• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

اپنی رقم سے ایک وارث کا اپنے مورث کی طرف سے اپنے بھائی کو فدیہ دینا

استفتاء

زید  کی زندگی کی کئی سالوں کی نمازیں رہتی تھیں۔ مرنے سے قبل زید نے وصیت کی کہ میرے نمازوں کا فدیہ ادا کر دیا جائے۔

مگر ترکہ میں اتنا مال نہیں جس کے تہائی بلکہ مکمل سے بھی فدیہ ادا کیا جا سکے۔ ورثاء میں سے ایک وارث یہ فدیہ اپنی جیب سے ادا کرنا چاہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ فدیہ وہ وارث اپنے بھائی بہن یعنی میت کی اولاد کو دے سکتا ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

دے سکتا ہے جبکہ اس کے بھائی بہن زکوٰۃ کے مستحق ہوں کیونکہ وارث اپنے مال میں سے دے رہا ہے میت کے مال میں سے نہیں۔ میت کی طرف سے تبرعاً دے رہا ہے کیونکہ وجوب میت پر تھا اور وجوب دوسرے کی طرف منتقل نہیں ہوتا۔  فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

 

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved