- فتوی نمبر: 34-238
- تاریخ: 06 جنوری 2026
- عنوانات: مالی معاملات > خرید و فروخت > بیع فاسد کے احکام
استفتاء
امریکہ میں مقیم مسلمان کے لئے سور کے گوشت کا کاروبار کرنا کیسا ہے ؟ وہاں سور کا گوشت پیزا،برگر اور شوارما میں استعمال ہوتا ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
امریکہ میں مقیم مسلمان کے لئے بھی سور کے گوشت کا کاروبار کرنا جائز نہیں ہے ۔
توجیہ : مسلمان کے لیے اگرچہ دار الحرب میں خنزیر کافر کو بیچنے کی گنجائش ہے کیونکہ مسلمان کے لیے حربی سے اس کی رضامندی سے اس کا مال لینا جائز ہے ،لیکن کاروبار کرنے میں چونکہ خنزیر خریدنا بھی پڑے گا جبکہ مسلمان کے لیے خنزیر خریدنے کی اجازت نہیں کیونکہ مسلمان خنزیر کا تملک نہیں کر سکتا خواہ خود خریدے یا وکیل سے خریدوائے ۔نیز کاروبار کرنے میں خنزیر کے ساتھ ملابست بھی لازم آتی ہے جبکہ خنزیر کو شریعت میں نجس العین اور حرام قرار دیا گیا ہے لہذا مسلمان کے لیے خنزیر کے ساتھ بلا ضروت شدیدہ ملابست بھی جائز نہیں اور کاروبار کرنا ضرورت شدیدہ میں شامل نہیں ۔
المحیط البرہانی (7/ 231)میں ہے :
«إذا دخل المسلم دار الحرب بأمان أو بغير أمان وعقد مع حربي عقد الربا بأن اشترى درهماً بدرهمين أو اشترى درهماً بدينار إلى أجل، أو باع منهم خمراً أو خنزيراً أو ميتة أو دماً بمال؛ قال أبو حنيفة ومحمد رحمهما الله: ذلك كله جائز، وقال أبو يوسف: لا يجوز بين المسلم وأهل الحرب في دار الحرب إلا ما يجوز بين المسلمين.
ہندیہ (3/ 248)میں ہے :
دخل مسلم أو ذمي دار الحرب بأمان أو بغيره وعقد مع الحربي عقد الربا بأن اشترى درهما بدرهمين أو درهما بدينار إلى أجل معلوم أو باع منهم خمرا أو خنزيرا أو ميتة أو دما بمال فذلك كله جائز عند الطرفين وقال القاضي لا يجوز بين المسلم، والحربي ثمة إلا ما يجوز بين المسلمين كذا في جواهر الأخلاطي،
شرح مختصر الکرخی (3/ 297)میں ہے:
«ان المسلم لا يملك شراء الخمر فلا يملك الأمر بها»
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص417) میں ہے:
«(أو أمر المسلم ببيع خمر أو خنزير أو شرائهما) أي وكل المسلم (ذميا أو) أمر (المحرم غيره) أي غير المحرم (ببيع صيده) يعني صح ذلك عند الامام مع أشد كراهة كما صح ما مر، لان العاقد يتصرف بأهليته وانتقال الملك إلى الآمر أمر حكمي.وقالا: لا يصح، وهو الاظهر.»
تکملہ فتح القدير نتائج الافكار فی كشف الرموز والاسرار (8/ 366) میں ہے:
«ومعنى المسألة إذا قال لفلان علي ألف من ثمن خمر أو خنزير (لزمه الألف ولم يقبل تفسيره عند أبي حنيفة وصل أم فصل) لأنه رجوع لأن ثمن الخمر والخنزير لا يكون واجبا وأول كلامه للوجوب (وقالا: إذا وصل لا يلزمه شيء) لأنه بين بآخر كلامه أنه ما أراد به الإيجاب وصار كما إذا قال في آخره إن شاء الله.»
ومعنى المسألة) أي معنى المسألة التي ذكرها القدوري (إذا قال لفلان علي ألف من ثمن خمر أو خنزير لزمه الألف ولم يقبل تفسيره) يعني قوله من ثمن خمر أو خنزير (عند أبي حنيفة وصل أم فصل؛ لأنه) أي لأن تفسيره رجوع عن إقراره (لأن ثمن الخمر والخنزير لا يكون واجبا) على المسلم (وأول كلامه) وهو قوله علي الألف (للوجوب) والرجوع عن الإقرار باطل (وقالا) أي قال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله (إذا وصل لا يلزمه شيء لأنه) أي المقر (بين بآخر كلامه أنه ما أراد به) أي بأول كلامه (الإيجاب) لأنه يحتمل أنه بنى إقراره على عادة الفسقة، فإن الخمر مال يجري فيه الشح والضنة وقد اعتاد الفسقة شراءها وأداء ثمنها فكان آخر كلامه بيانا مغيرا فيصح موصولا، كذا في الشروح.أقول: هذا لا يتمشى فيما إذا قال من ثمن خنزير لأنه لا يحتمل في هذه الصورة أن يبني إقراره على عادة الفسقة من المسلمين كما في صورة أن قال من ثمن خمر، إذ لا يقع منهم شراء الخنزير ولا أداء ثمنه أصلا فضلا عن اعتيادهم بذلك،
فتاوی دار العلوم دیوبند (14/358)میں ہے:
جواب:۔۔۔۔۔۔امر اول کے متعلق قرآن و حدیث اور تصریحات فقہاء صاف موجود ہیں جو کہ ٹھیکہ مذکورہ کو بوجہ ملابست و تعاطی و انتفاع بالخمر کے حرام و ناجائز قرار دیتی ہیں ۔كما قال الله تبارك وتعالى: انما الخمر والميسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشيطن فاجتنبوه
اس آیت میں خمر کو عمل شیطان کا نجس قرار دے کر اس سے اجتناب کا حکم فرمایا گیا ،پس یہ اجتناب خمر کے احکام میں سے ہوگا جو کہ ملابست وتجارت خمر کی صورت میں جاتا رہتا ہے ۔ اس میں دار الحرب اور دار الاسلام کا کوئی دخل نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔البحر الرائق میں ہے :لم يجز بيع الميتة والدم ……والخنزير والخمر اي في حق المسلم للنهي عن بيعهما وقربانهما
فتاوی قنیہ میں اس سے بھی واضح ہے :
وأما الخمر فيحرم الانتفاع بها من كل وجه الا أن تتخذ خلا أو مريا……
یہاں تک ٹھیکہ مذکور کی حرمت اس وجہ سے ثابت ہوئی کہ اس میں خمر کی تجارت،خمر کی ملابست ،خمر سے حصول انتفاع پایا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر بالفرض جزیرہ مذکورہ میں وہ تمام امور پائے جائیں جو دار الحرب ہونے کے لیے شرط ہیں تو بھی صورت مسئولہ کے بعض اجزاء ایسے ہیں جن کے ہوتے ہوئے باوجود”مورس” کے دار الحرب ہونے کے بھی ٹھیکہ مذکورہ ناجائز قرار پاتا ہے مثلا ٹھیکہ مذکورہ میں دو باتیں لازمی ہیں :
ایک یہ کہ ٹھیکہ دار خمر کو سرکار سے خرید،دوم مسلم و غیر مسلم دونون سے فروخت کرے ،یہ ایسے احکام ہیں جو کہ دار الحرب میں کسی طرح جائز نہیں اس لیے کہ مسلمان کے لیے خمر کا تملک(مالک بننا)خواہ خود خرید کر کے مالک بن جائے یا بذریعہ وکیل (مثل ایجنٹ یا مختار کے)خرید کراکے مالک بن جائے دونوں صورتیں شرعا ناجائز ہیں۔كما في الدر المختار : أو امر المسلم ببيع خمر الخ اور اس مسئلہ کے تحت میں صاحب شامی وغیرہ تصریح کرتے ہیں کہ یہ وکالت بھی مکروہ تحریمی ہے ………………….. یہ بھی واضح رہے کہ دار الحرب میں میتہ وغیرہ کی قیمت کی جو اجازت فقہاء نے دیدی ہے اس میں اس کی تصریح کہیں نہیں ہے کہ اخذ و نقل و ملابست انجاس بھی جائز ہے بلکہ منظومہ ابن وہبان کے شعر:
وما مات لا تطعمه كلبا فإنه … خبيث حرام نفعه متعذر
سے معلوم ہوتا ہے کہ ملابست وتعاطی و انتفاع بالانجاس سب کچھ ممنوع ہے ۔ پس معلوم ہوا کہ ٹھیکہ مذکورہ میں تملک خمر اور اہل اسلام کے ساتھ عقود فاسدہ اور معاملات ربویہ کے ارتکاب مناہی و معاصی ضروری ہیں جوکہ بلا شبہ ناجائز ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved