• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

اذان کے بعد تک سحری کھانا

استفتاء

آج صبح ہماری فیملی کو اٹھنے میں دیر ہو گئی جس کی وجہ سے سحری کا وقت پر بندوبست نہ ہو سکا، اس وجہ سےہماری ساری فیملی نے آج اذان ہونے کے 10 منٹ بعد تک سحری کی ہے۔ کیا یہ روزہ شمار ہو گا یا نہیں؟ اور کفارہ ہو گا یا نہیں؟

نوٹ: اس گمان سے 10 منٹ بعد تک سحری کی ہے کہ مجبوری میں اتنی گنجائش ہوتی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں آپ لوگوں کا روزہ صحیح نہیں ہوا، لہذا آپ لوگوں کے ذمہ رمضان کے بعد اس دن کے روزہ کی قضاء لازم ہے، کفارہ لازم نہیں ہے۔

و إن كان أكبر رأيه أنه تسحر و الفجر طالع فلعيه قضائه عملاً بغالب الرأي و فيه الاحتياط و علی ظاهر الرواية لا قضاء عليه، كذا في الهداية و هو الصحيح كذا في السراج و الوهاج هذا إذا لم يظهر شيء و لو ظهر أنه أكل و الفجر طالع يجب عليه القضاء و لا كفارة عليه هكذا في التبيين.

(هنديه: 1/ 194) فقط و الله تعالی أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved