- فتوی نمبر: 28-9
- تاریخ: 31 اگست 2022
- عنوانات: مالی معاملات
استفتاء
کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
- ایک آدمی گائے لیکر دوسرے کو دے دیتا ہے کہ وہ اس کی دیکھ بھال کرے اور کھل وغیرہ آدھی آدھی اور دودھ آدھا آدھا کرلیں تو کیا یہ جائز ہے ؟
- گائے یا کوئی بھی جانور ادھیارے پر دینا جائز ہے ؟
- جب گائے دودھ دینا چھوڑ دیتی ہے تو اس دوران اس کو سنبھالنے والے کے پاس رکھنے کی کیا جائز صورت ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1.مذکورہ صورت فقہ حنفی کی رُو سے تو جائز نہیں البتہ فقہ حنبلی کی بعض روایات کی رُو سے جائز ہے اور چونکہ مذکورہ صورت کا عرف (عام رواج) ہے ا س لیے فقہ حنبلی کی بعض روایات پر عمل کرنے کی گنجائش ہے تاہم کوئی احتیاط کرے تو اچھی بات ہے۔
نوٹ : مذكوره صورت میں گائے کی کھل وغیرہ کا خرچہ دونوں کے ذمے ڈالا گیا ہے، اس کی صراحت حنابلہ کے نزدیک نہیں ملی کہ ادھیارہ میں جانور کا خرچہ کس کے ذمے ہوگا البتہ ادھیارہ کو ان کے نزدیک چونکہ مساقات اور مزارعت وغیرہ پر قیاس کر کے جائز قرار دیا گیا ہے اور ان میں فصل وغیرہ پر آنے والا خرچہ اصل تو مالک کے ذمے ہوتا ہے البتہ کام کرنے والے پر بھی اس کی شرط لگانا ایک قول کے مطابق جائز ہے لہذا اس پر قیاس کرتے ہوئے ادھیارہ میں بھی کل یا آدھے خرچے کی شرط کام کرنے والے پر لگانا جائز بنے گا ۔
- گائے یا کوئی بھی جانور ادھیارے پر دینا جائز ہے بشرطیکہ اس میں کوئی ناجائز شرط نہ ہو ، ناجائز شرطوں کی تفصیل بتانا مشکل ہے لہٰذا جو صورت اختیار کرنی ہو ا سکی تفصیل بتا کر مسئلہ معلوم کرلیا جائے۔
3.اس کی جائز صورت یہی ہے کہ سنبھالنے والا دیکھ بھال کرتا رہے اور خرچہ آدھا آدھا کرتے رہیں اور جب دودھ دینا شروع کردے تو اس وقت دودھ بھی آدھا آدھا کرتے رہیں۔
فتاویٰ ہندیہ (4/ 445)میں ہے:
دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة
الشرح الکبیر لابن قدامہ (6/19) میں ہے:
ولو استأجر راعيا لغنم بثلث درها وصوفها وشعرها ونسلها أو نصفه أو جميعه لم يجز نص عليه أحمد في رواية سعيد بن محمد النسائي لان الاجر غير معلوم ولا يصلح عوضا في البيع، قال اسمعيل بن سعيد سألت أحمد عن الرجل يدفع البقرة إلى الرجل على أن يعلفها ويحفظها وولدها بينهما فقال اكره ذلك وبه قال ابو ايوب وأبو خيثمة ولا أعلم فيه مخالفا لان العوض معدوم مجهول لا يدرى ايو جدام لا، والاصل عدمه ولا يصلح أن يكون ثمنا، فان قيل فقد جوزتم دفع الدابة إلى من يعمل عليها بنصف مغلها قلنا انما جاز ثم تشبيها بالمضاربة [لعل الصواب المزارعة كما في مطالب أولي النهي: 3/594، و المغني: 5/8. ناقل] ولانها عين تنمي بالعمل فجاز اشتراط جزء من النماء كالمضاربة والمساقاة [لعل الصواب المزارعة بدل كما في مطالب أولي النهي: 3/594، و المغني: 5/8. ناقل] وفي مسئلتنا لا يمكن ذلك لان النماء الحاصل في الغنم لا يقف حصوله على عمله فيها فلم يمكن الحاقه بذلك.
وذكر صاحب المحرر[1] رواية أخرى انه يجوز بناء على ما إذا دفع دابته أو عبده بجزء من كسبه والاول ظاهر المذهب لما ذكرنا من الفرق، وعلى قياس ذلك إذا دفع نحله إلى من يقوم عليه بجزء من عسله وشمعه يخرج على الروايتين.
المغنی لابن قدامۃ(242) میں ہے:
وعلى رب المال ما فيه حفظ الأصل، كسد الحيطان، وإنشاء الأنهار، وعمل الدولاب، وحفر بئره، وشراء ما يلقح به …………….. فأما تسميد الأرض بالزبل إن احتاجت إليه، فشراء ذلك على رب المال؛ لأنه ليس من العمل، فجرى مجرى ما يلقح به، وتفريق ذلك في الأرض على العامل، كالتلقيح …………… وإن شرطا على أحدهما شيئا مما يلزم الآخر، فقال القاضي، وأبو الخطاب: لا يجوز ذلك. فعلى هذا تفسد المساقاة، وهو مذهب الشافعى؛ لأنه شرط يخالف مقتضى العقد، فأفسده، كالمضاربة إذا شرط العمل فيها على رب المال. وقد روى عن أحمد ما يدل على صحة ذلك؛ فإنه ذكر أن الجذاذ عليهما، فإن شرطه على العامل، جاز. وهذا مقتضى كلام الخرقى في المضاربة؛ لأنه شرط لا يخل بمصلحة العقد، ولا مفسدة فيه، فصح، كتأجيل الثمن في المبيع، وشرط الرهن والضمين والخيار فيه، لكن يشترط أن يكون ما يلزم كل واحد من العمل معلوما، لئلا يفضى إلى التنازع والتواكل، فيختل العمل، وأن لا
[1] هو مجد الدين أبو البركات عبد السلام بن عبد الله بن أبي القاسم بن محمد بن تيمية [غير ابن تيمية المعروف] قال الذهبي الحافظ: كان الشيخ مجد الدين معدوم النظير في زمانه، رأساً في الفقه وأصوله، بارعاً في الحديث ومعانيه، له اليد الطولى في معرفة القرآن والتفسير، وصنف التصانيف، واشتهر اسمه، وبَعُدَ صيته. وكان فرد زمانه في معرفة المذهب، مفرط الذكاء، متين الديانة، كبير الشأن(طبقات الحنابلة:1/284)
يكون ما على رب المال أكثر العمل؛ لأن العامل يستحق بعمله، فإذا لم يعمل أكثر العمل، كان وجود عمله كعدمه، فلا يستحق شيئا.
غیر سودی بینکاری(288) میں ہے:
’’اور میں نے اپنے والد ماجد حضرت مفتی***صاحب قدس سرہ سے حضرت حکیم الامہؒ کا یہ ارشاد بار ہا سنا کہ میں نے***ہیؒ سے اس بات کی صریح اجازت لی ہے کہ خاص طور پر معاملات کے باب میں جہاں ابتلاء عام ہو، وہاں چاروں ائمہ میں سے جس امام کے مذہب کی گنجائش نکلتی ہو، وہاں وہ گنجائش دی جائے‘‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved