- فتوی نمبر: 32-77
- تاریخ: 11 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > پردے کا بیان
استفتاء
اگر ناک چھدوانے کے لیے صرف مرد ہی میسر ہوں تو کیا ان سے ناک چھدواسکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
عورتوں کے لیے ناک چھدوانے کی گنجائش تو ہے البتہ نامحرم مرد سے ناک چھدوانا جائز نہیں۔ لہٰذا مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی محر م خاتون کو یہ کام سکھادے تاکہ عورتیں اس سے ناک چھدواسکیں۔
توجیہ: عورت کو علاج کی غرض سے ضرورت کی بنا پر نامحرم مرد کے سامنے بقدر ضرورت بدن کا متاثرہ حصہ کھولنے کی اجازت ہے لیکن ناک چھدوانا بطور علاج نہیں ہے بلکہ زینت کی غرض سے ہے اس لیے ناک چھدوانا ایسی ضرورت نہیں ہے جس کی وجہ سے عورت کے لیے اپنا چہرہ نامحرم مرد کے سامنے کھولنا جائز ہو۔
شامی (9/693) میں ہے:
وهل يجوز الخزام في الانف، لم أره.
(قوله لم أره) قلت: إن كان مما يتزين النساء به كما هو في بعض البلاد فهو فيها كثقب القرط.
شامى (2/97) میں ہے:
(وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين الرجال) لا لانه عورة بل (لخوف الفتنة)
وفى الشامية: والمعنى تمنع من الكشف لخوف أن يرى الرجال وجهها فتقع الفتنة لأنه مع الكشف قد يقع النظر إليها بشهوة.
مجمع الزوائد (4/326) میں ہے:
وعن معقل بن يسار قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لأن يطعن في رأس أحدكم بمخيط من حديد خير له من أن يمس امرأة لا تحل له “
ہندیہ(5/330) میں ہے:
ويجوز النظر إلى الفرج للخاتن وللقابلة وللطبيب عند المعالجة ويغض بصره ما استطاع، كذا في السراجية………. امرأة أصابتها قرحة في موضع لا يحل للرجل أن ينظر إليه لا يحل أن ينظر إليها لكن تعلم امرأة تداويها، فإن لم يجدوا امرأة تداويها، ولا امرأة تتعلم ذلك إذا علمت وخيف عليها البلاء أو الوجع أو الهلاك، فإنه يستر منها كل شيء إلا موضع تلك القرحة، ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع إلا عن ذلك الموضع، ولا فرق في هذا بين ذوات المحارم وغيرهن؛ لأن النظر إلى العورة لا يحل بسبب المحرمية، كذا في فتاوى قاضي خان.
مسائل بہشتی زیور(2/445) میں ہے:
عورتوں کو ناک چھدوانے اور اس میں لونگ یعنی ناک کی کیل کے استعمال میں اختلاف ہے۔ استعمال کی گنجائش ہے البتہ احتیاط بہتر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved