• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ایام حیض میں مہندی لگانے کا حکم

استفتاء

کیا عورت ایام حیض میں مہندی لگاسکتی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

لگاسکتی ہے۔

سنن ابن ماجہ (رقم الحدیث: 174) میں ہے:

عن معاذة أن امرأة سألت عائشة، قالت: تختضب الحائض، فقالت: «قد كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم ‌ونحن ‌نختضب، فلم يكن ينهانا عنه»

ترجمہ: حضرت معاذہؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا  کہ کیا حائضہ عورت مہندی لگاسکتی ہے؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا ہم نبی کریمﷺ کے  پاس ہوتی تھیں اور (حالت حیض میں) مہندی لگایا کرتی تھیں اور آپﷺ اس سے منع نہیں فرماتے تھے۔

شرح سنن  ابن ماجہ لمغلطائی (3/206) میں ہے:

عن معاذة أن امرأة سألت عائشة قالت: تختضب الحائض؟ ………… الخ

هذا حديث إسناده صحيح على شرط الشيخين، وفي كتاب الحيض لأحمد بن حنبل بسند صحيح أيضا، ثنا عبد الرحمن، عن حماد بن سلمة، عن أيوب، وعبيد الله عن نافع: أنّ نساء ابن عمر، وأمهات أولاده كن يختضبن وهنّ حيض.

ترجمہ: ترجمہ: حضرت معاذہؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حضرت عائشہؓ سے پوچھا  کہ کیا حائضہ عورت مہندی لگاسکتی ہے ……… الخ

اس حديث  کی  سند   شیخین ؒ کی شرط پر صحیح ہے اور امام احمد بن حنبلؒ کی کتاب ” الحیض” میں  بھی صحیح سند کیساتھ یہ روایت موجود ہے  ………. حضرت نافع ؒ سے روایت کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی بیویاں اور آپؓ  کی  کنیزیں حالت حیض میں مہندی لگایا کرتی تھیں۔

شرح سنن ابن ماجہ للہرری (4/566) میں ہے:

(قالت) المرأة في سؤالها لعائشة: أ (تختضب الحائض) بالحناء؟ بتقدير همزة الاستفهام التقريري، (فقالت) عائشة في جوابها: (‌قد ‌كنا ‌عند ‌النبي صلى الله عليه وسلم ونحن) معاشر أزواجه (نختضب) في حال حيضنا، (فلم يكن) النبي صلى الله عليه وسلم (ينهانا عنه) أي: عن الاختضاب في حال الحيض

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved