- فتوی نمبر: 28-18
- تاریخ: 08 اکتوبر 2022
- عنوانات: مالی معاملات
استفتاء
*** نے *** کو کچھ ***یاں اس شرط پر دیں کہ *** ان ***یوں کو چرائے گا اور ان کی دیکھ بھال کرے گا اسی طرح ان ***یوں کا دودھ بھی *** لے گا البتہ ان ***یوں کی بچے *** اور *** میں نصف نصف تقسیم ہوں گے،*** ان شرائط پر راضی ہے ،کیا *** اور *** کا یہ معاملہ درست ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت فقہ حنفی کی رُو سے تو جائز نہیں البتہ فقہ حنبلی کی بعض روایات کی رُو سے جائز ہے اور چونکہ مذکورہ صورت کا عرف (عام رواج) ہے ا س لیے فقہ حنبلی کی بعض روایات پر عمل کرنے کی گنجائش ہے تاہم کوئی احتیاط کرے تو اچھی بات ہے۔
البنایۃ شرح الہدایہ (10/570)میں ہے:
(بخلاف دفع الغنم والدجاج ودود القز، معاملة بنصف الزوائد) ش: من حيث لا يجوز، وانتصاب معاملة على الحال من الدفع، وأراد بالزوائد الأولاد في الغنم، والأفراخ في الدجاج، والإبريسم في دود القز
الشرح الکبیر لابن قدامہ (6/19) میں ہے:
ولو استأجر راعيا لغنم بثلث درها وصوفها وشعرها ونسلها أو نصفه أو جميعه لم يجز نص عليه أحمد في رواية سعيد بن ***النسائي لان الاجر غير معلوم ولا يصلح عوضا في البيع، قال اسمعيل بن سعيد سألت أحمد عن الرجل يدفع البقرة إلى الرجل على أن يعلفها ويحفظها وولدها بينهما فقال اكره ذلك وبه قال ابو ايوب وأبو خيثمة ولا أعلم فيه مخالفا لان العوض معدوم مجهول لا يدرى ايوجد ام لا، والاصل عدمه ولا يصلح أن يكون ثمنا، فان قيل فقد جوزتم دفع الدابة إلى من يعمل عليها بنصف مغلها قلنا انما جاز ثم تشبيها بالمضاربة [لعل الصواب المزارعة كما في مطالب أولي النهي: 3/594، و المغني: 5/8. ناقل] ولانها عين تنمي بالعمل فجاز اشتراط جزء من النماء كالمضاربة والمساقاة [لعل الصواب المزارعة بدل المضاربة كما في مطالب أولي النهي: 3/594، و المغني: 5/8. ناقل] وفي مسئلتنا لا يمكن ذلك لان النماء الحاصل في الغنم لا يقف حصوله على عمله فيها فلم يمكن الحاقه بذلك.
وذكر صاحب المحرر،رواية أخرى انه يجوز بناء على ما إذا دفع دابته أو عبده بجزء من كسبه والاول ظاهر المذهب لما ذكرنا من الفرق، وعلى قياس ذلك إذا دفع نحله إلى من يقوم عليه بجزء من عسله وشمعه يخرج على الروايتين.
امداد الفتاوٰی (3/343)میں ہے:
سوال: *** نے اپنا بچھڑا *** کو دیا کہ تو اس کی پرورش کر بعد جوان ہونے کے اس کی قیمت کرکے ہم دونوں میں سے جو چاہے گا نصف قیمت دوسرے کو دے کراسے رکھ لے گا، یا *** نے خالد کو ریوڑ سونپا اور معاہدہ کر لیا کہ اس کو بعد ختم سال پھر پڑتال لیں گے، جو اس میں اضافہ ہوگا وہ باہم تقسیم کر لیں گے، یہ دونوں عقد شرعاً جائز ہیں یا قفیز طحان کے تحت میں ہے جیسا کہ عالمگیری جلد پنجم ص ۲۷۱ مطبوعہ احمدی میں ہے: دفع بقرة إلی رجل علی أن یعلفها وما یکون من اللبن والثمن بینهما أنصافاً فالإجارة فاسدة
الجواب: کتب إلی بعض الاصحاب من فتاوی ابن تیمية کتاب الاختیارات مانصه: ولو دفع دابته أو نخلة إلی من یقوم له وله جزء من نمائه صح، وهو رواية عن أحمد (۱)۔ (ج۴ ص ۷۵ س ۱۴)پس حنفیہ کے قواعد پر تو یہ عقد ناجائز ہے۔ کما نقل في السوال عن عالمگیریۃ (۲) لیکن بنابر نقل بعض اصحاب امام احمدؓ کے نزدیک اس میں جواز کی گنجائش ہے، پس تحرزاحوط ہے، اور جہاں ابتلاء شدید ہو توسع کیا جاسکتا ہے۔
غیر سودی بینکاری(288) میں ہے:
’’ میں نے اپنے والد ماجد حضرت مفتی ****** صاحب قدس سرہ سے حضرت حکیم الامہؒ کا یہ ارشاد بار ہا سنا کہ میں نے ابو حنیفۂ عصر حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہیؒ سے اس بات کی صریح اجازت لی ہے کہ خاص طور پر معاملات کے باب میں جہاں ابتلاء عام ہو، وہاں چاروں ائمہ میں سے جس امام کے مذہب کی گنجائش نکلتی ہو، وہاں وہ گنجائش دی جائے‘‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved