• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

البم والے کپڑوں کی خرید و فروخت

استفتاء

سائل آپ سے ایک مسئلہ جو کہ تجارت سے متعلق ہے دریافت کرنا چاہتا ہے، مسئلہ عرض ہے:

سائل کپڑے کی تجارت میں مشغول ہے اور خاندان کی تیسری نسل اس کاروبار سے منسلک ہے، عارض مستورات کے موسمی پہناوے خود بھی تیار کرتا ہے اور بازار سے تیار مال خرید کر بیچتا بھی ہے۔ چند سال پہلے تک یہ کپڑے تھانوں میں پیک کر کے ہی بیچے جاتے تھے، لیکن اب اس کی پیکنگ کا انداز بدل رہا ہے، اس کپڑے کو اب باقاعدہ پلاسٹک کے تھیلیوں میں ایک ایک سوٹ ڈال کر فروخت کیا جا رہا ہے۔

بعض ادارے اپنے مال کی خوبصورتی عیاں کرنے کے لیے اور ا سکی پبلسٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی خاتون ماڈل کو پہنا کر اور اس کی تصویریں اترواتے ہیں اور ان تصاویر کو باقاعدہ سوٹوں کے ساتھ جوڑتے ہیں اور پھر ان کی البم بنوا کر ہم جیسے دکانداروں کو تقسیم کرتے ہیں تاکہ ان تصاویر والے ملبوسات کی فروخت بڑھ سکے، اور یہ رواج دن بدن بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ تقریباً ہر بڑا اور نامور ادارہ اس انداز کو اختیار کر رہا ہے۔ نمونہ کے طور پر سوٹ اور البم اس پرچے کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ

1۔ اس ترتیب پر کپڑے کو بیچنا کیسا ہے؟

2۔ اگر درست نہیں ہے تو اس کا بہتر راستہ کیا ہونا چاہیے؟ تاکہ ہم سب گناہوں سے بچ سکیں۔

3۔ اگر یہ درست نہیں ہے تو جتنا مال اس ترتیب پر بیچا گیا ہے، اس کے نفع کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ آیا جائز ہے یا نا جائز؟

اہم وضاحت:

1۔ کپڑے اب پہلے کی طرح ایک یا دو ٹکڑوں پر مشتمل نہیں ہوتے بلکہ کئی ٹکڑوں پر مشتمل ہوتے ہیں، مثلاً قمیض کا فرنٹ الگ، بیک الگ، بازو الگ اور اس پر لگنے والے مختلف ڈیزائندار پیچ (Patch) الگ الگ ہوتے ہیں۔ ان سب چیزوں کو ایک سوٹ کی صورت میں سلوا کر ماڈل کو پہنایا جاتا ہے تاکہ اس کی صحیح صورت سامنے آ سکے۔ دوسری صورت میں اگر ایسا نہ کریں تو سوٹ کی صحیح ہیئت ظاہر نہیں ہو گی۔

2۔ اس کے علاوہ ایک تصویری البم کے ذریعے 15 سے 20 ڈیزائن ایک کتابی شکل میں اکٹھے کر دیے جاتے ہیں، اس طرح گاہک یعنی مستورات سہولت سے اپنی پسند کا ڈیزائن پسند کر لیتی ہیں اور دکاندار کو بھی مال بیچنے میں سہولت ہوتی ہے۔

3۔ سائل تھوک میں کپڑا بیچتا ہے اس کے لیے ان چیزوں کی اہمیت یہ ہے کہ کم محنت اور وقتِ قلیل میں محض ایک البم کے ذریعے کثیر مال فروخت کیا جا سکتا ہے۔

4۔ اس اندازِ تجارت کو بہت زیادہ عوامی اور تجارتی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔

5 ۔  مزید یہ ہے کہ اگر ان تصاویر میں چہرے پر رنگ پھیر دیا جائے یا ان کو کاٹ دیا جائے تو اندیشہ ہے کہ بعض ریٹیل کا کام کرنے

والے دکاندار اعتراض کریں کہ جناب ہم نے تو یہ تصاویر عورتوں کو دکھانا ہوتی ہیں آپ ایسا کریں گے تو ہم دکانداری کیسے کریں گے؟

6۔ بعض ادارے البم میں ایسے پوز بھی بنواتے ہیں جو کہ نیم عریانی کی صورت ظاہر کرتی ہیں۔

7۔ آخر میں ایک عرض یہ ہے کہ اس طریقے سے کپڑے کو بیچنا اب اس قدر عام ہو چکا ہے کہ اس کو ختم کرنا اب نا ممکن نہیں تو آسان بھی نہیں ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

2-1۔ مذکورہ صورت میں آپ کا کپڑا بیچنا تو جائز ہے لیکن کپڑے کے ساتھ مذکورہ تصاویر رکھنا یا دینا جائز نہیں، البتہ اگر تصویر سے سر اور چہرہ کاٹ دیا جائے اور باقی تصویر بھی حیاء کے خلاف نہ ہو تو ایسی تصاویرکپڑے کے ساتھ دی جا سکتی ہیں۔

3۔ جو مال پہلے اس طریقے پر بیچا گیا ہے اس کے نفع میں کچھ حرج نہیں۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved