- فتوی نمبر: 36-58
- تاریخ: 16 جولائی 2026
- عنوانات: حدیثی فتاوی جات > تحقیقات حدیث
استفتاء
تفسیر قرطبی میں ابن عباس ؓ کا قول منقول ہے کہ”جو قوم کسی عالم کو شہید کرتی ہے، اللہ تعالیٰ اس قوم میں 35 ہزار (یا بعض روایات میں 70 ہزار ) لوگوں کو ہلاک کر کے اپنا غصہ ٹھنڈا کرتا ہے”
اس روایت کی تحقیق مطلوب ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ بات ہمیں تلاش کے باوجود نہیں ملی البتہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے “روح المعانی” میں اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالی عنہ سے “تاریخ المدینہ” میں یہ بات ملتی ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نبی کو قتل کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ستر (70) ہزار بندوں کو قتل کرتے ہیں اور جو قوم اپنے خلیفہ کو قتل کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں پینتیس (35) ہزار بندوں کو قتل کرتے ہیں، تاہم ان روایتوں میں بھی عالم کا ذکر نہیں ہے۔ نیز جو بات ان دونوں حضرات سے منقول ہے اس کی نسبت آپﷺ کی طرف بھی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے یہ بھی احتمال ہے کہ یہ اسرائیلی روایات میں سے ہو۔
تاریخ المدینہ لابن شبۃ ، ت: ۲۶۲ھ (4/1178) میں ہے:
حدثنا أبو داود، عن همام، عن قتادة، عن أبي المليح، عن عبد الله بن سلام رضي الله عنه قال: «ما قتلت أمة قط نبيها فيصل الله أمرها حتى يقتل سبعون ألفا، ولا قتلت أمة خليفتها فيصل الله أمرها حتى يقتل خمسة وثلاثون ألفا»
ترجمہ: کوئی امت اپنے نبی کو قتل نہیں کرتی مگر یہ کہ اللہ اس کے معاملے کو (اس کے انجام تک) پہنچا دیتا ہے، یہاں تک کہ (اس کے بدلے ان میں سے )ستر ہزار بندوں کو قتل کردیا جاتا ہے ۔ اور کوئی امت اپنے خلیفہ کو قتل نہیں کرتی مگر یہ کہ اللہ اس کے معاملے کو (اس کے انجام تک) پہنچا دیتا ہے، یہاں تک کہ (اس کے بدلے ان میں سے ) پینتیس ہزار بندوں کو قتل کردیا جاتا ہے۔
روح المعانی (1/278) میں ہے:
وزعم بعض الملحدين أن بين هذه الآية وما أشبهها، وقوله تعالى: إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنا [غافر: 51] تناقضا وأجيب بأن المقتولين من الأنبياء والموعود بنصرهم الرسل ورد بأن قوله تعالى: أَفَكُلَّما جاءَكُمْ رَسُولٌ [البقرة: 87] إلى قوله سبحانه: فَفَرِيقاً كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقاً تَقْتُلُونَ [البقرة: 87] يدل على أن المقتول رسل أيضا، وأجاب بعضهم بأن المراد النصرة بغلبة الحجة أو الأخذ بالثأر كما روي عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما أن الله تعالى قدر أن يقتل بكل نبي سبعين ألفا، وبكل خليفة خمسا وثلاثين ألفا ولا يخفى ما فيه، فالأحسن أن المراد بالرسل المأمورون بالقتال- كما أجاب به المحققين- لأن أمرهم بالقتال وعدم عصمتهم لا يليق بحكمة العزيز الحكيم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved