- فتوی نمبر: 35-23
- تاریخ: 12 جنوری 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > عدت کا بیان
استفتاء
حضور ﷺ کی دنیوی وفات کے بعد آپ ﷺکی ازواج مطہراتؓ پر عدتِ وفات نہیں۔
1۔کیا یہ بات درست ہے اور دلائل سے ثابت ہے؟
2۔اس کی کیا وجہ ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ازواج مطہراتؓ پر عدت وفات تھی یا نہیں ؟اس بارے میں اہل علم کے دو طرح کے قول ہیں تاہم راجح یہ ہے کہ عدت وفات نہیں تھی نیز جو حضرات عدت کے قائل ہیں ان میں سے بعض کا یہ قول بھی ہے کہ ازواج مطہراتؓ تاحیات عدت میں تھیں۔
2۔ عدت والے قول کی وجہ تو ظاہر ہے اور عدت نہ ہونے کے قول کی وجہ یہ ہے کہ عدت اس لیے ہوتی ہے کہ عورت عدت کے بعد اگر آگے نکاح کرنا چاہے تو نکاح کرسکے چونکہ ازواج مطہراتؓ کے لیے آگے نکاح کرنا جائز نہ تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہراتؓ کا نکاح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے ختم نہیں ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ازواج مطہراتؓ کے حق میں ایسے تھی جیسے کوئی شخص اپنی بیوی سے روپوش ہو جائے اور ایسی صورت میں جب نکاح ختم نہیں تو عدت بھی نہیں۔ اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں دنیوی حیات کے ساتھ زندہ ہیں یعنی جو جسد اطہر دنیا میں تھا اسی جسد اطہر کے ساتھ حیات کا تعلق ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت عام لوگوں کی موت کی طرح نہیں اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہراتؓ پر عدت نہیں ہے۔
معالم السنن، المؤلف: ابوسلیمان احمد بن محمد بن إبراہيم بن الخطاب ،ت: ٣٨٨(3/38) میں ہے:
ويحكى عن سفيان بن عيينة أنه قال كان نساء النبي صلى الله عليه وسلم في معنى المعتدات لأنهن لا ينكحن وللمعتدة السكنى فجعل لهن سكنى البيوت ما عشن ولا يملكن رقابها
شرح الزرقانی (7/ 264) میں ہے:
«”وقيل: إنما حرمن، لأنه عليه السلام حي في قبره” ويكون حاله عند صاحب ذا القيل كالنائم، وهذا مقابل قوله تكرمة له وخصوصية، لأنه يفيد انقطاع نكاحه بموته، وهذا يفيد أنه لم ينقطع، “ولهذا حكى الماوردي” وجها للشافعية “أنه لا يجب عليهن عدة الوفاة” لحياته ومثله يقال في غيره من الأنبياء على قياسه وذكر الخطابي عن ابن عيينة أنهن في معنى المعتدات، فلهن سكنى البيوت ما عشن، ولا يملكن رقابها»
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (9/ 3860) میں ہے:
(ما تركت) : ما: موصولة مبتدأ، وتركت صلته، والعائد محذوف أي الذي تركته ( «بعد نفقة نسائي ومؤنة عاملي فهو صدقة» ) . والفاء لتضمين المبتدأ معنى الشرط كقولهم: الذي يأتيني فله درهم، وهو ضمير الفصل يفيد التوكيد والتأبيد، وفي شرح السنة: قال سفيان بن عيينة: كان أزواج النبي صلى الله عليه وسلم في معنى المعتدات، إذ كن لا يجوز لهن أن ينكحن أبدا فجرت لهن النفقة. وقوله: (ومؤنة عاملي) أراد بالعامل الخليفة بعده، وكان النبي صلى الله عليه وسلم يأخذ نفقة أهله من الصفايا التي كانت له من أموال بني النضير وفدك، ويصرف الباقي في مصالح المسلمين، ثم وليها أبو بكر ثم عمر كذلك، فلما صارت إلى عثمان استغنى عنها بماله، فأقطعها مروان وغيره من أقاربه، فلم يزل في أيديهم حتى ردها عمر بن عبد العزيز. وقال شارح من علمائنا: يريد بما تركه من أموال الفيء التي كان يتصرف فيها تصرف الملاك، ولم يكن ذلك لغيره. وقوله: بعد نفقة نسائه لأن نفقة نسائه بعده كانت تتعلق بحياة كل واحدة منهن لكونهن محبوسات عن النكاح في الله وفي رسوله، وبقي حكم نكاح النبي – صلى الله عليه وسلم – باقيا مدة بقائهن، فوجب لهن النفقة من مال الفيء وجوب نفقة النساء على أزواجهن.
والحاصل أنه ليس معنى نفقة نسائه إرثهن منه، بل لكونهن محبوسات وممنوعات عن الأزواج بسببه فهن في حكم المعتدات ما دامت حياتهن، وقيل: لا عدة عليهن لأنه – صلى الله عليه وسلم – حي في قبره، وكذلك سائر الأنبياء، فعلى هذا لا إشكال في نفقة النساء. وقال بعضهم: لعظم حقوقهن وقدم هجرتهن وكونهن أمهات المؤمنين، ولذلك اختصصن بمساكنهن ولم يرثها ورثتهن. قال الشارح: وأما نفقة عامله فإنها تتعلق بعامل ذلك، وهو العامل الذي استعمله على مال الفيء فاستحق العمالة بقدر عمله، ولم يكن يأخذها فاستثناها من مال الفيء اه
احكام القرآن لابن العربی (3/ 617) میں ہے:
المسألة السابعة عشرة: هل بقين أزواجا أو زال النكاح بالموت؛ وإذا قلنا: إن حكم النكاح زال بالموت، فهل عليهن عدة أم لا؟ فقيل: عليهن العدة؛ لأنهن زوجات توفي عنهن زوجهن، وهي عبادة.
وقيل: لا عدة عليهن؛ لأنها مدة تربص تنتظر بها الإباحة.وببقاء الزوجية أقول، لقول النبي صلى الله عليه وسلم : «ما تركت بعد نفقة عيالي ومؤنة عاملي صدقة».
وقد ورد في بعض ألفاظ الحديث: «ما تركت بعد نفقة أهلي» وهذا اسم خاص بالزوجية؛ لأنه أبقى عليهن النفقة مدة حياتهن، لكونهن نساءه.وفي بعض الآثار: «كل سبب ونسب ينقطع إلا سببي ونسبي والأول أصح، وعليه المعول
تفسير القرطبی(14/ 229) میں ہے:
«اختلف العلماء في أزواج النبي صلى الله عليه وسلم بعد موته، هل بقين أزواجا أم زال النكاح بالموت، وإذا زال النكاح بالموت فهل عليهن عدة أم لا؟ فقيل: عليهن العدة، لأنه توفي عنهن، والعدة عبادة. وقيل: لا عدة عليهن، لأنها مدة تربص تنتظر بها الإباحة. وهو الصحيح، لقوله عليه السلام: (ما تركت بعد نفقة عيالي) وروي (أهلي) وهذا اسم خاص بالزوجية، فأبقى عليهن النفقة والسكنى مدة حياتهن لكونهن نساءه، وحرمن على غيره، وهذا هو معنى بقاء النكاح. وإنما جعل الموت في حقه عليه السلام لهن بمنزلة المغيب في حق غيره، لكونهن أزواجا له في الآخرة قطعا بخلاف سائرالناس، لأن الرجل لا يعلم كونه مع أهله في دار واحدة، فربما كان أحدهما في الجنة والآخر في النار، فبهذا انقطع السبب في حق الخلق وبقي في حق النبي صلى الله عليه وسلم وقد قال عليه السلام: (زوجاتي في الدنيا هن زوجاتي في الآخرة)
انموذج اللبيب فی خصائل الحبيب للسيوطى ، ت: ۹۱۱ھ (ص: 230) میں ہے:
ولا يجوز للمضطر أكل ميتة نبي، وهو حي في قبره، يصلى فيه بأذان وإقامة وكذلك الأنبياء، ولهذا قيل: لا عدة على أزواجه، وأوكل بقبره ملك يبلغه صلاة المصلين عليه وتعرض عليه أعمال أمته فيستغفر لهم
سیرت المصطفی(3/663) میں ہے:
ظاہری موت کی وجہ سے حضرات انبیاء کرام کا قبروں میں مستور ہو جانا بمنزلہ چلی کشی یا پردہ نشینی یا گوشہ نشینی سمجھا جائے گا۔ اور دلیل اس کی یہ ہے کہ:
1۔ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے اجسام مبارکہ کا حسب سابق صحیح وسالم رہنا اور تغیر ارضی سے بالکلیہ محفوظ رہنا۔
2۔ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے نکاح کا حرام ہونا ۔
3۔ان کے اموال میں میراث کا جاری نہ ہونا۔
امور ثلاثہ میں ہر امر حیات انبیاء پر شاہد عدل ہے اور اس امر کی صریح دلیل ہے کہ ارواح طیبہ کا اجسام مبارکہ سے تعلق منقطع نہیں ہوا، بلکہ موت کے بعد بھی انبیاء کرام کو اپنے ابدان سے اسی قسم کا تعلق ہے جس قسم کا پہلے تھا۔ بخلاف شہداء کے کہ موت سے ان کی ارواح کا ان دنیاوی ابدان سے تعلق منقطع ہو جاتا ہے اوران ابدان کو چھوڑ کر ابدان جنت سے تعلق ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ شہداء کے مال میں میراث جاری ہوئی اور انبیاء کرام میں میرات جاری نہ ہوئی حالانکہ يُوصِيكُمُ اللهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِ الْأَنْثَيَيْنِ سب کو عام ہے عوام ہو یا رسول اللہ۔ نیز شہداء کی ازواج کو بعد عدت معروفہ نکاح کی اجازت ہوئی جو انقطاع حیات پر دال ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کی شان میں یہ حکم آیا وَلا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَدًا جو ابدی طور پر حرمت نکاح ازواج مطہرات پر دال ہے ،معلوم ہوا کہ نکاح منقطع نہیں ہوا جیسا کہ ازواجہ امھاتہم بھی اسی پر دال ہے کہ علاقہ زوجیت حسب سابق قائم ہے کیونکہ ازواجہ جمع زوجہ کی ہے جو صفت مشبہ ہے دوام اور ثبوت پر دال ہے اور والد جسمانی کی منکوحہ سے نکاح کی حرمت کو اس طرح بیان فرمایا: وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاءكُمْ” نکح “فعل ماضی ہے جو حدوث اور تجدد پر دلالت کرتا ہے جس سے منکوحیت کا زوال ہویدا ہے اور جب ازواج مطہرات کا نکاح ہی منقطع نہیں ہوا تو ازواج مطہرات منجملہ و الْمُحْصَنَتُ مِنَ النِّسَاءِ ہو جائیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved