• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

باغ کو کرائے پردینا

استفتاء

میں نے ایک شخص سے کیلے کا باغ کرائے پرلیا ہے جس پر پھل پہلے سے لگا ہوا ہے اس کے ساتھ معاملہ یہ  طے ہواہے کہ میں نے  18 ماہ کے لیے یہ باغ کرائے پر لیا ہے جس کا میں نے مقررہ کرایہ دینا ہے۔ اب 18 ماہ  اس درخت پر جو بھی پھل ابھی موجود ہے یا آئندہ آئے گا اس کا  مالک میں ہوں گا کیامذکورہ معاملہ جائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر چہ مذکورہ  معاملہ کرایہ  کے عنوان سے ہے لیکن اصلاً اس کی حقیقت بیع کی بنتی ہے اور چونکہ علاقے میں اس کا عرف ہے اور عرف سے ہٹنے میں  حرج ہوتا ہے اس لیے اس کی گنجائش ہے۔ اصلاً عقد موجودہ پھل پر ہوگا اور بعد والے پھل موجود کے تابع ہوں گے۔

شامی (7/86) میں ہے:

(ولو برز بعضها دون بعض لا) يصح. (في ظاهر المذهب) وصححه السرخسي ‌وأفتى ‌الحلواني بالجواز لو الخارج أكثر زيلعي

 (قوله: ‌وأفتى ‌الحلواني بالجواز) وزعم أنه مروي عن أصحابنا وكذا حكى عن الإمام الفضلي، وقال: استحسن فيه لتعامل الناس، وفي نزع الناس عن عادتهم حرج قال: في الفتح: وقد رأيت رواية في نحو هذا عن محمد في بيع الورد على الأشجار فإن الورد متلاحق، وجوز البيع في الكل وهو قول مالك. اهـ. قال: الزيلعي وقال: شمس الأئمة السرخسي: والأصح أنه لا يجوز؛ لأن المصير إلى مثل هذه الطريقة عند تحقق الضرورة ولا ضرورة هنا؛ لأنه يمكنه أن يبيع الأصول على ما بينا أو يشتري الموجود ببعض الثمن، ويؤخر العقد في الباقي إلى وقت وجوده أو يشتري الموجود بجميع الثمن: ويبيح له الانتفاع بما يحدث منه، فيحصل مقصودهما بهذا الطريق، فلا ضرورة إلى تجويز العقد في المعدوم مصادما للنص، وهو ما روي «أنه – عليه الصلاة والسلام – نهى عن بيع ما ليس عند الإنسان ورخص في السلم» اهـ.

قلت: لكن لا يخفى تحقق الضرورة في زماننا ولا سيما في مثل دمشق الشام كثيرة الأشجار والثمار فإنه لغلبة الجهل على الناس لا يمكن إلزامهم بالتخلص بأحد الطرق المذكورة، وإن أمكن ذلك بالنسبة إلى بعض أفراد الناس لا يمكن بالنسبة إلى عامتهم وفي نزعهم عن عادتهم حرج كما علمت، ويلزم تحريم أكل الثمار في هذه البلدان إذ لا تباع إلا كذلك، والنبي – صلى الله عليه وسلم – إنما رخص في السلم للضرورة مع أنه بيع المعدوم، فحيث تحققت الضرورة هنا أيضا أمكن إلحاقه بالسلم بطريق الدلالة، فلم يكن مصادما للنص، فلذا جعلوه من الاستحسان؛ لأن القياس عدم الجواز، وظاهر كلام الفتح الميل إلى الجواز ولذا أورد له الرواية عن محمد بل تقدم أن الحلواني رواه عن أصحابنا وما ضاق الأمر إلا اتسع ولا يخفى أن هذا مسوغ للعدول عن ظاهر الرواية كما يعلم من رسالتنا المسماة نشر العرف في بناء بعض الأحكام على العرف فراجعها.

امداد الاحکام (3/96) میں ہے:

سوال: باغ کا غیر پختہ پھل کسی کو قیمت کرکے بیچ دیا جائے اس شرط پر کہ پختہ ہونے تک پانی صاحب باغ دیا کرے گا   باقی پرداخت مشتری کرے گا مدت معروفہ پختہ ہونے تک مہلت ہوتی ہے جائز ہے یا نہیں؟

جواب:فى الدر المختار: (‌وإن ‌شرط ‌تركها على الاشجار فسد) البيع كشرط القطع على البائع.حاوي (وقيل) قائله محمد (لا) يفسد (إذا تناهت) الثمرة للتعارف فكان شرطا يقتضيه العقد وبه يفتى بحر عن الاسرار. الخ وفي ردالمحتار: ‌وأفتى ‌الحلواني بالجواز لو الخارج أكثر بحث طويل . قلت: لكن لا يخفى تحقق الضرورة في زماننا ولا سيما في مثل دمشق الشام كثيرة الأشجار والثمار  الخ ما قال واطال. فى الدر المختار: ولا بيع بشرط الى قوله ولم يجر العرف به الخ وفيه اوجر العرف فيه الى قوله استحسانا للتعامل بلا نكير فى ردالمحتار بعد كلام طويل ومقتضى هذا انه لو حدث عرف فى شرط غير الشرط  فى النعل  او الثوب والقبقاب ان يكون معتبرا اذا لم يؤد الى المنازعة.

ان روایات سے معلوم ہوا کہ فی نفسہٖ تو یہ معاملہ خلاف قاعدہ ہے لیکن اگر کہیں ایسا عرف عام ہوجاوے تو درست ہے اور جو عرف عام نہ ہو تو درست نہیں۔

احسن الفتاویٰ (6/485) میں ہے:

سوال: باغوں کے پھلوں کی بیع کس صورت میں جائز ہے اور کس صورت میں ناجائز؟

جواب: (1)جب تک پھول پھل کی صورت نہ اختیار کرلے اس کی بیع بالاتفاق نا جائز ہے ۔ علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالیٰ نے بروز البعض کے بعد بیع کو ضرورت شدیدہ و ابتلاء عام کی وجہ سے ملحق بالسلم قرار دے کر جا ئز لکھا ہے، ہمارے زمانہ میں قبل البروز ہی بیع  کا عام دستور ہے ، وہی ضرورت شدیدہ و ابتلاء عام یہاں بھی ہے جس کی وجہ سے الحاق بالسلم کیا گیا ، فليتأمل

(2) پھل آنے کے بعد انسان یا حیوان کے لئے قابل انتفاع بھی ہو گیا تو بالاتفاق بیع  جائز ہے۔

(3) حیوان کے لئے بھی قابل انتفاع نہیں ہوا تو اس کی بیع کے جواز میں اختلاف ہے،قول جو از راجح ہے ۔

(4) کچھ پھل ظاہر ہوا اور کچھ ظاہر نہیں ہوا تو اس میں بھی اختلاف ہے جواز راجح  ہے۔

(5)صحت بیع کے بعد بائع نے مشتری کو پھل درخت پر چھوڑنے کی  صراحتاً یا دلالۃًاجازت دیدی تو پھل حلال رہے گا ۔

اس میں یہ شبہ ہو سکتا ہے کہ آجکل پھلوں کے پکنے تک درخت پر چھوڑ نا متعارف سے تو المعروف کالمشروط کے تحت یہ بیع فاسد ہونا چاہیے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ شرط ابقاء کے مفسد عقد ہونے کی علت افضاء الى المنازعہ ہے اور تعامل ابقاء کی صورت میں احتمال منازعہ نہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved