- فتوی نمبر: 8-93
- تاریخ: 01 دسمبر 2015
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
زید نے بکر سے ایک فریج اس طرح خریدا کہ دس ہزار نقد موقع پر ہی دے دیے، اور پچاس ہزار کا دو مہینے بعد دینے کا وعدہ کر لیا، اس کے بعد دو تین چار حتیٰ کہ سات ماہ گذر چکے ہیں، لیکن زید بقیہ رقم دینے کا نام تک نہیں لے رہا، بکر مطالبہ کر کر کے عاجز آچکا ہے۔ اب بکر چاہتا ہے کہ عدالت کے ذریعے اس سے اپنا حق وصول کرے، لیکن اس راستے کے اپنانے پر بکر کے اخراجات آئیں گے۔ سوال یہ ہے کہ بکر آنے والے ان اخراجات کو بھی زید سے وصول کرنے کا حق دار ہے یا یہ اخراجات اسے ہی برداشت کرنے ہوں گے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں بکر آنے والے اخراجات کو بھی زید سے وصول کر سکتا ہے۔ چنانچہ فتاویٰ شامی میں ہے:
وأجرة المحضر على المدعي هو الأصح بحر عن البزازية. و في الخانية على المتمرد وهو الصحيح (56/8)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved