- فتوی نمبر: 5-241
- تاریخ: 03 دسمبر 2012
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان
استفتاء
ایک آدمی نے اپنی بیوی سے غصے کی حالت میں پنجابی میں یوں کہا ” ویلے نال فارغ ہو” جس کا اردو ترجمہ یہ ہے ” وقت سے فارغ ہو” یا ” جلدی سے فارغ ہو”۔ویلا ’’وقت ‘‘ کو کہتے ہیں اور نال کا مطلب ’’ سے ‘‘ہے۔ کیا بیوی کو طلاق ہوگئی ہے؟ اور ہوئی ہے تو کون سی اور کتنی ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔ وجہ یہ ہے کہ ’’ فارغ ہو‘‘ امر کا صیغہ ہے جملہ خبریہ نہیں۔ جب کہ کنایہ کی تیسری قسم میں ’’ تم فارغ ہو ‘‘یا ’’ توفارغ ہے ‘‘یہ خبریہ جملے ہیں جو انشاء کو متضمن ہیں اس لیے اس کو کنایہ کی تیسری قسم کے ان جملوں کے تحت شامل نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ اسے طلب یا پیشکش پر محمول کیا جائے گا۔ جیسے اردو محاورے میں ’’ طلاق لے لو ‘‘کا جملہ ہے کہ اگرچہ’’ خذي طلاقك ‘‘کا ترجمہ ہے لیکن اس سے وقوع طلاق نہیں ہوتا۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved