• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

عیب دار چیز بیچتے وقت عیب بیان نہ کرنا

استفتاء

اگر کوئی شخص عیب دار  چیز بیچتے وقت عیب بیان نہ کرے بلکہ خریدار سے یہ کہہ دے کہ اس چیز کو اچھی طرح دیکھ لو بعد میں اگر کوئی خرابی نکل آئی تو اس کا ذمہ دار نہیں ہوں، اس کہنے پر خریدار نے وہ چیز خرید لی تو اس صورت میں خریدار کو "خیار عیب” کی وجہ سے وہ چیز واپس کرنے کا اختیار نہیں ہو گا لیکن کیا اس صورت میں بائع کو عیب چھپانے کا بھی گناہ نہ ہو گا؟ جبکہ اسے عیب کا علم ہے۔ براہ کرم بمع حوالہ جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

عیب دار چیز فروخت کرتے ہوئے بائع کے ذمہ ہے کہ وہ خریدار کو اس عیب سے با خبر کر دے اگر نہ کرے گا تو گناہگار ہو گا۔ اور خریدار کو عیب کی وجہ سے سودا واپس کرنے کا اختیار ہو گا۔

  1. لا يحل كتمان العيب في معيب أو ثمن لأن الغش حرام. و قال ابن عابدين رحمه الله تحت قوله (لأن الغش حرام) ذكر في البحر أول الباب بعد ذلك عن البزازية عن الفتاوی إذا باع سلعة معيبة عليه البيان و إن لم يبين قال بعض مشائخنا يفسق و ترد شهادته قال الصدر لا نأخذ به.. الخ قال في النهر أي لا نأخذ بكونه يفسق بمجرد هذا لأنه صغيرة .. الخ قلت: و فيه نظر لأن الغش من أكل أموال الناس بالباطل فكيف يكون صغيرة … الخ (رد المحتار: 7/ 229)

و كما جاء في عدة الأحاديث:

(عن واثلة بن الأسقع) قال إني سمعت رسول الله ﷺ يقول: لا يحل لأحد يبيع شيئا إلا بين ما فيه و لا يحل لمن علم ذلك إلا بينه. (رواه الحاكم و البيهقي و قال الحاكم صحيح الإسناد)

رواه ابن ماجة باختصار القصة إلا أنه قال عن واثلة بن الأسقع قال سمعت رسول الله ﷺ يقول: من باع عيباً لم يبينه لم يزل في مقت الله و لم يزل الملائكة تلعنه.

  1. من وجد بمشريه ما ينقص الثمن عند التجار أخذه بكل الثمن أو رده . ()

البتہ اگر بائع بیچتے وقت عیب سے دستبردار ہو جائے تو خریدار عیب کی وجہ سے اس کو واپس نہیں کر سکتا۔

قال في البحر: و إلی هنا ظهر أن خيار العيب يسقط بالعلم به وقت البيع أو وقت القبض أو الرضا به بعدهما أو اشتراط البراءة من كل عيب أو الصلح علی شيئ. (رد المحتار: 7/ 229)

بیچتے وقت اگر بائع کو عیب کا پتا ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ خریدار کو عیب سے با خبر کر دے۔ مذکورہ دلائل کی رو سے اصل حکم تو یہی ہے۔ لیکن اگر ایسا کرنے کی ہمت نہ ہو تو اتنا کہہ دے کہ آپ اپنی تسلی کر لیں ہم عیب کے ذمہ دار نہ ہوں گے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ جیسا کہ امداد الاحکام میں ہے:

"بہتر یہ ہے کہ عیب صاف صاف بیان کر دیا جائے اگر اس کی ہمت نہ ہو تو کم از کم یوں کہہ دے کہ اچھی طرح دیکھ لو میں عیب کا ذمہ دار نہیں جیسا مال ہے سامنے ہے اس کے بعد بھی جو راضی ہو کر خریدے گا تو آپ پر شرعاً کتمان عیب کا گناہ نہیں ہو گا۔” (3/ 418) فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved