• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

اجارہ و خرید (Hire Purchase)

استفتاء

مسئلہ یہ ہے کہ *** نے *** کو مشین کرایہ پر دی اور اسی وقت مشین شکور کو ہی آٹھ لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جس کے عوض شکور نے ایک ایک لاکھ کے 8 چیک *** کو ادا کر دیے ہیں اور *** نے مذکورہ مشین شکور کے حوالے کر دی ہے، لیکن *** نے یہ بھی شرط رکھی ہے کہ جب ایک لاکھ روپے کا چیک کیش ہو جائے گا، مشین کے کرایہ میں سے یہ بھی کم ہو جائے گا کیونکہ کہ *** نے مشین فروخت کرنے کے بعد کرایہ بر قرار رکھا۔ کرایہ 24000 روپے ماہانہ ہے، اگر ایک لاکھ کا چیک کیش ہو جائے گا تو تین ہزار روپے کرایہ میں سے کم ہو جائے گا۔ کیا یہ صورت جائز ہے یا نا جائز؟ جو کہ یہ ابھی تک ادا کر دیا گیا ہے، اس کا کیا حکم ہے وہ کرایہ مشین کی قیمت سے منہا کیا جائے گا۔ کیا یہ معاملہ ختم کر دیا جائے گا اور کرایہ  جو ادا کر دیا گیا وہ کس ضمن میں ہو گا؟

وضاحت: عملاً یہ صورت اختیار کی گئی ہے کہ *** کے پاس کاروبار کے لیے رقم موجود نہیں تھی، *** نے یہ کہا کہ یہ لو پیسے، میں یہ پیسے پورے واپس لوں گا اور ہر ماہ اتنا کرایہ لوں گا۔ شکور نے مشین لے لی، *** نے کوئی قبضہ بھی نہیں کیا۔

اب صورت حال یہ ہے کہ کرایہ کی مد میں شکور 8.5 لاکھ روپے ادا کر چکا ہے، اور اصل قیمت میں سے 10.5 روپے ادا کر چکا ہے۔ *** نے *** سے یہ بھی طے کروا لیا ہے کہ اب وہ مزید کرایہ ادا نہ کرے گا۔ (کل قیمت 14.5 تھی)

*** کا یہ کہنا ہے کہ ہم نے علماء سے پوچھا ہے کہ اس طرح معاملہ کرنا درست ہے، کوئی تحریری ثبوت موجود نہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

فریقین نے جو صورت اختیار کی ہے وہ  Hire Purchase (اجارہ و خرید) کی ہے۔ ***اپنی مشین میں مشاع حصے بناتا ہے۔ ایک حصہ ***کے ہاتھ فروخت کرتا ہے اور باقی 19 حصے کو اجارے پر دیتا ہے۔*** سے 20 قسطوں میں یہ معاملہ کرتا ہے اور ہر قسط ایک حصے کے ثمن اور باقی حصوں کی اجرت پر ہوتی ہے و ھلم جرا۔ ظاہر ہے کہ 18 حصوں کا کرایہ 19 حصوں کے کرائے سے کم ہو گا۔

*** کو چاہیے تھا کہ وہ ہر ماہ *** سے ایک حصے کی خرید و فروخت کرتے اور باقی حصوں میں کرایہ کا معاملہ کرتے، لیکن انہوں نے پوری مشین کی بیع کا اور اجارے کا معاملہ بیک وقت کیا جو کہ متضاد ہیں۔

اب فریقین خوب توبہ کریں اور اگر ہو سکے تو باقی ادائیگی فوری کر کے معاملہ ختم کر دیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو قسطین پوری کریں اور آئندہ سمجھ داری سے کام لیں اور موٹے موٹے مسائل سیکھ لیں۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved