- فتوی نمبر: 14-106
- تاریخ: 15 جولائی 2019
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان
استفتاء
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جناب مفتی صاحب ایک مسئلہ دریافت کرنا تھا کہ میرے چچا کی بیٹی ہے میرے گھر والوں نے وہاں میرے رشتہ کی بات کی دو سال تک کوئی جواب نہیں دیا اس کے بعد انکار کردیا پھر ایک سال کے بعد کہا ہم نے رشتہ دینا ہے پھر انکار کردیا میں نے غصے میں کہا ’’اب اگر وہ مجھے دیں تو میری طرف سے اس کو تین طلاقیں‘‘اس وقت میرے دل میں یہ بات پکی تھی کہ انہوں نے رشتہ نہیں دینا ۔
اب پھر بات پکی کردی مجھے شک بھی ہے کہ کہا میں نے تعلیق کے ساتھ تھا یا تنجیز کے طور پر ۔اب طلب امر یہ ہے کہ اب کیا کروں شادی کروں یا نہ کروں ؟
وضاحت مطلوب ہے :
(۱)سائل کا تعلق کس علاقے سے ہے ؟(۲)الفاظ کس زبان میں بولے تھے ؟(۳)سائل کی مراد ان لفظوں سے کیا تھی ؟ رشتہ دینا /منگنی کرنا یا شادی اور نکاح کرنا؟(۴)سائل کے علاقے میں رشتہ دینے سے مراد کیا لیا جاتا ہے ؟
جواب وضاحت :
(۱)کشمیر ضلع نیلم سے ہے (۲)اپنی زبان میں کہا(۳)سائل خالی الذہن تھا۔(۴)ہماری طرف رشتہ دینے سے مراد منگنی ہوتی ہے کیونکہ جب کسی کی منگنی ہو جاتی ہے تو لوگ کہتے ہیں اس لڑکی کا رشتہ فلاں کو دیا ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں نکاح کرنے سے کوئی طلاق واقع نہ ہو گی،اس لیے نکاح کرسکتے ہیں ۔
توجیہ: اول تو سائل کو شک ہے کہ طلاق مشروط تھی یاغیر مشروط ۔اگرغیر مشروط تھی تو جس وقت یہ الفاظ کہے گئے تھے اس وقت عورت نہ اس کے نکاح میں تھی اور نہ نکاح کی طرف نسبت کرکے مذکورہ الفاظ کہے گئے تھے لہذا ان سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور اگر یہ طلاق مشروط تھی تب بھی یہ تعلیق علی التزوج نہیں ہے بلکہ تعلیق علی الاعطاء یعنی رشتہ دینے پر طلاق کو موقوف کرنا ہے ۔چنانچہ جب رشتہ دیا گیا تب وہ عورت منکوحہ نہیں تھی، اس لیے طلاق لغو ہو گئی اور تعلیق ختم ہو گئی ۔یہ ایسے ہی جیسے اجنبیہ سے کہے ’’انت طلاق ان دخلت الدار‘‘۔
في الجوهرة:
ولايصح اضافة الطلاق الاان يکون الحالف مالکا او يضيفة الي ملک ۔فان قال لاجنبية ان دخلت الدار فانت طالق ثم تزوجةا فدخلت الدار لم يطلق لانة لم يوقع الطلاق في نکاح ولااضافة الي نکاح ۔
في البحر(10/4)
ولو قال :ان خطبت فلانة او تزوجتةا فةي طالق فخطبةا ثم تزوجةا لايطلق لان شرط حنثة احدشئين فاذا خطبةا فقد وجد الشرط الحنث والمرأة ليست في نکاحة فانحلت اليمين لاالي حنث فاذا تزوجةا بعد ذلک واليمين منحلة فلاتطلق
© Copyright 2024, All Rights Reserved