- فتوی نمبر: 32-102
- تاریخ: 20 جنوری 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
1۔عورت کا مرد شیخ (پیر) سے بیعت ہونا کیسا ہے؟ یعنی اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
2۔ اگر بیعت ہونا ہو تو کن امور کی رعایت ضروری ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔عورت کے کسی مرد سے بیعت ہونے کی شرعی حیثیت مستحب کی ہے۔
2۔اگر بیعت ہونا ہو تو مندرجہ ذیل أمور کی رعایت ضروری ہے:
1۔ شرعی حدود یعنی پردے وغیرہ کی رعایت کے ساتھ ہو۔
2۔پیر پابند شریعت ہو اور شریعت کا ضروری علم اسے حاصل ہو۔
3۔اس نے کسی متبع شریعت شیخ کی تربیت میں ایک معتد بہ وقت گزارا ہو۔
4۔اپنے شیخ کی طرف سے اسے باقاعدہ بیعت کرنے کی اجازت ہو۔
5۔ اس کے زمانے کے بڑے مشائخ کو اس پر اعتماد ہو۔
6۔ عورت اور پیر دونوں نوجوان نہ ہوں بلکہ یا عورت بڑی عمر کی ہو یا پیر بڑی عمر کے ہوں کیونکہ دونوں کے نوجوان ہونے کی صورت میں عموماً فتنے کا خوف بڑھ جاتا ہے بالخصوص موجودہ دور میں۔
7۔ اگر عورت غیر شادی شدہ ہو تو والدین کی اور اگر شادی شدہ ہو تو خاوند کی اجازت ہو ۔
8۔ بیعت پردے میں ہو اور کپڑا پکڑ کر ہوہاتھ پکڑ کر نہ ہو۔
9۔ شیخ سے جب بھی رابطہ کرنا ہو اپنے شوہر یا اپنے والد یا اپنے کسی ایسے محرم کے ذریعے ہو جو عمر میں اس عورت سے اتنا بڑا ہوجس کے ذریعے رابطہ کرنے میں فتنے کا خوف نہ ہو۔
فتاوی رشیدیہ (ص:62) میں ہے:
سوال: عالم یا فقیر سے مرید ہونا کوئی ضروری بات ہے یا مستحب ہے؟
جواب:مرید ہونا مستحب ہے واجب نہیں۔
فتاوی رشیدیہ (ص:62) میں ہے:
سوال: اکثر عورتیں جو بعض صوفیوں سے بیعت ہوتی ہیں بلا حجاب بے پردہ سامنے آتی ہیں اور ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت ہوتی ہیں اور کچھ عیب نہیں سمجھا جاتا ہے اور خود یہ بیعت بھی رسمی ہوتی ہے کیونکہ خود شرک و بدعت میں مبتلا ہوتی ہیں نماز تک نہیں پڑھتیں چہ جائیکہ طریقت اور اس پر فخر ہوتا ہے اور جو عورتیں کہ بیعت نہیں ہیں ان کو طعن کیا جاتا ہے لہٰذا ایسا بیعت ہونا حرام ہے یا نہیں؟
جواب: ایسے پیر سے بیعت ہونا حرام ہے اور ایسی بیعت بھی حرام ہے اور پیر کے ہاتھ میں ہاتھ دینا غیر محرم عورتوں کو حرام ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بوقت بیعت عورتوں کا ہاتھ نہیں پکڑتے تھے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
بہشتی زیور(ص:551) میں ہے:
اگر مرید ہونے کا ارادہ ہو تو اول پیر میں یہ باتیں دیکھ لو. جس میں یہ باتیں نہ ہوں ان سے مرید نہ ہوں. ایک یہ کہ وہ پیر دین کے مسئلے جانتا ہو. شرع سے ناواقف نہ ہو. دوسرے یہ کہ اس میں کوئى بات خلاف شرع نہ ہو. جو عقیدے تم نے اس کتاب کے پہلے حصہ میں پڑھے ہیں ویسے اس کے عقیدے ہوں جو جو مسئلے اور دل کے سنوارنے کے طریقے تم نے اس کتاب میں پڑھے ہیں کوئى بات اس میں ان کے خلاف نہ ہو. تیسرے کمانے کھانے کے لیے پیرى مریدى نہ کرتا ہو. چوتھے کسى ایسے بزرگ کا مرید ہو جس کو اکثر اچھے لوگ بزرگ سمجھتے ہوں. پانچویں اس پیر کو بھى اچھے لوگ اچھا کہتے ہوں. چھٹے اس کى تعلیم میں یہ اثر ہو کہ دین کى محبت اور شوق پیدا ہو جائے یہ بات اس کے اور مریدوں کا حال دیکھنے سے معلوم ہو جائے گى۔۔۔۔ ساتویں اس پیر میں یہ بات ہو کہ دین کى نصیحت کرنے میں مریدوں کا لحاظ ملاحظہ کرتا ہو. بیجا بات سے روک دیتا ہو. جب کوئى ایسا پیر مل جائے تو اگر تم کنوارى ہو تو ماں باپ سے پوچھ کر اور اگر تمہارى شادى ہو گئى ہے تو شوہر سے پوچھ کر اچھى نیت سے یعنى خالص دین کے درست کرنے کى نیت سے مرید ہو جاؤ
تربیت السالک(ص:50) میں ہے:
شیخ کامل وہ ہے جس میں یہ علامات ہوں ۔۔۔۔
(1) بقدر ضرورت علم دین جانتا ہو۔
(۲) دوسرے شریعت پر پوری طرح کار بند ہو ( عامل ہو ) اس کا عمل عقیدے اورعادتیں سب شریعت کے موافق ہوں۔ (یعنی) عقائد و اعمال و اخلاق میں شرع کا پابند ہو۔
(۳) تیسرے اس میں یہ بات ہو کہ جس بات کو خود جانتا نہ ہو علما سے رجوع کرتا ہو۔
(۴) چوتھے دنیا کی حرص نہ رکھتا ہو اور کامل ہونے کا دعویٰ نہ کرتا ہو کیونکہ یہ بھی دنیا کی ایک شاخ ہے۔
(۵) کسی شیخ کامل کے پاس کچھ دنوں تک رہا ہو۔
(۶)چھٹویں یہ کہ علماء سے اس کو وحشت نہ ہو۔
(۷) ساتویں یہ کہ اس میں روک ٹوک کی عادت ہو، مریدین اور متعلقین کو ان کی حالت پر نہ چھوڑ دیتا ہو، کوئی بری بات دیکھتا یا سنتا ہو تو روک ٹوک کرتا ہو، یہ نہ ہو کہ ہر ایک کو اس کی مرضی پر چھوڑ دے ، اپنے مریدوں ( اور ماتحتوں ) کی تعلیم و تربیت دل سے کرتا ہو، مریدوں کے حال پر شفقت رکھتا ہو۔
(۸) آٹھویں خود بھی ذکر و شغل کرتا ہو کیونکہ اس کے بغیر تعلیم میں فائدہ نہیں ہوتا، اور برکت نہیں ہوتی۔
(9) نویں اس کی صحبت میں یہ برکت ہو کہ اس کے پاس بیٹھنے سے دنیا کی محبت کم ہوتی ہو اور اللہ کی محبت زیادہ معلوم ہوتی ہو۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل(232/8)میں ہے:
شیخ کامل کی چند علامات ذکر کرتا ہوں ، جوا کا بر نے بیان فرمائی ہیں:
ضروریات دین کا علم رکھتا ہو۔
کسی کامل کی صحبت میں رہا ہو، اور اس کے شیخ نے اس کو بیعت لینے کی اجازت دی ہو۔
اس کی صحبت میں بیٹھ کر آخرت کا شوق پیدا ہو، اور دُنیا کی محبت سے دل مردہ ہو جائے ۔
اس کے مریدوں کی اکثریت شریعت کی پابند ہو، اور رسوم و بدعات سے پر ہیز کرتی ہو۔
وہ نفس کی اصلاح کر سکتا ہو ، رذیل اخلاق کے چھوڑنے اور اخلاق حسنہ کی تلقین کی صلاحیت رکھتا ہو۔
وہ مریدوں کی غیر شرعی حرکتوں پر روک ٹوک کرتا ہو۔
القول الجمیل (ص:20) میں ہے:
فشرط من يأخذ البيعة أمور احدها علم الكتاب والسنة…والشرط الثاني العدالة والتقوي فيجب ان يكون مجتنبا عن الكبائر غير مصر علي الصغائروالشرط الثالث ان يكون زاهدا في الدنيا راغبا في الآخرة مواظبا علي الطاعات…والشرط الرابع ان يكون آمرا بالمعروف وناهيا عن المنكر…والشرط الخامس ان يكون صحب المشائخ وتادب بهم دهرا طويلا واخذ منهم النورالباطن والسكينة
کفایت المفتی(105/2) میں ہے:
’’بیعت توبہ کا طریقہ مسنونہ یہ ہے کہ مرشد لوگوں سے اس بات پر بیعت لے کہ وہ گناہوں سے اجتناب کریں گے اور فرائض الہیہ بجا لاتے رہیں گے نیز لازم ہے کہ مرشد خود بھی سنت نبویہ کا متبع ہو اور کوئی امر قصداً سنت کے خلاف نہ کرے پس پیری مریدی اگر اس حد تک محدود رہے تو وہ صحیح اور جائز ہے اور اگر اس حد سے متجاوز ہو مثلاً مرشد خود ہی بے شرع ہو سنت کے خلاف اعمال کرتا ہو مریدوں کو بھی اتباع شریعت اور پیروی سنت کی تلقین نہ کرتا ہو ،گناہوں سے بچنے کی ہدایت نہ کرتا ہو ان سے کوئی ٹیکس وصول کرتا ہو عورتوں کو بے پردہ سامنے آنے دیتا ہو،ان سے پاؤں دبواتا ہو یا بے پردہ حلقہ ذکر عورتوں کا منعقد کرتا ہو تو ان حالات میں بیعت اور پیری مریدی نا جائز ہے۔‘‘
فتاوی محمودیہ(417/4)میں ہے:
’’سوال (۱۵۴۰): عورتوں کے اجتماع میں اس مسئلہ پر بڑی کش مکش چل رہی ہے، ایک فریق کہتا ہے کہ پیری مریدی مرد عورت دونوں کیلئے جائز ہے، دوسرا فریق کہتا ہے کہ صرف مردوں کیلئے درست ہے،تیسر افریق کہتا ہے کہ پیری مریدی نہ عورتوں کیلئے درست ہے نہ مردوں کیلئے۔ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
الجواب حامداً ومصلياً :اصلاح نفس کی ضرورت مردوں کو بھی ہے اور عورتوں کو بھی ہے، اسی مقصد کیلئے مرید ہونے کی ضرورت ہوتی ہے مگر دوسروں کی اصلاح کرنا اور مرید کر کے ذکر وشغل کی تلقین کرنا یہ کام مردوں کیلئے مخصوص ہے، معمولی باتوں کا مشورہ عورت بھی دے سکتی ہے مرید نہیں کر سکتی ۔ فقط واللہ تعالی اعلم ۔‘‘
انفاس عیسی (ص:503) میں ہے:
حضرت والا مستورات کو اس وقت تک بیعت نہیں فرماتے جب تک کہ وہ اپنے شوہروں کی یا بے شوہر ہونے کی صورت میں اپنے کسی محرم سر پرست کی صریح اجازت حاصل کر کے پیش نہیں کرتیں، اس میں علاوہ بہت سی مصالح مثلاً: انسدادِ آزادی وغیرہ کے لیے یہ بھی مصلحت ہے کہ اگر شوہر یا سرپرست مختلف المشرب ہوا تو گھر میں ہمیشہ لڑائی ہی رہنے لگے اور بے چاری عورت کی عافیت ہی تنگ ہو جاوے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved