- فتوی نمبر: 12-371
- تاریخ: 23 اگست 2018
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان
استفتاء
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع درج ذیل مسئلہ کے بارے میں :
میری سسرال والوں سے لڑائی ہوئی تھی جس کی وجہ سے میری بیوی سے بھی لڑائی ہوئی۔اس لڑائی کے دوران میں نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ بولے ’’اپنے گھر گئی تو میری طری سے پکی طلاق ہے اور میری طرف سے بالکل فارغ ہو اور میں تمہیں دوبارہ نہیں لائوں گا‘‘آگے سے کہتی ہے مجھے منظور ہے ۔اور وہ ابھی تک نہیں گئی ۔
نوٹ : اس لڑائی سے پہلے میں اسے یہ کہتا رہتا تھا کہ ’’اگر اپنے گھر گئی تو میں طلاق دیدوں گا ‘‘مگر میں اس کو لے جاتا رہا ۔شریعت کی روشنی کی میں راہنمائی فرمائیں؟
وضاحت مطلوب ہے :
’’پکی طلاق ہے ‘‘اور’’ بالکل فارغ ہو ‘‘ اس سے خاوند کی مراد کیا تھی ؟ایک طلاق یا تین طلاقیں تھیں؟ یا کچھ بھی نہیں؟
جواب وضاحت :
میری مراد یہ تھی کہ اگر یہ چلی گئی تو دوبارہ میں نہیں رکھوں گا ۔ایک طلاق ،تین طلاقیں کچھ بھی مراد نہیں تھی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر آپ کی بیوی اپنے گھر گئی تو اسے ایک بائنہ طلاق ہو جائے گی جس کی وجہ سے سابقہ نکاح ختم ہو جائے گا تاہم تجدید نکاح کرکے اکٹھے رہنے کی بھی گنجائش ہو گی۔
توجیہ: شوہر نے تعلیق میں تین جملے ذکر کئے ہیں (۱)’’میری طرف سے پکی طلاق ہے ‘‘اس جملے سے ایک بائنہ طلاق ہوئی کیونکہ شوہر نے طلاق کے ساتھ پکی کا لفظ ذکر کر کے اس میں شدت پید اکردی۔(۲)’’میری طرف سے بالکل فارغ ہو‘‘ اس جملے سے بھی ایک بائنہ طلاق واقع ہوئی اور چونکہ یہ بائنہ طلاق کنائی ہے اس لیے یہ طلاق سابقہ طلاق کے ساتھ لاحق نہ ہوگی ۔مذکورہ جملے سے بالکل کے لفظ کی وجہ سے تین طلاقیں نہ ہوں گی کیونکہ فارغ کا لفظ صفت ہے نہ کہ مصدر ۔اس لیے بالکل کا لفظ اسے تین طلاقوں میں تبدیل نہ کرے گاجیسا کہ فتاوی شامی (493/4) میں ہے:
فروع :يقع بأنت طالق کل التطيقة واحدة وکل تطليقة ثلاث قوله (يقع بأنت طالق الخ)لان کلا اذا اضيف الي معرف افادت عموم الاجزاء واجزاء الطلقة لا تزيد علي طلقة واذا اضيف الي منکر افادت عموم الافراد ۔۔۔۔۔۔
تنبيه:ذکر في الذخيرة :لوقال کل الطلاق فواحدة وهکذا نقل عنهافي البحر لکن في مختارات النوازل انه يقع ثلاث۔
قلت :وهو الذي يظهر ،لان الطلاق مصدر يحتمل الثلاث بخلاف الطلقة علي انه ذکر في الذخيرة ايضا انت طالق الطلاق کله فهوثلاث ولا فرق بين کل الطلاق والطلاق کله۔ تامل
خیر الفتاوی (101/5)میں ہے:
سوال: زید اور زینب سفر کررہے تھے وہیں جھگڑا ہو گیا زینب نے کہا مجھے طلاق دے زید نے لکھ دیا میں نے تمہیں طلاق ، زینب نے کہا یوں نہیں بلکہ لکھ دو میں نے تمہیں مکمل طلاق دی زینب کے اصرار پر زید نے یہی لکھ دیا کہ میں نے تمہیں مکمل طلاق دی تو اس سے کونسی طلاق واقع ہوئی ؟
جواب : صورت مسئولہ میں ایک طلاق بائنہ واقع ہو گئی ۔دوبارہ تجدید نکاح کر لیں
© Copyright 2024, All Rights Reserved