• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

اگر میری بیوی کو ماہواری آجائے تو میں کبھی ہمبستری نہیں کروں گا

استفتاء

میں اپنے شوہر سے مذاق کر رہی تھی کہ میں حمل سے ہوں ۔میرے شوہر نہیں چاہتے تھے کہ ابھی بچے ہوں۔ میں مذاق سے ان کو تنگ کر رہی تھی کہ ابھی ماہواری نہیں آئی۔ پھر مجھے ماہواری کی عادت سے دو دن پہلے ہی ماہواری آگئی۔میں نے ان کو نہیں بتایا۔ اور میرے شوہر بھی  یہ بات نہیں جانتے تھے۔ جس دن میری ماہواری کی تاریخ تھی اس دن انہوں نے نماز کے بعد دعا مانگی کہ” عام دنوں کی طرح اگر ماہواری آجائے تو میں پھر کبھی ہمبستری نہیں کروں گا”۔کوئی قسم نہیں کھائی ۔کوئی منت نہیں مانی۔ اس حالت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے رہنمائی فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں آپ کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ  اس جملہ کی وجہ سے  شوہر کےہمبستری کرلینے سے نکاح پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔

توجیہ : شوہر کے مذکورہ جملے ” عام دنوں کی طرح اگر ماہواری آجائے تو میں پھر کبھی ہمبستری نہیں کروں گا “سے  ایلاء نہیں ہوا اس لیے کہ ایلاء  ہونے کے لیے ضروری ہے کہ شوہر یا تو  بیوی سے صحبت نہ کرنے کی قسم اٹھائے یا صحبت کرنے پر ایسی  بات کو معلق کرے جس میں مشقت بھی ہو اور وہ نذرسے لازم  بھی ہوجاتی ہو  جیسے  یوں کہے کہ  اگر تجھ سےصحبت  کروں تو  میرے ذمہ  حج یا عمرہ ہے جبکہ مذکورہ جملہ میں نہ قسم ہے اور نہ  ہی صحبت کرنے پر کسی ایسی   چیز  کو معلق کیا  ہے لہٰذا  شوہر کا یہ جملہ لغو ہے  ۔

فتاوی عالمگیری  (1/ 478)میں ہے :

«ولو حلف بأن يقول: إن قربتك ‌فعلي ‌حجة أو عمرة أو صدقة أو صيام أو هدي أو اعتكاف أو يمين أو كفارة يمين فهو مول ولو قال: فعلي اتباع جنازة أو سجدة تلاوة أو قراءة القرآن أو الصلاة في بيت المقدس أو تسبيحة فليس بمول وتجب صحة الإيلاء فيما لو قال: فعلي مائة ركعة ونحوه مما يشق عادة»

فتاوی شامی  (3/ 426)میں ہے :

«أو إن قربتك فعلي حج، أو نحوه) مما يشق، بخلاف فعلي صلاة ركعتين فليس بمول لعدم مشقتهما،»

بدائع الصنائع (3/ 166)میں ہے :

«وأما اليمين بالشرط والجزاء فنحو قوله: إن قربتك فامرأتي الأخرى طالق، أو قال: هذه طالق أو قال: فعبدي هذا حر أو فأنت علي كظهر أمي أو قال: فعلي عتق رقبة أو فعلي حجة أو عمرة أو المشي إلى بيت الله أو فعلي هدي أو صدقة أو صوم أو اعتكاف؛ لأن الإيلاء يمين واليمين في اللغة عبارة عن القوة، والحالف يتقوى بهذه الأشياء على الامتناع من قربان امرأته في المدة؛ لأن كل واحد منها يصلح مانعا من القربان في المدة لأنه يثقل على الطبع، ويشق عليه فكان في معنى اليمين بالله عز وجل لحصول ما وضع له اليمين، وهو التقوي على الامتناع من مباشرة الشرط.»

فقہ اسلامی از ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب ؒ(153ص)میں ہے :

اور اگر یوں کہا اگر تجھ سے صحبت کروں تو میرے ذمہ ایک حج ہے یا ایک عمرہ ہے یا دس روزے ہیں یا ہزار روپے خیرات ہے یا ایک قربانی ہے یا سو رکعت نماز ہے یعنی ایسی بات جو مشقت والی بھی ہو اور نذر سے لازم بھی ہو جاتی ہو۔ ان صورتوں میں بھی ایلاء ہو گیا۔ اگر صحبت کرے گا تو جو بات کہی ہے وہ کرنا ہوگی اور کفارہ نہ دینا پڑے گا اور اگر صحبت نہ کی تو چار مہینے گزرنے پر طلاق بائن پڑ جائے گی۔ اور اگر کوئی ایسی بات کہی جو مشقت والی نہ ہو اگر چہ نذر سے لازم ہو جاتی ہو مثلا یوں کہا اگر میں تجھ سے صحبت کروں تو میرے ذمہ دو رکعت نماز ہے یا ایک روپیہ خیرات ہے تو ایلاء نہ ہو گا۔ اسی طرح اگر کوئی ایسی بات کہی جو مشقت والی تو ہو لیکن نذر سے لازم نہ ہو مثلاً یوں کہا اگر میں تجھ سے صحبت کروں تو میرے ذمہ ایک ہزار مرتبہ وضو ہے تو اس سے بھی ایلاء نہ ہوگا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved