- فتوی نمبر: 34-299
- تاریخ: 11 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > نام رکھنے سے متعلق
استفتاء
1۔عبد الجبار نامی شخص کو جَبْرُو سے یا جبار سے پکارنا کیسا ہے؟
2۔اگر منع ہے تو کس حدتک اس سے روکنے میں سختی کی جائے؟
3۔ آپ کے ہاں سے جو فتویٰ جات عطا ہوتے ہیں وہ اکابر دیوبند رحمہم اللہ تعالیٰ کے کن اکابر سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔درست ہے ۔
توجیہ:جبار کا لفظ اللہ تعالیٰ کے ان ناموں میں سے نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہوں اس لیے عبد الجبار نامی شخص کو “جبار ” کہنا درست ہے اور جبار کو بگاڑ کر “جبرو” کہنا بھی درست ہے بشرطیکہ جسے جبرو کہا جارہا ہے اسے ناگوار نہ گزرتا ہو ورنہ درست نہیں ۔
2۔ منع کی ضرورت نہیں ہے۔
3۔ کوئی تخصیص نہیں ہے۔
قرآن پاک میں ارشاد ہے:
وإذا بطشتم بطشتم جبارين (سورة الشعراء، آيت:130)
مسند ابی یعلیٰ (رقم الحدیث: 3276) میں ہے:
عن أنس، قال: مر رسول الله صلى الله عليه وسلم في طريق، ومرت امرأةٌ سوداء، فقال لها رجلٌ: الطريقَ، فقالت: الطريق؟ مه! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: “دَعُوهَا فإنَّهَا جَبَّارَةٌ”.
الاسنی فی شرح الاسماء الحسنیٰ (ص:381) میں ہے:
قال ابن الانباري:الجبار معناه في كلام العرب:ذو الجبرية،وهو القهار،والجبار: ينقسم علي ستة اقسام يكون الجبار:القهار، ويكون الجبار:المسلط،قال الله تعالي: وما انت عليهم بجبار، ويكون الجبار: القوي العظيم الجسم، كما قال تعالي: ان فيها قوما جبارين، ويكون الجبار:المتكبر عن عبادة الله تعالي كما قال: ولم يجعلني جبارا شقيا،……ويكون الجبار: القتال ………. ويكون الجبار:الطويل من النخل
الدر المختار مع ردالمحتار (9/417) میں ہے:
وجاز التسمية بعلي ورشيد من الأسماء المشتركة ويراد في حقنا غير ما يراد في حق الله تعالى لكن التسمية بغير ذلك في زماننا أولى لأن العوام يصغرونها عند النداء كذا في السراجية
وفى الشامية: (قوله لكن التسمية إلخ) قال أبو الليث: لا أحب للعجم أن يسموا عبد الرحمن وعبد الرحيم؛ لأنهم لا يعرفون تفسيره، ويسمونه بالتصغير تتارخانية وهذا مشتهر في زماننا، حيث ينادون من اسمه عبد الرحيم وعبد الكريم أو عبد العزيز مثلا فيقولون: رحيم وكريم وعزيز بتشديد ياء التصغير ومن اسمه عبد القادر قويدر وهذا مع قصده كفر. ففي المنية: من ألحق أداة التصغير في آخر اسم عبد العزيز أو نحوه مما أضيف إلى واحد من الأسماء الحسنى إن قال ذلك عمدا كفر وإن لم يدر ما يقول ولا قصد له لم يحكم بكفره ومن سمع منه ذلك يحق عليه أن يعلمه اهـ. وبعضهم يقول: رحمون لمن اسمه عبد الرحمن، وبعضهم كالتركمان يقول حمور، وحسو لمن اسمه محمد وحسن، وانظر هل يقال الأولى لهم ترك التسمية بالأخيرين لذلك
معارف القرآن( 8/117)میں آیت “ ولا تنابزوا بالالقاب ” کے ضمن میں ہے:
تیسری چیز جس سے آیت میں ممانعت کی گئی ہے وہ کسی دوسرے کو برے لقب سے پکارنا ہے جس سے وہ ناراض ہوتا ہو ، جیسے کسی کو لنگڑا لولا یا اندھا کانا کہہ کر پکارنا یا اس لفظ سے اس کا ذکر کرنا اسی طرح جو نام کسی شخص کی تحقیر کے لئے استعمال کیا جاتا ہو اس نام سے اس کو پکارنا ، حضرت ابوجبیرہ انصاری نے فرمایا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں تشریف لائے تو ہم میں اکثر آدمی ایسے تھے جن کے دو یا تین نام مشہور تھے اور ان میں سے بعض نام ایسے تھے جو لوگوں نے اس کو عار دلانے اور تحقیر و توہین کے لئے مشہور کر دیئے تھے ۔ آپ کو یہ معلوم نہ تھا بعض اوقات وہی برا نام لے کر آپ اس کو خطاب کرتے تو صحابہ عرض کرتے کہ یا رسول اللہ وہ اس نام سے ناراض ہوتا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔اور حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ آیت میں تنابز بالا لقاب سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص نے کوئی گناہ یا برا عمل کیا ہو اور پھر اس سے تائب ہو گیا ہو اس کے بعد اس کو اس برے عمل کے نام سے پکارنا ، مثلاً چور یا زانی یا شرابی وغیرہ جس نے چوری ، زنا ، شراب سے توبہ کرلی ہو اس کو اس پچھلے عمل سے عار دلانا اور تحقیر کرنا حرام ہے ۔ حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو ایسے گناہ پر عار دلائے جس سے اس نے توبہ کرلی ہے تو اللہ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ اس کو اسی گناہ میں مبتلا کر کے دنیا و آخرت میں رسوا کرے گا ۔
بعض لوگوں کے ایسے نام مشہور ہو جاتے ہیں جو فی نفسہ برے ہیں مگر وہ بغیر اس لفظ کے پہچانا ہی نہیں جاتا تو اس کو اس نام سے ذکر کرنے کی اجازت پر علماء کا اتفاق ہے بشرطیہ ذکر کرنے والے کا قصد اس سے تحقیر و تذلیل کا نہ ہو جیسے بعض محدثین کے نام کے ساتھ اعرج یا احدب مشہور ہے اور خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک صحابی کو جس کے ہاتھ نسبتاً زیادہ طویل تھے ذوالیدین کے نام سے تعبیر فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک سے دریافت کیا گیا کہ اسانید حدیث میں بعض ناموں کے ساتھ کچھ ایسے القاب آتے ہیں مثلاً حمید الطویل ، سلیمان الاعمش، مروان الاصفر وغیرہ ، تو کیا ان القاب کے ساتھ ذکر کرنا جائز ہے ، آپ نے فرمایا جب تمہارا قصد اس کا عیب بیان کرنے کا نہ ہو بلکہ اس کی پہچان پوری کرنے کا ہو تو جائز ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved