- فتوی نمبر: 35-74
- تاریخ: 09 اپریل 2026
- عنوانات: مالی معاملات > آن لائن کمائی > مروجہ آن لائن کمپنیاں
استفتاء
سوال یہ ہے کہ میں نے اے ایس (AS) کمپنی میں منافع کے لیے کچھ پیسے دیے ہوئے ہیں۔ مجھے ماہانہ اس کمپنی سے منافع کے طور پر پیسے ملتے ہیں۔ اس کمپنی کے درج ذیل کاروبار ہیں:
1۔ گاڑیوں کی خرید و فروخت: کوہاٹ پشاور اسلام آباد اور لاہور میں رقم کے ذریعے گاڑی لینے اور بیچنے کا کاروبار ہے اس کاروبار میں قسط کی ترتیب شامل نہیں ہے۔
2۔ ریسٹورنٹ: جس میں گانے بجانے اور کوئی فضولیات نہیں ہیں اور یہ کوہاٹ میں واقع ہیں۔
3۔ سافٹ ویئر ہاؤس: سات بندوں کی ٹیم جن کی تعداد پراجیکٹ کے اعتبار سے بڑھتی ہے ان کا کام مختلف کمپنیوں اور اداروں کے لیے سافٹ ویئرز اور ایپلیکیشن تیار کرنا ہے اس سروس کے اعتبار سے ہی ریٹ طے ہوتے ہیں۔ اس میں ایسا سافٹ ویئر نہیں ہے جو شریعت کے خلاف ہو جیسے گانے بجانے وغیرہ۔
4۔ ای گیمنگ ٹورنامنٹس: پب جی گیم (PUBG) کھیلنے کے لیے کمپنی کے مختلف پلیئرز جو ماہانہ تنخواہ پر رکھے گئے ہیں کمپنی کے لیے مختلف ٹورنامنٹس میں حصہ لیتے ہیں۔ یہ ٹورنامنٹس ایسی ہوتی ہیں جن میں شرط نہیں لگائی جاتی یا شریعت کے خلاف کوئی کام نہ ہو۔ ان ٹورنامنٹس سے حکومتی سطح پر انعامات یا کیش پرائز موصول کیے جاتے ہیں۔
5۔ پراپرٹی کی خرید و فروخت: کمپنی مختلف قسم کی پراپرٹی خرید کر منافع پر بیچتی ہے یا کبھی کسی کی پراپرٹی فروخت کر کے ایک طرفہ کمیشن لیتی ہے۔
6۔ یہ کمپنی سعودی عرب میں لوگوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے اور لوگوں کی کفالت کی سہولت دیتی ہے اب لوگ سعودی عرب میں کمپنی کی کفالت میں اپنا کاروبار کر سکتے ہیں
7۔کمپنی کی سعودی عرب جدہ میں دو عدد فارمیسیوں کا کاروبار ہے جس میں ادویات کی خرید و فروخت ہوتی ہے یہ کاروبار حکومت سعودیہ سے باقاعدہ لائسنس حاصل شدہ ہیں۔
8۔ ٹورزم: کمپنی کا پاکستان اور بیرون ممالک مختلف مقامات پر لوگوں کی سیر و تفریح کے لیے جانے کی سروس کا کام کرتی ہے جس میں ان کو کنوینس، رہائش اور کھانے پینے کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں
9۔ اے ایس ڈیویلپرز: کمپنی کا مختلف پراپرٹی پراجیکٹس اور اداروں کے پراپرٹی کے پراجیکٹس کی تشہیر اور تعمیر کی سروس بھی ہے۔
10۔ وال مارٹ: ایمازون کی طرح کا ایک پلیٹ فارم ہے جس میں شریعت کے اصول کا زیادہ خیال رکھا گیا ہے. وال مارٹ کے اوپر کمپنی کے سٹورز اور مختلف سامان کی خرید و فروخت چلتی رہتی ہے۔ اس میں ڈراپ شپنگ شامل نہیں ہے۔
کیا مذکورہ کمپنی میں سرمایہ کاری جائز ہے یا نہیں؟
وضاحت مطلوب ہے: مذکورہ کمپنی کا سرمایہ کاری کے اعتبار سے جو شرائط نامہ ہے وہ ارسال فرمائیں۔
جواب وضاحت: شرائط و ضوابط درج ذیل ہیں۔
یہ حلف نامہ اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ انویسٹر درج ذیل تمام شرائط و ضوابط کو تسلیم کرتا ہے اور ان پر عمل کرنے کا پابند ہوگا:
1: کمپنی کی پالیسی کے مطابق منافع کی تقسیم 80/20 کے تناسب سے ہوگی۔ یعنی جو بھی منافع ہوا اس کا 80 فیصد حصہ انویسٹر کو اور 20 فیصد حصہ کمپنی کو دیا جائے گا۔
2: نئے ڈپازٹ کی درخواست کمپنی کی پالیسی کے مطابق تین (3) کاروباری دنوں میں منظور کی جائے گی۔
3: سرمایہ لگانے کے بعد، انویسٹر اپنی اصل رقم چھ (6) ماہ تک واپس نہیں نکال سکے گا۔ چھ (6) ماہ مکمل ہونے کے بعد، انویسٹر کو تیس (30) دن پہلے دفتر اطلاع دینی ہوگی۔ رقم کی واپسی ان دستاویزات کی بنیاد پر کی جائے گی جو سرمایہ کاری کے وقت کمپنی کی طرف سے فراہم کئے گئے تھے۔
4: سرمایہ کاری کے تیس (30) دن مکمل ہونے کے بعد، انویسٹر منافع کی رقم متعین طریقہ کار کے مطابق اپنے لئے نکلوا سکتا ہے۔
5: کمپنی کی پالیسی کے مطابق، منافع/ریفرل بونس/پرافٹ شیئر کی درخواست دینے کے بعد رقم سات (7) کاروباری دنوں میں ادا کی جائے گی۔
6: یومیہ یا ماہانہ منافع کی ضمانت کمپنی نہیں دیتی۔ منافع کا مکمل انحصار کمپنی کے کاروباروں پر ہوگا۔
7: اگر انویسٹر کی فراہم کردہ معلومات جس میں بینک اکاؤنٹ ٹائٹل/اکاؤنٹ نمبر نامکمل یا غلط ہو، تو رقم وصولی کی درخواست منسوخ کر دی جائے گی اور نئی درخواست کمپنی کی پالیسی کے مطابق سات (7) کاروباری دنوں میں مکمل کی جائے گی۔
8: اگر کسی انویسٹر کو مقررہ مدت میں منافع نہ ملے یا ویب سائٹ پر اسٹیٹس مکمل کیا ہوا ظاہر ہو، لیکن اسے رقم وصول نہ ہوئی ہو، تو انویسٹر سات (7) دن کے اندر اندر اپنی بینک اسٹیٹمنٹ (گزشتہ تیس (30) دن) کے ساتھ کمپنی کی CSR ٹیم سے رابطہ کرے گا۔
9: اصل رقم کی دوبارہ سرمایہ کاری (Reinvest) کی مدت تیس (30) دن ہے۔
10: منافع/ریفرل بونس/پرافٹ شیئر کی دوبارہ سرمایہ کاری (Reinvest) کی درخواست کمپنی کی پالیسی کے مطابق پانچ (5) کاروباری دنوں میں منظور کی جائے گی۔
11: اصل رقم (چھ ماہ مکمل ہونے کے بعد) واپس نکالنے کی مدت اکتیس (31) دن ہے۔
12: انویسٹر کی اصل رقم کی واپسی کی درخواست پر، یہ رقم کسی کاروبار میں استعمال نہیں کی جائے گی، لہٰذا اس پر کسی قسم کا بھی منافع یا نقصان لاگو نہیں ہوگا۔
13: اگر اصل رقم (Capital Amount) میں نقصان ہو جائے تو اس کے بعد انویسٹر اور کمپنی، تب تک منافع کے حقدار نہیں ہوں گے جب تک اصل رقم کو پورا نہ کیا جائے۔
14: اصل رقم کی واپسی کی صورت میں 25 لاکھ روپے 31 دنوں میں واپس کیے جائیں گے، جبکہ 50 لاکھ روپے 45 دنوں میں واپس کیے جائیں گے۔ بقایا رقم کاروبار میں برقرار رہے گی اور اس پر منافع بھی ملتا رہےگا جب تک رقم مکمل طور پر ختم نہ ہو جائے۔
15: شق نمبر 2، 4، 5، 7، 9، 10 اور 11 میں بیان کردہ مدت کمپنی کی ہدایات کے مطابق بڑھائی یا گھٹائی جا سکتی ہے۔
16: اعلیٰ انتظامیہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ان شرائط و ضوابط میں کسی بھی وقت ضروری سمجھنے پر ردوبدل کرسکتی ہے۔ کسی بھی تبدیلی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
سرمایہ کار کا اقرار نامہ:
میں بطور سرمایہ کار (انویسٹر)، اس حلف نامے میں درج تمام شرائط و ضوابط کو مکمل طور پر تسلیم کرتا/کرتی ہوں اور ان پر عمل کرنے کا پابند ہوں۔
وضاحت مطلوب ہے: 1۔ریفرل بونس سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ کمپنی ریفرل کمیشن بھی دیتی ہے؟ اور اگر دیتی ہے تو کتنا کمیشن دیتی ہے؟ 2۔ نقصان کی صورت میں کون ذمہ دار ہوگا؟ کیا ہر صورت میں دونوں پارٹیاں نقصان میں شریک ہوں گی؟
جواب وضاحت: 1.ریفرل بونس سے مراد یہ ہے کہ کمپنی کے لیئے نئے ممبر اور شیئر لانا اس پر کمپنی آپ کو ایک ہی مرتبہ 6٪کمشن دیتی ہے۔ ریفرل بونس نئے آنے والے ممبر کے منافع وغیرہ سے کٹوتی نہیں ہوتا بلکہ کمپنی اپنی طرف دیتی ہے۔ASکمپنی ریفرل بونس نئے ممبر اور کمپنی کو بزنس دینے کی صورت میں بھی دیتی ہے2۔نقصان کی صورت میں دونوں پارٹیاں شریک ہوتی ہیں۔
مزید وضاحت مطلوب ہے: وضاحت کیا یہ شرائط نامہ کمپنی کی طرف سے آپ کو دیا گیا ہے؟ یا آپ کو کسی اور جگہ سے ملا ہے ؟
جواب وضاحت: جی کمپنی کی طرف سے ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ کمپنی میں سرمایہ کاری ناجائز ہے۔
تو جیہ: عقد مضاربت میں نقصان میں شرکت کی شرط لگانا باطل ہے جبکہ مذکورہ کمپنی میں رب المال اور مضارب دونوں کو نقصان میں شریک بنایا گیا ہے۔نیز مذکورہ کمپنی کے مختلف کاروباروں میں سے ایک کاروبار ای گیمنگ ٹورنامنٹس کا ہے اور مذکورہ گیم کا کھیل خود ناجائز ہے لہذا ناجائز ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی ناجائز ہوگی۔
تکملہ فتح الملہم (258/4)میں ہے:
فالضابط في هذا الباب … أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، ولیس له غرض صحیح مفید في المعاش ولا المعاد حرام أو مکروه تحریمًا … وما کان فیه غرض ومصلحة دینیة أو دنیویة، فإن ورد النهي عنه من الکتاب أو السنة … کان حرامًا أو مکروها تحریمًا … وأما ما لم یرد فیه النهي عن الشارع وفیه فائدة ومصلحة للناس فهو بالنظر الفقهي علی نوعین:الاول:ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه،ومفاسده أغلب علی منافعه، وأنه من اشتغل به ألهاه عن ذکر الله وحده، وعن الصلوات والمساجد، التحق ذٰلک بالمنهي عنه، لاشتراک العلة، فکان حرامًا أو مکروها والثاني:ما لیس کذٰلک، فهو أیضًا إن اشتغل به بنیة التلهي والتلاعب فهو مکروه وإن اشتغل به لتحصیل تلک المنفعة وبنیة استجلاب المصلحة فهو مباح بل قد یرتقي إلی درجة الاستحباب أو أعظم منه… وعلی هذا الاصل فالالعاب التي یقصد بها ریاضة الابدان أو الاذهان جائزة في نفسها ما لم تشتمل علی معصیةأخریٰ، وما لم یؤد الانهماک فیها إلی الإخلال بواجب الإنسان في دینه ودنیاه.
فتاویٰ شامی (6/55)میں ہے:
لاتصح الاجارة….لاجل المعاصي مثل الغناء والنوح والملاهي.
بدائع الصنائع فی ترتيب الشرائع (9/ 363)میں ہے:
وعلى هذا يخرج الاستئجار على المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو ، وكاستئجار المغنية ، والنائحة للغناء ، والنوح.
فتاویٰ ہندیہ(7/478)میں ہے:
ولا تجوز الاجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير والطبل وشيء من اللهو.
مجمع الانہر (2/ 324) میں ہے:
«(يبطل الشرط) لأنه لا يفضي إلى جهالة حصة العمل، إذ نصيبه من الربح مقابل بعمله لا غير ولا جهالة فيه (كشرط الوضيعة) وهي الخسران (على المضارب) لأن الخسران جزء هالك من المال فلا يجوز أن يلزم غير رب المال»
شامی (5/ 648) میں ہے:
كل شرط يوجب جهالة في الربح أو يقطع الشركة فيه يفسدها، وإلا بطل الشرط وصح العقد اعتبارا بالوكالة
(قوله بطل الشرط) كشرط الخسران على المضارب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved