یضاف الیها بالسکنی حال وقوع الفرقة والموت

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved