• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بچوں کی پڑھائی کے پیش نظر مزید اولاد سے رُک جانا

استفتاء

ایک شخص کے ہاں تین ، چار بچوں کی پیدائش ہوچکی ہو اور  وہ مزید اولاد کی پیدائش سے اس لیے رُک جائے کہ پہلے سے موجود بچے ابھی چھوٹے ہیں اور  پڑھائی کے معاملہ میں بہت تنگ کرتے ہیں     ان کی پڑھائی بیوی دیکھتی ہے   اور بیوی کا کہنا ہے کہ جسمانی  طور پر بھی  مزید حمل کی میرے اندر سکت نہیں ہے کہ حمل بھی سنبھالوں اور بچوں کو بھی سنبھالوں تو کیا ان کا مزید اولاد سے رک جانے کا یہ فعل درست ہوگا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  عذر کی وجہ سے عارضی  موانع حمل (Contraceptions) استعمال کرسکتے ہیں۔البتہ  حمل روکنے کے لیے کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا جس سے مرد یا عورت میں مستقل طور پر تولیدی صلاحیت ختم ہوجائے جائز نہیں۔اور جب مذکورہ عذر باقی نہ رہے اور مزید کوئی  شرعاً قابلِ قبول عذر نہ ہو تو اس صورت  میں منع حمل مکروہ ہوگا۔

شامی (3/176) میں ہے:

‌ذكر ‌في ‌الكتاب ‌أنه ‌لا ‌يباح بغير إذنها وقالوا في زماننا يباح لسوء الزمان. اهـ.

(قوله قال الكمال) عبارته: وفي الفتاوى إن خاف من الولد السوء في الحرة يسعه العزل بغير رضاها لفساد الزمان، فليعتبر مثله من الأعذار مسقطا لإذنها. اهـ. فقد علم مما في الخانية أن منقول المذهب عدم الإباحة وأن هذا تقييد من مشايخ المذهب لتغير بعض الأحكام بتغير الزمان، وأقره في الفتح وبه جزم القهستاني أيضا حيث قال: وهذا إذا لم يخف على الولد السوء لفساد الزمان وإلا فيجوز بلا إذنها

الفقہ الاسلامی وادلتہ (4/2644) میں ہے:

يجوز ‌استعمال ‌موانع ‌الحمل الحديثة كالحبوب وغيرها لفترة مؤقتة، دون أن يترتب عليه استئصال إمكان الحمل، وصلاحية الإنجاب، قال الزركشي: يجوز استعمال الدواء لمنع الحبل في وقت دون وقت كالعزل، ولايجوز التداوي لمنع الحبل بالكلية. أو ربط عروق المبايض إذا ترتب عليه امتناع الحمل في المستقبل، والعبرة في ذلك لغلبة الظن، أي احتمال مافوق 50%. وكذلك الحكم في تعقيم الرجل.

احسن الفتاویٰ (8/196) میں ہے:

سوال: خاندانی منصوبہ بندی  پر عمل کے کئی طریقے ہیں:

1۔عورت کی بچہ دانی نکال دی جاتی ہے۔

2۔ مرد کا آپریشن  کیا جاتا ہے  جس کے بعد وہ اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں رہتا۔

3۔ادویہ استعمال کروائی جاتی ہیں۔

4۔بوقت جماع پلاسٹک کی تھیلی استعمال کی جاتی ہے۔

دریافت طلب یہ ہے کہ کونسی صورت جائز  اور کونسی ناجائز ہے؟

جواب: منصوبہ بندی قلت رزق کے خوف سے بہر صورت حرام ہے البتہ اگر یہ نظریہ  نہ ہو بلکہ عورت کی صحت یا بچوں کی تربیت  پیش نظر ہو تو پلاسٹک کی تھیلی یا ادویہ کا استعمال جائز ہے ، بچہ دانی نکال دینا یا  مرد کا آپریشن کرکے اسے ہمیشہ کے لیے بے کار کردینا جائز نہیں۔

مريض  ومعالج کے اسلامی احکام، مؤلفہ: حضرت ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحبؒ(ص:308) میں ہے:

خاص خاص ضرورتوں کے تحت شخصی وانفرادی طور  پر کوئی مانع حمل طریقہ اختیار کرنا جائز  ہے مثلاً عورت اتنی کمزور ہے کہ حمل کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتی …………. ان سب اعذار کا خلاصہ یہ ہے کہ شخصی وانفرادی طور پر کسی شخص کو عذر پیش آجائے تو عذر کی حد تک اس طرح کا عمل بلا کراہت جائز ہے بغیر عذر کے یہ عمل مکروہ ہے اسی طرح عذر دور ہوجانے کے بعد بھی اس  پر مداومت مکروہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved